Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 05:35 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

یوگیندر اور پرشانت کوپارٹی سے نکال باہر کرنے کی تیاری

 

دونوں لیڈران کو پارٹی سے باہر کرنے کیلئے شروع کی گئی ہے دستخطی مہم*کرنل دیویندر سہراوت اور پنکج پشکر نے کیا دستخط کرنے سے انکار

نثاراحمدخان

نئی دہلی،11مارچ (ایس ٹی بیورو) عام آدمی پارٹی کے تھنک ٹینک کہے جانے والے یوگیندر یادو اور پارٹی کے بانی رکن پرشانت بھوشن کو پولیٹیکل افیئرس کمیٹی (پی اے سی) سے نکالے جانے کے بعد پارٹی سے بھی نکالنے کی مہم میں پارٹی کے ممبران اسمبلی کے ذریعہ دستخط کروائے جارہے ہیں اور انہیں پارٹی سے باہر کرنے کا تقریباً مکمل خاکہ تیار کرلیاگیاہے۔ حالانکہ اسی درمیان کچھ ممبران اسمبلی نے بغاوتی تیور بھی اپنا لئے ہیں جس سے یہاں بھی پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوتی نظرآرہی ہے۔
تاہم یہ صاف نہیں ہو پایا ہے کہ کتنے ممبران اسمبلی نے اس خط پر دستخط کئے ہیں، لیکن کراول نگر سے ’آپ‘ممبر اسمبلی کپل مشرا کے مطابق خط پر دستخط کرنے کاعمل جاری ہے اور کسی نے بھی اس سے منع نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن اور شانتی بھوشن کو پارٹی سے نکالا جائے۔ ہم یہ برداشت نہیں کریں گے کہ کوئی ہمارے ایجنڈے کو ختم کرنے کی کوشش کرے، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ ذرائع کے مطابق دونوں کو پارٹی سے نکالنے کیلئے چلائی جا رہی ہے۔ دستخطی مہم سے ’آپ‘ کے کچھ رکن اسمبلی خوش نہیں ہیں۔ بجواسن سے ’آپ‘ کے رکن اسمبلی کرنل دیویندر سنگھ سہراوت اور تیمارپور کے ممبر اسمبلی پنکج پشکر نے خط پر دستخط کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ’آپ‘ کے کراول نگر سے رکن اسمبلی کپل مشرا نے یوگیندر یادو، شانتی بھوشن اور پرشانت بھوشن کیخلاف دستخط مہم شروع کی ہے۔ دیویندر سنگھ کے مطابق اس خط پر اراکین اسمبلی کے دستخط لئے جا رہے ہیں۔کرنل دیویندر سنگھ نے بتایا کہ انہوں نے اس خط پر دستخط نہیں کئے۔انہوں نے کہا کہ یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے پی اے سی سے نکالا جا چکا ہے۔ انہیں دوبارہ سزا نہیں دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ کسی کو گناہگار بھی پایا گیا ہے تو پرنسپل آف نیچرل جسٹس کہتا ہے کہ کسی کو دو دو بار سزا نہیں دی جا سکتی ۔ انہیں پی اے سی سے نکالنا کافی ہے، اس کے بعد انہیں سب کچھ بھول کر گلے لگایا جانا چاہئے۔ دونوں کو پارٹی سے نکالنے کی مخالفت کرتے ہوئے دیویندر سنگھ نے کہا کہ اگر کسی کے پاس کچھ تجاویز ہیں تو مثبت چیزوں کو لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
واضح رہے کہ کل پارٹی کے اندر چل رہی رسہ کشی اس وقت عروج پر پہنچ گئی، جب آپ‘ کے 4رہنماؤں (منیش سسودیا، سنجے سنگھ، گوپال رائے اور پنکج گپتا) نے باضابطہ طور پر بیان جاری کرکے پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کو پی اے سی سے باہر نکالنے کی وجہ بتائی تھی۔یوگیندر یادو نے کل ہی یہ کہہ دیا تھا کہ ان کیخلاف ایک خط لکھا گیا ہے، جس پر دستخط کرنے کیلئے اراکین اسمبلی پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ اراکین اسمبلی پر یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ہمارے خلاف لکھے گئے خط پر دستخط کریں۔تاہم مجھے امید ہے کہ یہ سب ختم ہو جائے گا۔حالانکہ یہ بھی کہاکہ جارہا ہے کہ پارٹی نے دونوں لیڈران کو پارٹی سے باہر کرنے کا فیصلہ تقریباً کرلیاہے اور اس سلسلہ میں 28مارچ کو ہونے والی میٹنگ میں اعلان کیاجاسکتا ہے۔ بہرحال اب دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ پارٹی کے باغی لیڈران کو پارٹی میں رکھاجاتا ہے یا پھر انہیں پارٹی سربراہ کیخلاف بولنے کی سزا باہر کرکے دی جائے گی۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment