Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 04:54 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

نئی نسل کو سائنسی میراث سے منسلک کرنا انجمن فروغِ سائنس کا اصل مقصد :ڈکٹر اسلم پرویز


جو قوم سائنس کی قدر کرتی ہے ،ترقی اس کی قدم چومتی ہے:ڈاکٹر عبدالمعز شمس *معلوماتی ادب کو اردو نصاب کا حصہ بنایا جائے اور اردو میڈیم طلبہ کے لیے سائنسی تعلیم کا بہتر اہتمام کیا جائے :ڈاکٹر ریحان انصاری
امیر احمد راجہ
نئی دہلی،21،مارچ(ایس ٹی بیورو)ذاکر حسین دہلی کالج میں انجمن فروغ سائنس (انفروس) نئی دہلی کے زیرِ اہتمام" قومی" اردو سائنس کانگریس ‘‘کے زیر عنوان چلنے والا دو روزہ سمینار دوسرے روز کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔دوسرے روز چوتھے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے کی ۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ انجمن فروغِ سائنس کا مقصد نئی نسل کو سائنسی میراث سے منسلک کرنا ہے۔ انھوں نے نئی صدی کو ’’تکمیلِ علم صدی ‘‘ بنانے کا عہد نامہ پیش کیا۔پروفیسر ایس ایم آر انصاری نے اپنا مقالہ بعنوان’اسلام اور سائنس‘ پیش کیا۔ انھوں نے اپنے خطبے میں کہا کہ اسلامی دور میں سائنس کی تابناک وراثت موجود ہے۔انھوں نے ہندوستانی تناظر میں دلی سلطنت، بہمنی سلطنت اور مغل سلطنت میں سائنسی ایجادات و خدمات پر تفصیلی گفتگو کی۔انھوں نے مزید کہا کہ آج یورپ دنیائے سائنس میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے جبکہ مشرقی ممالک اپنی تابناک تاریخ کے باوجودآج بہت پیچھے ہیں۔سید سکندر علی نے اپنا مقالہ بعنوان’مذہب اور سائنس کے باہمی رشتے ‘پیش کیا ۔ جس میں انھوں نے کہا کہ سائنس اور مذہب میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ سائنس مشرقی رصدگاہوں(Observatories)سے نکل کر مغربی لیبریٹریز میں پہنچ گئی ہے۔پروفیسر ظفر احسن نے قرآن، کریم کے ذریعے سائنسی نظریے کو سمجھنے اور ثابت کرنے کی کامیاب کوشش کی۔پروفیسر راشد حیات نے اپنا مقالہ بعنوان ’مدارس میں ریاضی اور سائنس کی تدریس‘ پیش کیا۔انھوں نے اپنے مقالے میں کہا کہ آج تعلیمی پروگرام صاحبِ اقتدار سیاسی پارٹی کے ایجنڈے کا شکار ہیں۔انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مدارس میں سائنس اور ریاضی کی سند یافتہ اساتذہ بہت کمی ہے۔ڈاکٹر عبدالمعز شمس نے اپنا مقالہ بعنوان ’مدارس اور عصرِ حاضر کے تقاضے‘ پیش کیا۔انھوں نے کہا کہ جو قوم سائنس کی قدر کرتی ہے ،ترقی اس کی قدم چومتی ہے۔لہذا مدارس کو چاہیے کہ وہ ایسے طلبہ پیدا کریں جن میں دینی علوم کے ساتھ سائنسی شعور و فکر پیدا ہو سکے۔ ڈاکٹر جعفر احراری نے اپنا مقالہ بعنوان ’مدارس کے نصاب میں علومِ عقلیہ اور سائنس کی تدریس‘ پیش کیا۔اس اجلاس میں اسلامی دورِاقتدار میں سائنسی ایجادات پر مبنی ایک مختصر دستاویزی فلم بعنوان "Muslim Heritage in our world" دکھائی گئی۔ پانچواں اجلاس کی صدارت ڈاکٹر عابد معز صاحب نے کی۔اس اجلاس میں ڈاکٹر شمس الاسلام فاروقی ، ڈاکٹر ریحان انصاری ، اسد فیصل فاروقی ، ڈاکٹر اظہر ماجد اور ڈاکٹر فیروز دہلوی نے اردو میں عام فہم سائنسی ادب کے موضوع پر اپنے مقالے پیش کیے۔داکٹر فیروز دہلوی نے اپنا مقالہ اظہار اثر کے سائنسی مضامین پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے اپنے مقالے میں یہ کہا کہ اظہار اثر ایک ایسے ادیب ہیں جنھوں نے اردو زبان میں سائنس کے پیچیدہ نظریات کو انتہائی سہل پسندی کے ساتھ پیش کیا ہے۔اختتامی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر شمس الاسلام فاروقی نے کی اور ڈاکٹر ریحان انصاری نے قرارداد پیش کی۔ جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ معلوماتی ادب کو اردو نصاب کا حصہ بنایا جائے اور اردو میڈیم طلبہ کو سائنس کی تعلیم مکمل منصوبہ بندی اور جدید ترین لوازمات کے ساتھ دی جائے۔ آخر میں ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے اظہارِتشکر کیا۔یہ دو روزہ کانفرنس اپنے بنیادی مقصد میں کافی حد تک کامیاب رہی۔ سائنسی تدریس و تحریر کا معیار بلند کرنے کی فکر میں کوشاں افراد شمالی ہند ، جنوبی ہند، وسطی ہند اور مغربی ہند سے تشریف لائے تھے ۔ ان میں سائنسدان ،پروفیسر، ڈاکٹر اور اساتذہ کے ساتھ دانشور حضرات نے شرکت کی۔ مقالات اور پاور پوائنٹ کے ذریعے اپنے تجربات اور مشاہدات پیش موثرانداز میں کیے۔اس موقعے پر عبدالعزیز صاحب، ڈاکٹر ممتاز فاخرہ، داکٹر خالد علوی، ڈاکٹر شاہ عالم ، ڈاکٹر احمد خان، داکٹر اعلم شمس، بھانو پرتاپ،ڈاکٹرایوب خان، ڈاکٹر محمد عارف، محمد نقی، داکٹر جمیل الرحمن، ڈاکٹر جمشید خان، ڈاکٹر سلیم، ڈاکٹرقاسم، ڈاکٹرعبداللہ کے علاوہ بڑی تعداد میں اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی اور ڈاکٹر اسلم پرویز کی کو ششوں اور کا وشوں کی سرا ہنا کی گئی۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment