Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 10:49 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

مہاراشٹر میں گؤکشی بل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ


ممبئی ،24مارچ (یو این آئی )مہاراشٹر کی بی جے پی حکومت کی جانب سے بڑے جانور کے ذبیحہ پر پابندی عائد کرنے والے گؤ کشی بل کے نفاذ کے خلاف آج یہاں آل انڈیا جمیعتہ القریش ، سرواسارمک سنگھ سمیت بڑے جانوروں کے گوشت کی تجارت سے وابستہ مختلف تنظیموں اور کئی ملی تنظیموں کی جانب سے ممبئی کے تاریخی آزاد میدان میں زبردست احتجاج کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ ریاستی حکومت گؤ کشی بل کو فوری طور پر واپس لے اور بڑے جانور کی ذبیحہ پر عائد پابندی کو ختم کرے ۔ اس احتجاجی جلسہ میں مسلم اراکین اسمبلی سابق وزیر و سینئر کانگریس رکن اسمبلی محمد عارف نسیم خان ، ابو عاصم اعظمی ، آصف شیخ ، امین پٹیل ، سابق اراکین اسمبلی یوسف ابراہانی ، نرسئیا ایڈم اور دیگر نے بھی شرکت کی اور مطالبہ کیا کہ اگر اس قانون کو فوری طور پر ختم نہیں کیا گیا تو ریاست بھر میں جمہوری طریقہ سے احتجاج کیا جائے گا ۔ آزاد میدان میں منعقدہ اس احتجاجی جلسہ میں ہزاروں کی تعداد میں افراد جو ریاست کے مختلف اضلاع سے چلچلاتی دھوپ میں حکومت کے خلاف نعرہ لگایا اور اس قانون کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ۔نسیم خان نے اس موقع پر کہا کہ ریاستی حکومت نے فرقہ پرستی کی بنیاد پر گؤ کشی بل لا کر ایک مخصوص طبقہ کی یہ کہہ کر خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے کہ بی جے پی حکومت نے مہاراشٹر میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مہاراشٹر سمیت ملک کی بیشتر ریاستوں میں گائے کا ذبیحہ نہیں کیا جاتا ہے بلکہ بیل اور دیگر جانوروں کا ذبیحہ کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی صرف اس پیشہ سے وابستہ افراد کی نہیں ہے بلکہ یہ لڑائی جمہوری ہندستان کے ہر اس شہری کی ہے جو آئین ہند اور جمہوریت پر اعتماد رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کالا قانون شیوسینا بی جے پی کی سرکار نے 1996میں بنایا تھا لیکن اسے کانگریس سرکار نے نہ صرف مہاراشٹر بلکہ صدر جمہوریہ کے پاس بھی روکے رکھا تھا لیکن جیسے ہی فرقہ پرستوں کی سرکار آئی یک بعد دیگر آر ایس ایس کے ایجنڈے کو لاگو کر رہی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی و ریاستی بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے ہکا کہ جب سے اچھے دن والوں کی سرکار آئی ہے چاہے وہ دہلی ہو یا مہاراشٹر یہاں پر اس نے فرقہ پرستی کی بنیاد پر اور لوگوں کے جذبات سے کھیل کر ایسے فیصلے کیئے ہیں جس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ یہ حکومت عوام کی نہیں ہے بلکہ ایک مخصوص طبقہ کی حکومت ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ گائے کی قربانی یا اس کے ذبیحہ کی اسلام میں اجازت ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اسلام یہ بھی درس دیتا ہے کہ ان کے کسی مسلمان کے افعال سے کسی دوسرے شخص کی دل شکنی نہیں ہو یہی وجہ ہے کہ برادران وطن کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے ملک کا مسلمان گائے کی قربانی نہیں کرتا ہے ۔سماجی وادی پارٹی کے ریاستی سربراہ و رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے یہ سیاہ قانون تو نافذ کر دیا ہے لیکن اس سے پہلے اس نے اس پیشہ سے وابستہ افرادکی بازآبادکاری کیلے کوئی لائحہ عمل نہیں تیار کیا ہے نہ ہی اسے کھانے والوں کی کوئی رائے طلب کی تھی مل۔ابو عاصم اعظمی نے مزید کہا کہ گائے کا ذبیحہ ابھی نہیں بند ہے یہ سالوں سال سے بند ہے مغل بادشاہوں نے گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کر رکھی تھی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب اس زمانے میں گائے کا ذبیحہ نہیں کیا جاتا تھا تو اب کیسے شروع ہو سکتا ہے مسلمان ہر مذہب کا احترام کرتا ہے۔
اور جب ہندو گائے کا ذبیحہ کرنا نہیں پسند کرتا تو مسلمان احتراما اس طرح کے قدم سے دور رہتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے مسلمان ہی متاثر نہیں ہو رہا ہے ہزاروں اور لاکھوں غیر مسلم بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں آج چمڑے کا کاروبار ٹھپ پڑا ہوا ہے دوائیوں میں جو ہڈیاں لگتی ہیں انہیں کافی پریشانی کرنی پڑ رہی ہے ۔ابو عاصم اعظمی نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت نے یہ فیصلہ فرقہ پرستی کی بنیاد پر لیا ہے اوراس نے اب تک جو بھی فیصلے کیئے ہیں وہ سبھی فیصلے عوام مخالف ہیں اور آر ایس ایس کے اشارہ پر لیئے گئے فیصلے ہیں ۔سماجوادی لیڈر نے مزید کہا کہ حکومت اگر لوگوں کو کچھ دے نہیں سکتی تو اس کے منہ کا لقمہ چھیننے کا بھی اسے حق نہیں ہے نیز حکومت کے اس فیصلے سے سماج کا ہر طبقہ متاثر ہو رہا ہے لہذا حکومت نہ صرف اپنے اس فیصلے کو واپس لے بلکہ وہ عوام سے معافی بھی مانگے ۔کانگریس رکن اسمبلی امین پٹیل نے کہا کہ حکومت کے اس فیصلے سے ہر سیکولر شخص کا سر شرم سے جھک گیا ہے اور ہندستان صوفی سنتوں کی سر زمین ہے یہاں تمام مذاہب کے افراد مل جل کر رہتے ہیں نیز بی جے پی اور فرقہ پرست تنظیمیں چند ایسے فیصلے کر رہی ہے جس سے دو طبقات کے درمیان خوشگر تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے ۔مالیگاوں سے تشریف لاے رکن اسمبلی آصف شیخ نے بھی گؤ کشی بل کی سخحت لفظوں میں مخالفت کی اور اسے زعفرانی ایجنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس کی اندر اور باہر دونوں جگہ مخالفت کریں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون زیادہدنوں تک ٹک نہیں پائے گا کیونکہ اس سے کسان ، چمڑا صنعت و دیگر متاثر ہوں گے اس لیے حکومت کو اس قانون کو خود ہی ختم کرنا ہو گا ۔شولاپور سے تشریف لائے نامور مزدور رہنما و سابق رکن اسمبلی نریا اڈم نے ببھی جذباتی انداز میں اس قانون کی مخالفت کی اور کہا کہ صرف مسلمان ہی بڑے کا گوشت نہیں کھاتا ہے بلکہ غریب اور ہندووں کی ایک بڑی تعداد بھی بڑے کا گوشت کھاتی ہے لہذا بڑے کے گوشت کو مسلمانوں سے منسوب کرنا ایک غلط بات ہے ۔اور اس پابندی سے لاکھوں افراد کا روزگار چھن گیا ہے ۔جلسہ عام سے سابق رکن اسمبلی ایڈوکٹ یوسف ابراہانی ، جمیعتہ العلم�أ کے ریاستی صدر مولانا مستقیم احسن اعظمی ، ایڈوکیٹ مجید قریشی ، سلیم الوارے ، ایم اے خالد ، فیروز میٹھی بور والا،رضوان قریشی اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment