Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 10:53 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

جموں وکشمیر اسمبلی کا بجٹ اجلاس کل سے


افضل گرو کے باقیات کی واپسی، افسپا اور سیلاب متاثرین کے معاملات پرچھائے رہیں گے
جموں،17 مارچ (یو ا ین آئی) ریاست جموں وکشمیر کی اسمبلی کا بجٹ اجلاس کل سے شروع ہوگا۔ یہ ریاست میں دو ماہ کے طویل انتظار کے بعد معرض وجود میں آنے والی پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کا پہلا بجٹ ہوگا۔ اس بجٹ اجلاس کے ہنگامہ خیز رہنے کے قوی امکانات ہیں کیونکہ اپوزیشن جماعتوں خاص طور پر نیشنل کانفرنس نے اجلاس میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورس ایکٹ کی واپسی اور مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کو ریاست کی شہریت اور اسمبلی انتخابات میں ووٹ کا حق دینے کے معاملات پر حکومتی موقف جاننے کا من بنالیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے مابین ریاست میں حکومت سازی کیلئے ہونے والی طویل مذاکرات کے دوران یہ دونوں معاملات میڈیا میں چھائے ہوئے تھے اور یہ کہا جارہا تھا کہ پی ڈی پی نے بی جے پی کوساتھ ملانے پر اس کے سامنے افسپا کی منسوخی کی شرط رکھی ہے ۔ تاہم جب حکومت کا کم از کم مشترکہ پروگرام سامنے آیا تو اُس میں افسپا کا کہیں کوئی ذکر ہی نہیں لیکن بی جے پی کے مغربی پاکستان کے رفیوجیوں سے متعلق مطالبوں کا ذکر ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس نے افسپا اور مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کے معاملات کے علاوہ کشمیر سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کے معاملے پر بھی حکومت کو آڑھے ہاتھوں لینے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے جس میں پارٹی کو کانگریس کے ممبران کی حمایت بھی حاصل ہوگی۔ نیشنل کانفرنس کے ایک لیڈر نے بتایا کہ یہ پی ڈی پی جماعت ہی تھی جس نے ریاست میں الیکشن منعقد کرانے میں جلدی دکھائی تھی۔انہوں نے بتایا کہ اب یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم پی ڈی پی اور بی جے پی سے جانیں کہ انتخابی نتائج سامنے آئے اگرچہ تین ماہ گذر چکے ہیں تو سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کیلئے اب تک کون سے اقدامات اٹھائے جاچکے ہیں۔ دوسری جانب محمد افضل گورو کے باقیات کی واپسی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے معاملات بھی بجٹ اجلاس کے دوران ہنگانے کا باعث بنیں گے کیونکہ عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی انجینئر رشید نے پہلے ہی افضل گورو کے باقیات کی واپسی اور ریاست و بیرون ریاست جیلوں میں بند کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی پر دو قراردادیں ریاستی اسمبلی میں جمع کرائی ہیں۔انجینئر رشید کا دعویٰ ہے کہ پی ڈی پی کے آٹھ ممبران نے پہلے ہی انہیں حمایت دینے کا وعدہ کیا ہے جبکہ انہیں امید ہے کہ نیشنل کانفرنس ، کانگریس پارٹی کے علاوہ پی ڈی پی کے دیگر ممبران بھی قراردادوں کی حمایت کریں گے ۔تاہم پی ڈی پی کی ساجھے دار جماعت بی جے پی نے بجٹ اجلاس شروع ہونے سے قبل ہی اپنا موقف سخت کرتے ہوئے کہا کہ وہ قراردادوں کو اسمبلی میں پیش کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ ریاستی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 23 دن تک جاری رہے گا۔ ریاستی قانون ساز اسمبلی کے سکریٹری کی جانب سے بجٹ اجلاس سے متعلق جاری کئے گئے عبوری کلینڈر کے مطابق بجٹ اجلاس 9 اپریل تک جاری رہے گا۔ 18 مارچ کو ریاستی گورنر دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے ۔ عبوری کلینڈر کی رُو سے ریاست کے وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو 22 مارچ یعنی اتوار کو سالانہ ریاستی بجٹ پیش کریں گے جس کے بعد 23 اور 24 مارچ کو بجٹ پر بحث ہوگی ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بجٹ اجلاس کے دوران جموں و کشمیر میں لوگوں کی توجہ کا اصل مرکز متنازعہ معاملات نہیں ہوں گے بلکہ 22 مارچ کو پیش کئے جانے والا سالانہ بجٹ ہوگا کیونکہ یہ معروف ماہر معاشیات و وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو کا پہلا بجٹ ہے وہ جموں وکشمیر بینک کے چیرمین اور سی ای او کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے علاوہ پلاننگ کمیشن آف انڈیا ، ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور بزنس سٹینڈارڈ کے ساتھ بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔ریاست میں 87 ممبران اسمبلی میں سے 58 ایسے ہیں جو پہلی بار منتخب ہو کر آئے ہیں۔ پیر کے روز ایسے ہی ممبران کو ایوان کی کاروائی کے بارے میں روشناس کرانے کی غرض سے ایک ورکشاف منعقد کیا گیا جس میں وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے جموں وکشمیر قانون سازیہ کو اقتدار کا اعلیٰ ایوان قرار دیتے ہوئے ممبران پر زور دیا کہ وہ اس کے تقدس کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ‘‘ میری خواہش ہے کہ نئے ممبران حکومت کی پالیسیوں اور پروگراموں کو عوام تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں لوگوں کو درپیش مشکلات کو بھی اُجاگر کریں’’۔انہوں نے کہا کہ ایسا دوسر اکوئی ادارہ ہے ہی نہیں جسے قانون سازیہ جیسا اختیار ہو۔ وزیر اعلیٰ نے نو منتخب ممبران سے کہا کہ وہ ایوان میں معیاری بحث و تمحیص کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازیہ اُن کو اختیار دیتی ہے جو اقتدار میں نہیں ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ‘‘ میں ممبران سے تلقین کرتا ہوں کہ وہ اس ورکشاپ کو سنجیدگی سے لے کر ایوان کی کاروائی سے متعلق اپنے آپ کو روشناس کرائیں تا کہ لوگوں کی خدمت میں کوئی خامی نہ رہے ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment