Today: Tuesday, November, 13, 2018 Last Update: 09:56 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

سید اطہرالدین اطہر کی نظمیں غورو فکر کی دعوت دیتی ہیں


شعبۂ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ میں دوسرے سید اطہر الدین قومی اعزاز کی پروقار تقریب سے پروفیسر ارتضیٰ کریم کا خطاب
میرٹھ13؍ مارچ،ایس ٹی بیورو:سید اطہر الدین اطہرؔ معروف شاعر اور مخلص استاد ہونے کے ساتھ ساتھ،ہمدرد، ملنسار، مہذب ،آئیدیل،اور علم دوست انسان تھے۔ان کی دوسری برسی کے موقع پر سید اطہر الدین میمو ریل سو سائٹی اور شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ نے مشترکہ طور پر ایک شاندار تقریب ،شعبۂ اردو کے پریم چند سیمینار ہال میں منعقد کی۔ جس کی سرپرستی محترم سید محمد اشرف(کویت) نے، صدارت پرو فیسرارتضیٰ کریم(دہلی یونیورسٹی دہلی ) اور نظامت ڈاکٹر آصف علی نے کی۔مہمان خصوصی کے طور پر پرو فیسر منظور احمد (شیخ الجامعہ،سبھارتی یونیورسٹی،میرٹھ) اور مہمان مکرم کے بطور پروفیسر قاضی زین الساجدین (شہر قاضی ،میرٹھ شریک ہو ئے۔جب کہ استقبالیہ کی رسم صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوری اوراظہار تشکر کی رسم سید معراج الدین نے اداکی۔
پرو گرام کا آ غازڈاکٹر محمد یونس غازی نے تلا وت کلامِ پاک سے کیا۔ شوبی رانی نے بار گاہِ رسالت میں سید اطہر الدین اطہرؔ کی تخلیق کردہ نعت کا ہدیہ محمد صادق نے اپنی مترنم آواز میں سید اطہر الدین کی غزل اور مدیحہ اسلم نے ان کی نظم’’مجھے بھی کاش اک اولاد نالائق ملی ہوتی‘‘ سنا کر خوب داد و تحسین حاصل کی۔اس کے بعد پرو فیسر ایچ ایس سنگھ نے مہمانوں کے ساتھ مل کر شمع روشن کی۔ یہ پرو گرام دو حصوں پر مشتمل تھا۔پرو گرام کے پہلے حصے میں مرحوم اطہر الدین اطہرؔ کی شخصیت اور خدمات پرتفصیلی روشنی ڈا لی گئی ۔فیض عام ڈگری کالج کی شعبۂ اردو کی صدر ڈاکٹر فرحت خاتون نے ’’سید اطہرالدین کا اسلوب نگارش ‘‘ دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر ارشاد علی نے ’’سید اطہر الدین کی شخصیت اور خدمات ‘‘ اور کاکل رضوی نے ’’سید اطہر الدین بیٹی کی نظر میں‘‘عنوان سے مقالات پیش کیے۔جب کہ ڈاکٹر شاداب علیم نے سوسائٹی کی ایک سالہ کار کردگی کی رپورٹ اور محترم آ فاق احمد خاں نے سید اطہر الدین کے تحریر کردہ خصوصی مزاحیہ کالم’’رب ہی جانے‘‘پر تبصرہ اور نمونے کے طور پر ایک کالم کی قرأت کی۔پروگرام کا دوسرا حصہ ایوارڈ یافتگان کے تعارف،اعزاز اور شرکاء کے اظہار خیال پر مبنی تھا۔اس حصے میں ادبی خدمات کے لیے سید اطہرالدین قومی ایوارڈ2015ء سے نوازے گئے پرو فیسر حسن احمد نظا می کا تعارف ڈا کٹر آصف علی فروغ تعلیم کے لیے نوا زے گئے ڈا کٹر نواز دیوبندی کا تعارف ڈاکٹر شاداب علیم،سماجی اور طبی خدمات کے لیے نوازے گئے فلاح عام چیری ٹیبل ہاسپٹل کا تعارف محترم ذیشان خان اورنشانہ بازی میں سید ذکی الدین قومی ایوارڈ2015ء سے نوازے گئے محترم چو دھری دھیرج سنگھ کا تعارف سید معراج الدین نے پیش کیا۔بعد ازاں انہیں بکے،شال ،سرٹیفکٹ اور نشان یاد گارپیش کر کے اعزاز سے نوازاگیا۔اس مو قع پرپروفیسر حسن احمد نظامی نے اس اعزاز کو اپنے لیے با عث فخربتاتے ہوئے کہا کہ اطہر صا حب کا مجمو عہ ’’لہر‘‘ میری نظروں سے گذرا ہے ۔علاوہ ازیں گاہ بگاہ میں ان کی دوسری تخلیقات بھی پڑھتا رہا ہوں جس کی بنیاد پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ اطہر صاحب ایک سلجھے ہوئے اور ثقہ ادیب تھے ۔بالخصوص نظم کے تعلق سے جو خدمات انہوں نے انجام دی ہیں وہ انتہا ئی لائق احترام ہیں۔ڈا کٹر نواز دیوبندی نے اس اعزاز پر شکریہ ادا کرتے ہو ئے کہا کہ کسی کی شخصیت کا اندازہ اس کی تعلیم سے کم اور اس کے اہل خانہ کی تربیت سے زیا دہ ہوتا ہے۔اطہر صا حب کی خاندان کی تربیت سے ان کے نستعلیق ،مہذب، باکردار اور باعمل ہونے کا اندازہ وہو تا ہے۔فلاح عام چیری ٹیبل ہاسپٹل کے موجودہ ڈا ئریکٹر محترم علا ء الدین نے اعزاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا وصف یہی ہے کہ وہ خد مت خلق کریں مگر افسوس فی زمانہ ہم اس میدان میں اپنے ہم وطنوں سے پیچھے ہیں۔چو دھری دھیرج سنگھ نے اس اعزاز کے ملنے پرخودکو خوش نصیب بتاتے ہو ئے کہا کہ سید ذکی الدین اور سید اطہر الدین کو میں ایک نشانہ باز کی حیثیت سے جانتا تھا مگر میں سید اطہر الدین کا کلام سننے کے بعد میں ان کے ادبی قد کا بھی معترف ہوگیا ہوں۔اگر ان کی تخلیقات ہندی یا رومن رسم الخط میں مجھے دستیاب ہوجائیں تو یہ میرے ادبی ذوق کی تسکین کا سبب ہوں گی۔مہمانان میں سے پروفیسر قاضی زین الساجدین نے کہااچھے شاعر اور اچھے ادیب تو بہت سے مل جاتے ہیں مگر ایک اچھا ہمدر اور خلیق انسان بڑی مشکل سے ملتا ہے۔ اطہر صا حب ان اوصاف کے حامل تھے۔پرو فیسر منظور احمد نے سید اطہر الدین کی خدمات بالخصوص ان کی مزاحیہ تخلیقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مزاح شگفتہ اورمعاشرے کے لیے نشتر کا کام کرتا ہے ۔ انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ ان اعزازات کے علاوہ ایک اعزاز مزاحیہ ادب میں نمایاں خدمات انجام دینے کے لیے بھی ہو نا چا ہیے۔سید محمد اشرف نے اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ مر حوم اطہر یوں تو میرے بھانجے تھے مگر رشتے پر دوستی غالب تھی۔اس لیے میں ان کے داخلی زندگی کو اس حد تک جانتا ہوں جس حد تک کوئی بے تکلف دوست جان سکتا ہے۔ میں اس کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ وہ انتہا ئی بے باک، نڈراور مخلوق خدا کی خد مت کر نے والا انسان تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک انو کھا پرو گرام ہے اور اس کے لیے سو سائٹی اور شعبے کے ارا کین قا بل مبا رک باد ہیں۔آخر میں اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ سید اطہر الدین ہماری اردو شاعری کے ایسے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے عام فہم لفظیات سے عام لو گوں کے احساسات و جذبات کو اس طرح ہنر مندی سے پیش کیا ہے کہ وہ خاص توجہ کے حامل ہو گئے ہیں۔ ان کی اکثر نظمیں غورو فکر کی دعوت دیتی ہیں۔انہوں نے سوسائٹی کے کاموں کو سراہتے ہوئے مشورہ دیا کہ ہر سال سید اطہر الدین میمو ریل لیکچر بھی ہونا چاہیے۔اس مو قع پر ڈاکٹر اطویر سنگھ، ڈاکٹر مرنالنی اننت ،نایاب زہرا زیدی ،افشاں یاسمین ،جمیل احمد،ظہیر انور،نذیر میرٹھی ،ڈا کٹر الکا وششٹھ، ڈا کٹر سیدہ، ڈا کٹر ہما نسیم، انجینئر رفعت جمالی، شیخ انعام الحق ایڈ وکیٹ، ایاز احمد ایڈوکیٹ، سرتاج عالم ایڈوکیٹ، جی ایم مصطفی، مختار خاں، شیبا، مختار، تسلیم جہاں،کہکشاں فرحین،سید محسن، فرزانہ سبز واری، بھارت بھوشن، پربھات رائے،سید فرقان،ڈاکٹر عفت ذکیہ، عمائدین شہر اور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔

...


Advertisment

Advertisment