Today: Wednesday, September, 26, 2018 Last Update: 09:56 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

تصوف کو موت سے تعبیر کرنے کے باجود اقبال خود بھی تصوف کی آغوش میں پناہ گزیں

 

شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منشی نول کشور یادگاری خطبہ کے دوران پروفیسر الطاف احمداعظمی کا اظہار خیال
شمس آغاز شمسی
نئی دہلی 12مارچ(ایس ٹی بیورو) اقبال کی نظر میں خودی انسان کی بنیادی قوتوں اور امکانات کی مظہر ہے ، خودی کے استحکام کے ذریعہ صرف کائنات کی تسخیر ہی نہیں بلکہ خدا تک بھی رسائی ممکن ہے، لیکن تصوف خودی کی نفی کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اقبال ایک زمانے میں تصوف کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اس کو موت سے تعبیر کرتے تھے، لیکن افسوس ہے کہ بعد میں اقبال نے مولانائے روم سے متاثر ہوکر پھر اسی خواب غفلت میں مبتلا کرنے والے تصوف میں پناہ گزیں ہوگئے۔ ان خیالات کا اظہار شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے منعقدہ منشی نول کشور یادگاری خطبہ میں معروف اسلامی اسکالرپروفیسر الطاف احمداعظمی نے کیا۔صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے مشہور ماہر اقبالیات پروفیسر قاضی عبید الرحمن ہاشمی نے کہا کہ گرچہ اقبال اعلی درجہ کے فلسفی نہیں تھے لیکن اعلی پایہ کے شاعر ضرور تھے ،مشرق کے صرف دوشعرا کو یہ امتیاز حاصل رہا ہے کہ مغربی دنیا میں ان کی تخلیقات کے نہ صرف ترجمے ہوئے بلکہ انہیں بے پناہ مقبولیت بھی حاصل ہوئی اور وہ دو فن کار ٹیگور اور اقبال ہیں۔صدر شعبۂ اردو پروفیسر وہاج الدین علوی نے مہمانوں کا استقبال اور تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر الطاف احمد اعظمی کا شمار اسلامی اسکالر، ممتاز طبیب اور ماہر اقبالیات کے طور پر ہوتا ہے اور پروفیسر قاضی عبید الرحمن ہاشمی ہمارے عہد کے معروف ماہر اقبالیات ، منفرد نثر نگار اور باکمال منتظم اور مدبر ہیں۔منشی نول کشور یادگاری خطبہ کی نظامت کے فرائض عہد حاضر کے ممتاز فکشن نگار ڈاکٹر خالد جاوید نے انجام دیتے ہوئے کہا کہ منشی نول کشوراردو کے فروغ اور ہند اسلامی تہذیب کے ثقافتی سفیر ہیں، انہوں نے کہا کہ لفظ کو ہندو فلسفہ میں حقیقت مطلق اور برہما بھی کہا جاتا ہے اور منشی نول کشور کی عظمت آج کے برقیاتی اور ڈیجیٹل عہد میں یہ ہے کہ انہوں نے حقیقت مطلق کو پکی روشنائی کے ذریعے دوام عطا کیا۔منشی نول کشور کا تعارف ڈاکٹر خالد مبشر نے پیش کیا ،خطبہ کا آغاز حافط شاہ نواز فیاض کی تلاوت کلام پاک اور اختتام ڈاکٹر مشیر احمد کے اظہار تشکر سے ہوا۔ اس موقع پر پروفیسر محمد شاہد علی، پروفیسرعبدالماجد قاضی، پروفیسر محمد اسحق، ڈاکٹر نسیم اختر، ابو ظفر محمد حلیم ،پروفیسر شہپر رسول، پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر کوثر مظہری، ڈاکٹرسہیل احمد فاروقی، ڈاکٹرندیم احمد، ڈاکٹر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹر انوارالحق، ڈاکٹر محمد اکبر اورڈاکٹر محمد آدم کے علاوہ ریسرچ اسکالرز میں محمد مقیم، ثاقب عمران، ساجد ذکی فہمی، امتیاز احمد علیمی، زاہد ندیم، درخشاں، ثمرین اور عبدالرحمن سمیت بڑی تعداد میں طلبہ وطالبات شریک تھے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment