Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 09:47 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

سائنس اور ٹکنالوجی کی صورتحال میں زبردست تبدیلی کئے جانے کی ضرورت

 

نائب صدر کا گروگوبند سنگھ اندرپرستھ یونیورسٹی کے دسویں کنووکیشن سے خطاب
نئی دہلی26مارچ(آئی این ایس انڈیا)نائب صدر جمہوریہ ہندحامد انصاری نے کہا کہ ہمارے اعلیٰ تعلیمی نظام میں ریسرچ کی صلاحیت ہمیشہ سے محدود رہی ہے۔ہندوستانی یونیورسٹیوں میں کمزور ریسرچ کی صلاحیت کے لئے کمتر مالی امداد اور یونیورسٹیوں اور کالجوں سے ملک کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اداروں کو الگ تھلگ کردینے جیسے واقعات ذمہ دار ہیں ۔یہ انتہائی مایوس کن بات ہے کہ ملک کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں بھی زیادہ تر تعلیم پرتوجہ دی جاتی ہے اور ریسرچ اور تحقیقی تعلیم کا دائرہ محدود ہے۔آج یہاں نئی دلی کے گروگوبند سنگھ اندرپرستھ یونیورسٹی کے دسویں کنووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ بہترین ہندوستانی تعلیمی اداروں میں بھی ریسرچ کے تئیں رجحان کی کمی کا پتہ عالمی درجہ بندیوں میں ان کے مقام کو دیکھ کرچلتاہے۔صدر نے کہا کہ ٹائمس ہائر ایجوکیشن رینکنگس یا اکیڈمی رینکنگ آف ورلڈ یونیورسٹیز میں ٹاپ 200 یونیورسٹیوں میں ہندوستان کی کوئی بھی یونیورسٹی شامل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے عالمی نظام میں بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے ہماری سائنس اور ٹکنالوجی کی صورتحال میں زبردست تبدیلی کئے جانے کی ضرورت ہے۔ان جیسے ستونوں پر ایک مسابقتی نالج اکانومی تعمیر کی جانی چاہئے اور وہ ہیں : 1 ۔ ایک ایسا تعلیمی نظام ہو، جو انسانی وسائل تیار کرے اور جو قابل ملازمت ہو۔2۔طویل مدتی استعمال کے لئے معلومات پیداکرنے کی خاطربڑے پیمانے پرسائنس اینڈ ٹکنالوجی کااستعمال کیا جائے۔3 ۔قومی ضروریات اور عالمی مواقع سے متاثر اسٹریٹجک ٹرانسلیشنل ریسرچ ۔نائب صدر نے کہا کہ ان مقاصد کی بارآوری میں ہمیں اپنی ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کی بنیاد کو مضبوط کرنا ہوگا ، ریسرچ کے لئے حوصلہ افزائی کرنی ہوگی، انٹلیکچوول پراپرٹی جنریشن سمیت عالمی پوزیشن کے لئے تعلیمی اداروں کو چیلنج فراہم کرنا ہوگا، نئی اکیڈمیز اور ادارے قائم کرنا ہوں گے اور تحقیق کاروں کی مدد کے لئے زیادہ تر سرکاری امدادیافتہ اور نجی طور پر نظم کردہ سہولتیں پیداکرنا ہوں گی۔یونیورسٹیوں ،ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اداروں ، سائنس اکیڈمیوں اورصنعت کے درمیان رابطوں کو مضبوط کرنے پر زوردیاجانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعدسے ریسرچ اور اس سے متعلق سرگرمیوں میں ہماری سرمایہ کاری سے سائنس اور ٹکنالوجی میں زبردست صلاحیتیں پیدا ہوئی ہیں جو کہ ہمارے نیوکلیائی اور خلائی پروگراموں اوراطلاعاتی ٹکنالوجی ،بایوٹکنالوجی اور نینو ٹکنالوجی کے شعبوں میں نظر آتی ہیں۔یونیورسٹیوں میں فزکس ،کیمسٹری ،بایولوجی ، حساب ،کمپیوٹرسائنس اور سائنس ایجوکیشن میں اعلیٰ معیار کی بنیادی تحقیق جاری ہے۔نائب صدر نے کہا کہ سائنس، ٹکنالوجی اورانوویشن عالمی سطح پر قومی ترقی کے بڑے محرک کے طور پر ابھرے ہیں۔ اب جب کہ ہندوستان تیز رفتار ،پائیدار اور جامع ترقی کی طرف گامزن ہے ، ہمارے ریسرچ اورڈیولپمنٹ نظام کو ان قومی اہداف کے حصول میں ایک اہم رول اداکرنے کی ضرورت ہے۔نائب صدر نے طلباء اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ ان کی حصولیابیاں ان کے ،یونیورسٹی اور قوم کے لئے خوشی اور فخر کاباعث ہیں۔ان کی کامیابی ان کی اپنی سخت محنت اور خلوص کی مرہون منت ہے۔تاہم اسی کے ساتھ ان کی اس کامیابی میں نمایاں رول اداکرنے کے لئے انہیں اپنے والدین اور اساتذہ کا بھی شکر گزار ہونا چاہئے۔انہیں سماج اورملک کے تئیں اپنے قرض کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے اور انہیں ان لاکھوں ہم وطن ساتھیوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے جومحروم ہیں اور جو حاشئے پر پڑے ہوئے ہیں اور جنہیں ہمدردی اور مدد کی ضرورت ہے۔میں ان کی ترغیب کے لئے ٹیگور کے ان چند الفاظ کے ساتھ یہاں سے رخصت ہورہا ہوں :’’میں سوگیا اور خواب دیکھاکہ زندگی خوشی کا نام ہے۔میں بیدارہواتودیکھا کہ زندگی خدمت کا نام ہے۔میں نے عمل کیا اوردیکھا کہ خدمت سے خوشی ملتی ہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment