Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 01:01 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

کشمیر ی پرچم کا حکومتی فرمان بنا تنازعے کا باعث،مفتی سیاسی دباؤ کے شکار :عمر عبداللہ


سری نگر،14 مارچ (یو ا ین آئی) ریاست جموں وکشمیر میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت تنازعات کے ایک ایسے بھنور میں پھنس چکی ہے ، جس سے باہر نکلنا فی الوقت مشکل دکھائی دے رہا ہے ۔ ریاست میں پرامن انتخابات کیلئے پاکستان، علیحدگی پسند جماعتوں اور جنگجوؤں کو سارا کریڈٹ دینے اور علیحدگی پسند رہنما مسرت عالم بٹ کی رہائی سے پیدا ہونے والے تنازعات ابھی ختم نہیں ہوئے تھے کہ ایک نیا تنازعہ سامنے آگیا جس کی وجہ سے حکومت میں شامل دونوں جماعتوں اور انتظامیہ کے درمیان کوآرڈنیشن کا فقدان عیاں ہوا ہے ۔ 12 مارچ کو جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک سرکیولر زیر نمبر 13-GAD of 2015 جاری کیا گیاجس میں قومی پرچم کے ساتھ ساتھ ریاستی پرچم کو لہرانا ضروری قرار دیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ ریاستی پرچم کی اہمیت اور مقام کو ہر قیمت پر مقدم سمجھا جائے ۔ واضح رہے کہ جموں وکشمیر ملک کی واحد ایسی ریاست ہے جس کا اپنا آئین اور اپنا جھنڈا ہے ۔ ریاست کے آئین کو 17 نومبر 1956 کو منظور کیا گیا تھا۔ جموں وکشمیر کا اپنا پرچم لال رنگ کا ہے جس کے بائیں حصے پر ایک سفید ہل والا نشان بناہے جبکہ دائیں حصے پر تین سفید لکیریں ہیں۔ محکمہ جنگلات کے سابق افسر عبدالقیوم خان نے ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی جس میں ریاستی آئین کے احترام میں یوم جمہوریہ ہند کے طرز پر ایک سالانہ دن 17 نومبر کو منانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اِس حوالے سے آج تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ۔ تاہم 12 مارچ کو مفتی حکومت نے ایک غیر متوقع پیش رفت کے تحت ایک باضابطہ سرکیولر جاری کرکے حکم صادر کیا کہ ریاستی پرچم کو اُسی آن بان اور شان سے آئینی اداروں کی عمارتوں اور آئینی عہدیداروں کی گاڑیوں پرآویزاں کیا جائے جس طرح قومی پرچم کو کیا جاتا ہے ۔سیکولر میں یہاں تک بتایا گیا کہ قومی پرچم اور ریاستی پرچم کو ایک ساتھ نہ لہرانا، جموں وکشمیر کے انسداد تذلیل اسٹیٹ اونرس ایکٹ 1979 کے تحت ریاستی پرچم کی توہین کے برابر ہے ۔ لیکن مذکورہ سرکیولر کو جاری کئے ابھی چوبیس گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے کہ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک حکم نامہ جاری کرکے اس کو واپس لے لیا۔ جس کے نتیجے میں پہلے سے ہی تنازعات کے بھنور میں پھنسی ہوئی حکومت کو شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔وادی کشمیر میں اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ مفتی سعید بی جے پی کے زبردست دباؤ میں آچکے ہیں اور پرچم سے متعلق سرکیولر کو واپس لینااُسی دباؤ کا شاخسانہ ہے ۔ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاستی پرچم سے متعلق سرکیولر کو واپس لینے کے معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرکیولر صحیح اور بروقت تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مفتی سعید نے سیاسی دباؤ میں آکر سرکیولر واپس لے لیا۔ حسب معمول کی طرف ٹویٹر کا سہارا لیتے ہوئے عمر عبداللہ نے لکھا ‘‘وہ کیسے حکم نامے کو واپس لے سکتے ہیں۔ حکم نامہ صحیح اور بروقت تھا۔’’ مسٹر عبداللہ نے مفتی سعید پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ مفتی سعید جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن کی سب سے نمایاں نشانی کی حرمت کا تحفظ نہیں کرسکتے ۔ تو ہمیں اُن سے افسپا اور دفعہ 370 پر کچھ بھی توقع نہیں کرنا چاہئے ۔ وادی کشمیر میں عوامی حلقوں نے حکومت کے اقدام کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ مفتی سعید نے بی جے پی کے سامنے گھٹنے ٹیکنا شروع کردیا ہے ۔ امتیاز احمد نامی ایک نوجوان نے مزاحیہ انداز میں بتایا کہ ایک دن حکومت کی جانب سے سرکاری عہدیداروں اور آئینی اداروں کو ریاستی پرچم کی اہمیت اور مقام کا سبق پڑھایاجاتا ہے تو دوسرے دن اُسی سبق کو حذف کرنے کا درس دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدام سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ مخلوط حکومت میں شامل اتحادیوں اور انتظامیہ کے درمیان کوآرڈنیشن کا فقدان ہے ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment