Today: Wednesday, September, 19, 2018 Last Update: 10:26 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

ڈی ای آرسی پر مکمل طور پر نکیل کسے گی دہلی سرکار

 

اسمبلی میں بجلی کمپنیوں کی منمانی کا اٹھا مدعا*سرکار اور بجلی کمپنیوں میں ٹکراؤ بڑھنے کاامکان*ڈی ای آرسی کے چیئرمین کوایوان میں حاضر ہونے کی تجویز منظور

نثاراحمدخان

نئی دہلی، 25مارچ (ایس ٹی بیورو)دارالحکومت دہلی میں بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں اور حکومت دہلی کے درمیان آنے والے دنوں میں ٹکراؤ بڑھ سکتا ہے۔ کیونکہ سرکار نے اس پر نکیل کسنے کی مکمل تیاری کرلی ہے۔ بدھ کو اسمبلی میں اسپیکر نے اس تجویز کو منظوری دے دی ہے کہ بجلی کی سپلائی کرنے سے متعلق جائزہ نہ لینے کے معاملے میں دہلی الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن (ڈی ای آر سی) کے چیئرمین کو سمن جاری کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی بجلی کی تقسیم میں بے قاعدگیوں کے حوالے سے ڈسکام کو بھی سمن جاری کرنے کی مانگ تسلیم کر لی گئی ہے۔اسمبلی میں آج ضابطہ 280کے تحت مختلف ارکان اسمبلی نے بجلی کمپنیوں کی منمانی کا مدعا زور شور سے اٹھایا اور مطالبہ کیاکہ ڈی ای آرسی کے چیئرمین کو ایوان میں طلب کرکے وضاحت طلب کی جائے۔ اس معاملے پر بی جے پی کے ممبران اسمبلی کے لیڈر وجیندر گپتا نے اس شرط کے ساتھ تجویز کی حمایت کی کہ اگر قانون اور ضابطہ چیئرمین کو بلانے کی اجازت دیتا ہے تو وہ اس کی حمایت کرتے ہیں۔ مابعد اتفاق رائے سے ایوان کے جذبات کو خود سے جوڑتے ہوئے دہلی اسمبلی کے اسپیکر رام نواس گوئل نے رولنگ دی کہ اگلے اسمبلی اجلاس میں ڈی ای آرسی کے چیئرمین کو ایوان میں بلایاجائے گا۔ دہلی میں گزشتہ چار سال میں بجلی کی شرح میں تقریباً 48 فیصد اضافہ ہواہے۔ ڈی ای آر سی کی طرف سے بڑھائی گئی شرح کی ’آپ‘مخالفت کرتی رہی ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ بجلی کمپنیاں اپنی بیلنس شیٹ میں جان بوجھ کر نقصان دکھاتی ہیں جبکہ حقیقت میں ان کو کروڑوں کا فائدہ ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود بجلی کمپنیاں اپنے اکاؤنٹس میں ہیرا پھیری کر کے لوگوں سے زیادہ بل وصول کرتی ہیں۔ اس کیلئے دہلی حکومت نے کمیشن سے گزشتہ کچھ برسوں میں بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا سبب بتانے کو کہا ہے۔ حکومت کے اس قدم سے ایک بار پھر آنے والے دنوں میں بجلی کی شرح کو لے کر ڈی ای آر سی کے ساتھ ٹکراؤ بڑھ سکتا ہے۔ غور طلب ہے کہ کجریوال نے اپنی گذشتہ 49 روز کی حکومت میں بھی بجلی کمپنیوں کے اکاؤنٹس کی سی اے جی سے جانچ کرانے کی ہدایت دی تھی۔ ’آپ‘ لیڈر یہ دعوی کرتے رہے ہیں کہ پی سدھاکر کے ڈی ای آر سی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے دہلی میں بجلی کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔ ظاہر ہے ’آپ‘ ڈی ای آر سی کے چیئرمین پی سدھاکر کے کردار سے مطمئن نہیں ہے، اس لئے ان کو نوٹس بھیجے جانے کی تجویز کو قبول کر لیا گیا ہے۔ وزیر اعلی اروند کجریوال الیکشن سے قبل ہی بجلی کمپنیوں پر سرکاری ملی بھگت سے خسارہ دکھائے جانے کا الزام لگا چکے ہیں۔ اس سے قبل یہ خبر بھی آچکی ہے کہ دہلی سرکار بجلی پر وہائٹ پیپر بھی لانے جا رہی ہے، چنانچہ اب بجلی کمپنیوں اور سرکار میں ٹکراؤ بڑھنے کاخدشہ بڑھ گیا ہے۔ اس سے قبل جتیندر گوئل، اوم پرکاش، جگدیش پردھان، وید پرکاش، آدرش شاستری، وجیندر گپتا، جرنیل سنگھ، شری دت شرما، گلاب سنگھ یادو، اکھلیش ترپاٹھی، سکھبیر دیو، دنیش موہنیا اور نریش بالیان وغیرہ نے اپنے علاقے کے مسائل اٹھائے اور سب نے بجلی کے مسئلے پر تشویش کااظہار کیا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment