Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 05:25 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

آرایس ایس کامشورہ:نتیش سے نزدیکیاں بڑھائے بی جے پی

 

نئی دہلی24مارچ(آئی این ایس انڈیا)بی جے پی اور جے ڈی یو کا 17سال پرانا رشتہ گزشتہ سال لوک سبھا انتخابات کے وقت ٹوٹ گیا۔ویسے دونوں پارٹیوں کے رشتوں میں دراڑ تو اسی وقت آگئی تھی جب نتیش نے این ڈی اے کو وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار اعلان کرنے کی صلاح دی۔اس کے بعد دونوں طرف سے بیان بازی چالو ہو گئی اور جب نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار قرار دے دیا گیا تو اس رشتے کا اختتام ہو گیا۔سمجھا جاتا ہے کہ مودی کے وزیر اعظم بننے کے سبب ہی نتیش نے وزیر اعلیٰ کی کرسی چھوڑی اور جتن رام مانجھی کو وزیر اعلی بنایا جسے دوبارہ حاصل کرنے کے لئے انہیں پوری طاقت جھونک دینی پڑی۔نریندر مودی اور نتیش کمار کی ملاقات 5مئی 2012کو ہوئی تھی۔ایک بار پھر 26مارچ کو دونوں دہلی میں ملنے جا رہے ہیں،تاہم اس سال 26فروری کو بھی لالو یادو کی بیٹی کی شادی میں مودی اور نتیش کی ملاقات ہوئی تھی۔دراصل 26مارچ کو گنگا صفائی کے مسئلے پر وزیر اعظم نے اتراکھنڈ، اتر پردیش، بہار اور مغربی بنگال کے وزرائے اعلی کی میٹنگ بلائی ہے۔ایک سوال کے جواب میں نتیش نے صرف اتنا بتایا کہ میٹنگ کے سلسلے میں وہ دہلی پہنچ رہے ہیں،یعنی وزیر اعظم سے ملاقات کیلئے انہوں نے الگ سے کوئی وقت نہیں مانگا ہے۔دہلی میں پیر کو نتن گڈکری کے گھر سنگھ اور بی جے پی لیڈروں کی ایک میٹنگ ہوئی تھی،اسی اجلاس میں سنگھ نے نتیش سے دوستی کی صلاح دی لیکن آخری فیصلہ بی جے پی پرچھوڑدیا۔نومبرمیں بہار اسمبلی کیلئے انتخابات ہونے ہیں،فی الحال سنگھ کو اسی الیکشن کی فکر ہے،شاید دہلی انتخابات کے نتائج نے سنگھ کی تشویش کچھ زیادہ ہی بڑھا دی ہے،لوک سبھا کے بعد مہاراشٹر، ہریانہ، جھارکھنڈ اور جموں اور کشمیر اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے میدان میں اکیلے اترنے کا فیصلہ کیا۔تین ریاستوں میں بی جے پی نے حکومت بھی بنا لی اور جموں کشمیر حکومت میں حصہ دار بن گیا۔دہلی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی صرف تین سیٹوں پر سمٹ گئی۔دہلی کے حالات اگرچہ باقی ریاستوں سے الگ رہے لیکن مودی لہر بے اثر تو ثابت ہوئی ہی،اب سنگھ آگے خطرہ لینا نہیں چاہتا اور اسی لئے اس نے بہار کی تیاری پہلے سے ہی شروع کر دی ہے۔حال ہی میں سنگھ نے بی جے پی کو بہار کے علاوہ مغربی بنگال اور اترپردیش کے بارے میں بھی آگاہ کیا تھا۔سنگھ کے سروے میں پتہ چلا کہ یوپی میں بھی حالات بی جے پی کے موافق نہیں ہیں، بلکہ بی ایس پی وہاں بہتر پوزیشن میں ہے۔بہار میں وزیر اعلی جتن رام مانجھی کے اعتماد ووٹ کے دوران بی جے پی نے حمایت دینے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔مانجھی نے ایوان میں جانے سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا یہ الگ بات ہے۔فی الحال بہار میں نتیش کی پارٹی جے ڈی یو کے ساتھ کانگریس اور آر جے ڈی سے ہاتھ ملائے ہوئے ہے لیکن پتہ چلا ہے کہ ایک بار پھر لالو اور نتیش کے درمیان سب کچھ اتنا اچھا نہیں چل رہا ہے،اس میں مانجھی فیکٹر کا بھی کردار بتایا جا رہا ہے کچھ دن پہلے آر جے ڈی کے ایک لیڈر نے نتیش کو مشورہ دیا تھا کہ انہیں مانجھی کو نائب وزیر اعلی ٰبنا دینا چاہئے، تو دوسرے نے مانجھی کو پارٹی میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی تھی،کم سے کم ایک معاملے میں تو لالو کی خاموشی کو ان کی منشا ہی سمجھا گیا،ظاہر ہے یہ سب نتیش کو قطعی اچھا نہیں لگا ہوگا۔نتیش کے پھر سے کرسی سنبھال لینے کے بعد سنگھ کو لگ رہا ہے کہ بی جے پی کے لئے انتخابی راہ تھوڑی مشکل ہو رہی ہے،اسی لئے سنگھ چاہتا ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی جے ڈی یو کے ساتھ اتحاد کر لے اور مل کر کانگریس اور آر جے ڈی کا مقابلہ کرے۔نتیش نے بھی مودی کے خلاف اپنے تیور تھوڑے نرم کر لئے ہیں۔ نتیش نے کہا تھا کہ بہار کے لئے وہ کچھ بھی کرنے کوتیارہیں۔سیاست میں بیان کچھ اور دیئے جاتے ہیں اور فیصلے کچھ اور ہوتے ہیں،شاید اسی لئے نتیش کے انکار میں بھی اقرارکے اشارے دیکھے جا رہے ہیں۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment