Today: Thursday, November, 15, 2018 Last Update: 04:05 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

وارانسی میں نویں دن بھی وکیلوں کا بائیکاٹ جاری

 

وارانسی 20مارچ (یو این آئی) اترپردیش کے وارانسی کی ضلع عدالت میں آج نویں دن بھی زیادہ تر وکلاء نے عدالتی کام کاج کا بائیکاٹ کیا جس سے مختلف مقدموں سے جڑے ہزاروں لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔گزشتہ 12 مارچ سے زیادہ تر وکیل عدالتی کام کاج کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔وارانسی ضلع کے وکلاء کی اہم تنظیم دی سنٹرل بار ایسوسی ایشن کے صدر سي پي سنگھ نے آج پھر خبردار کیا ہے کہ جب تک وکلاء کے خلاف درج مقدمے واپس نہیں لیے جاتے تب تک ان کی تحریک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج وکلاء کی میٹنگ ہوگی جس میں آگے کی تحریک کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔گزشتہ 11 مارچ کو الہ آباد ضلع عدالت کے احاطے میں وہاں کے وکیل نبی احمد کی گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد وکلاء نے وارانسی ضلع عدالت کے احاطے میں مظاہرہ کیا تھا۔ اسی دوران سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ کے دفتر کے علاوہ کئی سرکاری گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ پولیس نے اس معاملے میں 200 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور اب سی سی ٹی وی فوٹیج کے سہارے توڑ پھوڑ کرنے والوں کی شناخت کر کے پولیس آگے کی قانونی کارروائی کرنے کی تیاری میں ہے ۔ پولیس کے اس قدم کو وکیل کمیونٹی بہت سے تحریک چلانے والے وکلاء کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی کارروائی کے طور پر دیکھ رہی ہے ۔ایسوسی ایشن کے صدر جناب سنگھ نے بتایا وکلاء کا وفد وارانسی کے ڈویژنل کمشنر، آئی جی، ضلع مجسٹریٹ اور سینئر پولیس اہلکار سے علاحدہ علاحدہ ملاقات کرکے تحریک چلانے والے وکلاء کا موقف ان کے سامنے رکھ چکے ہیں، لیکن ان کے رخ سے وکیل مطمئن نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے وہ عدالتی کام کاج کے بائیکاٹ کے اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پولیس انتظامیہ غیر مشروط طور پرمقدمہ واپس لے لے ۔ادھر، پولیس ترجمان نے کہا کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کی جا رہی ہے ۔ایک بزرگ وکیل نے بتایا کہ پولیس اور وکلاء کے درمیان جاری تعطل کے پیش نظر عدالت کے احاطے میں دوبارہ تشدد ہونے کا خدشہ رہتا ہے کیونکہ نہ تو پولیس انتظامیہ جھکنے کو تیار ہے نہ ہی وکیل۔

...


Advertisment

Advertisment