Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 05:21 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

طاقت کے بل پر امدادی اشیا کا حصول، کمزور بھوکے پیٹ رہنے پر مجبور

 

حیدرآباد16اکتوبر(یو این آئی) طاقتور لوگ امدادی اشیا زبردستی طور پر حاصل کرنے میں کامیاب ہیں تو کمزور اور لاچار بھوکے رہنے پر مجبور ہیں ۔ طوفان سے متاثرہ آندھراپردیش کے شمالی ساحلی اضلاع کے عوام کی یہ صورتحال ہے ۔ راحت کا سامان جب آتا ہے تو طاقتور بازی مار لے جاتا ہے اور کمزور دیکھتا رہ جاتا ہے ۔ لوگ راحت پہنچانے والی گاڑیوں کے پیچھے دوڑتے نظر آتے ہیں۔راحت کی اشیاء حاصل کرنے عوام ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور امدادی اشیا لوٹ لی جارہی ہیں ۔ کئی مقامات پر جھگڑے بھی ہورہے ہیں ۔ عوام نے شکایت کی ہے کہ راحت کا سامان مناسب طور پر تقسیم نہیں ہورہا ہے ۔ غریب دس روپئے کی شئے کیلئے اپنی جان داؤ پر لگا رہا ہے ۔آندھراپردیش کے شمالی ساحلی اضلاع میں اگرچہ کہ عوام کو قدرتی آفت کی شکل میں ہد ہد طوفان سے راحت ضرور ملی ہے مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی مصیبت کی گھڑی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔ طوفان ہد ہد نے بڑے پیمانہ پر تباہی کے نقوش چھوڑے ہیں۔ اگرچہ کہ طوفان ختم ہوکر تین دن ہوگئے ہیں مگر صورتحال ایسا لگ رہا ہے کہ جوں کی توں ہے ۔ امدادی اشیا لوٹی جارہی ہیں ۔ کئی مقامات پر امدادی اشیا حاصل کرنے کیلئے جھگڑے ہورہے ہیں۔ عوام نہ صرف ضروری اشیا سے محروم ہیں بلکہ مصیبت میں بھی مبتلا ہیں ۔ امدادی کام غیر منصوبہ بند طریقے سے ہونے کے سبب ہزاروں کنبے پریشان کن لمحات گزار رہے ہیں ۔ ان کی مصیبت میں کمی کے کوئی آثار نہیں ہے ۔ عوام کو پینے کیلئے محفوظ پانی دستیاب نہیں ہے ۔ عوام نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے حکمرانوں پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ طوفان کے تھمنے کے باوجود حکومت ان کو راحت پہونچانے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ ضروری اشیا یا تو دستیاب نہیں ہیں یا اگر دستیاب بھی ہو تو مہنگے داموں پر مل رہی ہے ۔ بجلی بھی کئی مقامات پر ابھی تک بحال نہیں ہو پائی ہے ۔ہد ہد طوفان سے بری طرح متاثرہ نوجوان وشاکھا پٹنم شہر کو صاف بنانے کی مہم پر نکل پڑے ہیں ۔ آج وشاکھا پٹنم کے نوجوانوں نے صفائی مہم کی شروعات کر دی۔ نوجوانوں نے جن کا تعلق کسی بھی پارٹی یا رضا کارانہ تنظیم سے نہیں ہے نے اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ اس مہم کی شروعات پر مقامی عوام میں زبردست ردعمل دیکھا گیا ۔ کئی سڑکوں سے رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے آمد و رفت بحال کی گئی ۔ اسی دوران آندھراپریش قانون ساز اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما وائی ایس جگن موہن ریڈی نے طوفان سے متاثرہ وشاکھاپٹنم کا تیسرے دن بھی دورہ کیا۔انہوں نے وشاکھاپٹنم کے تاٹی چیتلا پلم پہنچ کر طوفان متاثرین سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کی۔انہوں نے طوفان سے متاثرہ مکانات کا بھی معائنہ کیا۔جگن نے اپنی پارٹی کے کیڈر کو ہدایت دی ہے کہ وہ طوفان متاثرین کی راحت اور امداد کے کاموں میں سرگرم طور پر حصہ لیں۔دریں اثنا آندھراپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر رگھو ویرا ریڈی نے الزام لگایا ہے کہ ریاستی حکومت طوفان متاثرین کو راحت پہنچانے میں ناکام رہی ۔ انہوں نے وشاکھا پٹنم کو صاف شہر بنانے کیلئے شرم دان پروگرام کی شروعات کی اور سڑکوں کی صفائی میں حصہ لیا۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت طوفان سے متاثرہ شمالی ساحلی آندھرا میں متاثرین کی امداد کیلئے بلند دعوے کررہی ہے لیکن عملی طور پر راحت اور بازآبادکاری کیلئے کام نہیں کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ضروری اشیا بھی نہیں مل پارہی ہے ۔ حکومت صرف باتیں کررہی ہیں کام نہیں کررہی ہے ۔ ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ سے عوام کافی پریشان ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ حکومت عوام کو صاف پینے کا پانی بھی سپلائی کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔اطلاعات کے مطابق بجلی کی بھی سپلائی نہیں ہو پائی ہے اور دودھ کی قیمتیں کافی زیادہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آدھا لیٹر دودھ کی پاکٹ (40) روپئے میں فروخت کی جارہی ہے ۔ اسی دوران اس بات کا پتہ چلا کہ وشاکھاپٹنم ایرپورٹ جسے طوفان کے سبب نقصان ہوا تھا جمعہ سے دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔اس ایرپورٹ سے جمعہ کی دوپہر ایر انڈیا کا طیارہ حیدرآباد کے لیے روانہ ہوگا۔اس طوفان کے سبب اس ایرپورٹ کی چھت کو بری طرح نقصان ہواتھااور تمام کمپیوٹرس بھی غیر کارکرد ہوگئے تھے جن کو درست کرنے کا کام جاری ہے اور توقع ہے کہ کل تک ایر پورٹ کے تمام کمپیوٹرس درست ہوجائیں گے۔

...


Advertisment

Advertisment