Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 03:52 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اجودھیا میں مسجد انہدام کیلئے کانگریس ذمہ دار

 

کانگریس کے دور اقتدار میں 50ہزار فسادات ہوئے،ریاست کے تمام اضلاع میں فسادات کی روک تھام کیلئے حکمت عملی تیار کی جارہی ہے:اعظم خاں

لکھنؤ ، 16مارچ (یو این آئی) اترپردیش کی حکومت نے کانگریس کے دور اقتدار میں 50ہزار فسادات ہونے کا دعوی کرتے ہوئے اجودھیا میں تالہ کھلوانے سے لے کر 6دسمبر1992میں مسجد منہدم کرنے اور مندر بننے دینے کا بھی آج کانگریس پر الزام لگایا۔ریاستی اسمبلی میں وقفہ سوال کے دوران مظفرنگر کے فسادات کے سلسلے میں کانگریس کے رکن ندیم جاوید، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سریش رانا اور راشٹریہ لوک دل کے وید پال راٹھی کے سوال کے جواب میں پارلیمانی امور کے وزیر محمد اعظم خاں نے اجودھیا کے واقعات کے لئے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرایا۔کانگریس کے ندیم جاوید کے ضمنی سوال کے جواب میں مسٹر خان نے کہا کہ کانگریس کے دور اقتدار میں 50ہزار فسادات ہوئے ۔ پارلیمانی امور کے وزیر نے سوالیہ لہجے میں کہا کہ اجودھیا میں کس نے تالا کھلوایا؟ مسجد کس نے منہدم کرائی، یہاں تک کہ 6دسمبر کو مسجد کے انہدام کے بعد 8دسمبر 1992تک مندر بنوا دیاگیا۔مسٹر جاوید نے مظفرنگر کے فسادات کو حساس قرار دیتے ہوئے اس معاملے میں حکومت پر لیپا پوتی کا رویہ اپنانے کا الزام لگایاتھا۔مظفر نگر فسادات کے ملز م بی جے پی کے سریش رانا کا کہنا تھا کہ مظفر نگر کے فسادات میں بے قصور لوگوں کو پھنسایا گیا ہے ، یہاں تک کہ 76,70اور 84 برس کے بزرگوں تک کو چھیڑخانی اور آبرو ریزی کا ملزم بنایاگیا ہے۔مسٹر رانا نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کو ملزم بنا دینے سے بھی فرقہ وارانہ ماحول بگڑتا ہے ۔ مظفر نگر کے فسادات میں گیارہ مردہ افراد کو ملزم بنادیاگیا ۔19معاملے ایسے تھے ، جنہیں درخواست دہندہ نے واپس لے لیا۔ ایک، ایک معاملے میں چار، چار تحریر لی گئی۔ تفتیش میں 2544 افراد کو بے قصور پایاگیا۔انہوں نے کہا کہ بے قصور افراد کا نار کو ٹسٹ کرائے جانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سہارنپور کے فساد میں متاثرین کو کم معاوضہ دیئے جانے کا بھی الزام لگایا۔مسٹر رانا نے کہا کہ سہارنپور میں فساد کرانے والے بے خوف گھوم رہے ہیں مگر ان کی آج تک گرفتاری نہیں ہوئی جب کہ انہوں نے الیکشن بھی لڑا۔بی جے پی کے ہی سریش رانا نے جیلوں میں بند بے قصور افراد کو انصاف دلانے کا پرزور مطالبہ کیا۔مسٹر محمد اعظم خاں نے بتایا کہ سال 2014 میں سہارنپور میں ہوئے فسادات کے سلسلے میں 237معاملے درج کئے گئے ۔ کل 229میں سے 99 کوگرفتار کیا گیا۔ دو ملزمان عدالت میں حاضر ہوئے جبکہ 128ملزمان اب بھی پکڑ میں نہیں آئے ہیں۔ 19 معاملوں میں چارج شٹ داخل کی گئی ہے ۔ بقیہ ملزمان کے خلاف انکوائری چل رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ریاست کے تمام اضلاع میں فسادات کے روک تھام کے لئے حکمت عملی تیار کی جارہی ہے جنہیں گاہے بگاہے اپ گریڈ کرکے انہیں سختی سے نافذ کیا جاتا ہے ۔مسٹر خان نے کہا کہ اس کے علاوہ عوام میں بااثر اور معزز افراد کو ساتھ لے کر امن کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں ، جن کی گاہے بگاہے سیمینار کرکے فرقہ وارانہ تنازعوں کا پتہ لگا کر انہیں حل کرایا جاتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ حساس اور ملی جلی آبادی والے علاقوں میں پولیس کے خاطرخواہ گشت کا انتظام کیا گیا ہے ۔مسٹر خان کے جواب میں مداخلت کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر سوامی پرساد موریہ نے کہا کہ سال 2013 اور 2014 میں بھی یہ سوال پوچھا گیاتھا اس وقت فسادات کی تعداد 116 بتائی گئی تھی۔ حکومت کا جواب متضاد ہے ۔مسٹر موریہ نے کہا کہ سرکاری تحفظ میں گھومنے والے فسادات کے ملزمان کے خلاف کارروائی نہ ہوپانا کیا حکومت کی ناکافی نہیں ہے ۔بی جے پی کے سریش رانا نے کہا کہ 569 ایسے لوگ ہیں جو بے قصور ہیں اس کے باوجود وہ جیلوں میں بند ہیں۔مسٹر خان نے کہا کہ قصور وار اور بے قصور کا پیمانہ کیا ہے ۔ عدالتی کارروائی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تانا شاہی نہیں ہے ۔حکومت کے جواب سے غیر مطمئن بی جے پی کے اراکین نے پہلے ایوان سے واک آؤٹ کیا بعد میں بی ایس پی کے اراکین نے بھی ایوان کا بائیکاٹ کیا۔

...


Advertisment

Advertisment