Today: Monday, November, 19, 2018 Last Update: 11:03 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

گوپی چند نارنگ کی علمی و ادبی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا:انیس اشفاق


ہندی اردو ساہتیہ ایوارڈ کمیٹی کی 26ویں سہ روزہ ادبی تقریبات میں محققین کا اظہار خیال
لکھنو، 24 مارچ (یو این آئی) بنجر زمین سے پانی نکالنے کا ہنر جاننے والے گوپی چند نارنگ ایک ادیب ،محقق اور نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ ہندستان کی قدیم مشترکہ تہذیب کے ایسے محافظ بھی ہیں جنھوں نے معنویت کی تہوں کو جدید روشنی عطا کی ہے ۔ پروفیسر نارنگ جیسی شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے ۔یہاں ان خیالات کا اظہار پاکستان کے ممتاز نقاد اصغر ندیم اور معروف شاعرہ و ادیبہ کشور ناہید نے کیا۔اس موقع موقع ہندی اردو ساہتیہ ایوارڈ کمیٹی کے 26ویں سہ روزہ ادبی تقریبات کے تحت مقامی شنکر پرساد ہال (نزد قیصر باغ بارہ دری) میں نامور نقاد اور دانشور ‘پروفیسر گوپی چند نارنگ فن اور شخصیت’ کے عنوان سے ایک بین الاقوامی سمینار کا تھا جس کی صدارت پاکستان سے کی معروف شاعرہ و ادیبہ کشور ناہید نے کی۔ پروفیسر انیس اشفاق نے کہا کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ کے افکار و نظریات سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن ان کے قلم سے جو رشحات سپرد قرطاس ہوئے ہیں ان کی علمی و ادبی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتاکیونکہ جس زمانے میں جدیدیت کو محکم ستون سمجھا جا رہا تھا، اس وقت پروفیسر نارنگ نے اپنے علمی، منطقی اور اپنی دانش و ذکاوت سے نئی بحث کا آغاز کیا اور اردو میں ما بعد جدیدیت سے متعارف کرایا۔ انھوں نے کہا کہ 70 سے زیادہ کتابوں کے مصنف کی کتابیں ادبی دنیا میں سب سے زیادہ موضوع گفتگو رہی ہیں اورساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات جہاں پر ختم ہوتی ہیں اس سے آگے کا سفر پروفیسر نارنگ کی غالب پر تازہ ترین کتاب سے شروع ہوتا ہے ۔ چندر بھان خیال نے اس موقع پر پروفیسر نارنگ کو منظوم خراج تحسین پیش کیاجبکہ ماہنامہ ‘تحریر نو’ (ممبئی) کے مدیر ظہیر انصاری نے اپنے مقالے میں کہا کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ ادب میں روایت سے بھی وابستگی رکھتے ہیں اور نئے امکانات کی تلاش میں بھی ہمیشہ رہتے ہیں۔ ساہتیہ اکیڈمی کے پروگرام آفیسر ڈاکٹر مشتاق صدف نے کہا کہ پروفیسر نارنگ کے پاس اگر کچھ ہے تو اردو ہے ۔ ان کے گھر میں، ان کے بچوں میں، ان کی تہذیب میں اور ان کی فکر میں اردو ہی اردو ہے ۔ انھوں نے پروفیسر نارنگ کی تازہ کتاب غالب پر مقالہ پیش کیا۔ ڈاکٹر وسیم بیگم نے اپنے مختصر مقالہ ‘گوپی چند نارنگ بحیثیت محقق’ میں پروفیسر نارنگ کی مثنویوں پر تحقیق کو موضوع گفتگو بنایا ۔ پروفیسر شارب ردولوی نے کہا کہ نارنگ کی تازہ ترین کتاب غالب فہمی میں ایک نیا باب تو ہے ہی بلکہ شعر فہمی کی نئی جہات کو بھی روشن کرتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ بات مدلل مداحی کی نہیں بلکہ مدلل تنقید کی ہے ۔ گوپی چند نارنگ نے اس کتاب کا تخم اسی وقت رکھ دیا تھا جب وہ اسلوبیات اور ساختیات پر کام کر رہے تھے ۔ اصغر ندیم سید نے کہا کہ گوپی چند نارنگ بنجر زمین سے پانی نکالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ وہ ایک ادیب محقق اور نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی قدیم مشترکہ تہذیب کے بھی محافظ ہیں۔ انھوں نے معنویت کی تہوں کو جدید روشنی عطا کی ہے ۔ کشور ناہید نے پروفیسر نارنگ کے بارے میں کہا کہ لوگ پبلشر کو ڈھونڈھتے ہیں لیکن پروفیسر نارنگ کو پبلشر ڈھونڈھتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ پروفیسر نارنگ جیسی شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے ۔روزنامہ صحافت کے شاہ نواز قریشی ‘اصناف ادب’ کے مدیر ڈاکٹر حسن رضا ، پروفیسر مولیٰ بخش ،عنبر بہرائچی ، انیس انصاری نے بھی اظہار خیال کیا۔آخر میں پروفیسر انیس اشفاق نے تمام مندوبین کا شکریہ ادا کیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر رضا حیدر نے انجام دیے ۔

...


Advertisment

Advertisment