Today: Thursday, November, 15, 2018 Last Update: 02:52 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

گجرات فسادات اور بابری مسجد کے انہدام پر جموں وکشمیر کی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی


جموں،19 مارچ (یو ا ین آئی) جموں وکشمیر کی اسمبلی میں جمعرات کو اُس وقت شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھنے کو ملے جب نیشنل کانفرنس ممبر اسمبلی آغا سید روح اللہ نے اپنی تقریر میں گجرات فسادات اور بابری مسجد کے انہدام کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ گورنر کے خطاب پر ہورہی بحث میں حصہ لیتے ہوئے این سی ایم ایل اے نے بی جے پی کو اپنا اتحادی بنانے پر پی ڈی پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ کسی بھی صورت میں ریاست کے مفاد میں نہیں تھا۔ مسٹر روح اللہ نے کہا کہ ہم نے فرقہ پرست ایجنڈے رکھنے والی بی جے پی جماعت کو دور رکھنے کیلئے پی ڈی پی کو غیر مشروط حمایت دینے کی پیشکش کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ریاست خاص طور پر وادی کشمیر کے عوام پی ڈی پی کو بی جے پی کے ساتھ جانے پر کبھی معاف نہیں کرے گی۔ جوں ہی این سی ممبر اسمبلی نے گجرات فسادات اور بابری مسجد کے انہدام کیلئے وزیر اعظم مسٹر مودی اور بی جے پی لیڈر شپ کو ذمہ دار ٹھہرایاتو بی جے پی کے تمام ممبران اسمبلی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور اعتراض کرنے لگے ۔بی جے پی ایم ایل اے کویندر رینا نے کہا کہ ‘‘ممبر کو اپنے الفاظ واپس لینے چاہئے ۔ ہمیں ایسے ریمارکس کسی بھی قیمت پر قابل قبول نہیں۔’’بی جے پی کے وزیر مملکت پون گپتا بھی اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور مسٹر روح اللہ کے ریمارکس کی مذمت کرنے لگے ۔ اس دوران کانگریس ایم ایل اے جی ایم سروری نے اسمبلی کے اسپیکر سے اپیل کی کہ ایک وزیر اسپیکر سے اجازت طلب کئے بغیراحتجاج نہیں کرسکتا ہے ۔ تاہم بی جے پی ممبران نے مسٹر روح اللہ کے ریمارکس کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھا۔بعد میں اسمبلی کمپلیکس کے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے بی جے پی ممبر اسمبلی رینا نے کہا کہ کسی کو ملک کے وزیر اعظم کے خلاف ایسے توہین آمیز الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسپیکر سے اُن کی چیمبر میں ملے اور اُن سے گذارش کی کہ وزیر اعظم سے متعلق این سی ممبر اسمبلی کا بیان حذب کیا جائے اور انہوں نے ہماری گذارش قبول کی۔دریں اثنا نیشنل کانفرنس ممبران اسمبلی نے دوبارہ ملازمت کررہے ملازمین کی ملازمتیں ختم کرنے کے حکومتی احکامات کے خلاف اسمبلی سے واک آوٹ کیا۔ یہ مسئلہ اسمبلی میں این سی ممبر اسمبلی نگروٹہ دیویندر سنگھ رانا نے وقفہ سوالات کے دوران اٹھایا۔مسٹر رانا نے کہا کہ حکومت نے ملازمین کے ساتھ انصاف سے کام نہیں ملا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکم نامے کو فوری طور پر واپس لے لیا جائے ۔ مسٹر رانا کو پارٹی کے دیگر ممبران کی بھی حمایت حاصل ہوئی جس کے بعد انہوں نے احتجاجاًاسمبلی سے واک آوٹ کیا۔قابل ذکر ہے کہ 17 مارچ کو مفتی محمد سعید کی قیادت والی پی ڈی پی ۔ بی جے پی مخلوط حکومت نے متعدد سرکاری محکموں میں ریٹائرمنٹ کے بعد تعینات کئے گئے ملازمین کی ملازمتوں کو فی الفور منسوخ کرنے کے احکامات صادر کئے ۔سرکاری ترجمان کے مطابق یہ قدم ریاست کو اقربا پروری سے بچانے اور انتظامیہ میں نئی روح پھونکنے کے لئے اُٹھایا گیا ۔
ملازمتوں کی منسوخی سے متعلق حکم نامہ متعدد سرکاری محکموں، پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگز، کارپوریشن اور خود مختار اداروں میں کسی بھی سکیم کے تحت بغیر بھرتی عمل کے کئے گئے انتظامات، حتیٰ کہ کنٹریکچول بنیادوں پر کیوں نہ ہو، پر بھی نافذ العمل ہوگا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment