Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 10:34 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اب فٹافٹ بنے گا پاسپورٹ


پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس دینے میں اگر ہوئی تاخیر تو ملازمین پرلگے گا جرمانہ

نئی دہلی11مارچ(آئی این ایس انڈیا)عوام کو وقت پر بڑے پیمانے سہولیات ملیں، اس کے واسطے ذمہ داری طے کرنے کے لئے حکومت ایک فریم ورک بنانے پر کام کر رہی ہے۔اس کی خصوصیات میں پاسپورٹ یا ڈرائیونگ لائسنس سے لے کر ہیلتھ انشورنس دعوی تک شامل ہو گا اور ان میں تاخیر پر جرمانے کی تجویزہوگی۔انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایت محکمہ اور کوالٹی کنٹرول آف انڈیا اس کے لئے شروع میں مرکزی حکومت کی 10سروسز کی شناخت کریں گے۔سب سے پہلے اس پہل کو ناگالینڈ اور ہریانہ میں لاگو کیا جائے گا۔کوالٹی کونسل آف انڈیا کا قیام حکومت اور تین صنعتی تنظیموں نے مل کر کیا تھا۔اس فریم ورک میں ریاستوں کے پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ اور سٹیزنس چارٹر کو ملا کر ایک کیا جائے گا، جس میں سروس دینے کے لئے مقررہ وقت، شکایت، شفافیت اور ذمہ داریوں کو لے کر سرکاری اداروں کے عزم کا ذکر ہوگا۔جرمانے کے علاوہ ایک ایسا نظام بھی لاگو کیا جائے گی جس میں شکایت کا تصفیہ تین دن کے اندر اندر نہیں ہونے پر وہ شکایت خودبخود کو کسی سینئر افسر کے پاس چلی جائے گی اور ان کے پاس بھی شکایت کے تصفیے کے لئے تین دن ہوں گے۔افسران کو بتانا ہوگا کہ کسی سروس میں کمی کیوں ہے اور وہ وقت پر مہیا کیوں نہیں کرائی گئی۔ایک سرکاری اہلکار نے کہا کہ بہت سی ریاستوں میں پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ اور سٹیزنس چارٹر ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ کون سی اتھارٹی ذمہ دار ہوگی لیکن یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ کام وقت پر مکمل نہیں ہونے کی صورت میں معاملے کے تصفیے کی ذمہ داری کس پر ہوگی،ایسے میں شہریوں کو سروسز حاصل کرنے کے لئے کی در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں، رشوت دینی ہوتی ہے۔شہریوں کو شکایت پر نظر رکھنے میں مدد کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا اور ان کو موبائل پر اسٹیٹس ملے گا۔ذرائع نے کہا کہ ملک میں اب بھی کچھ ایسی چیزیں ہو رہی ہیں جو صحیح نہیں ہیں،وقت پر ہیلتھ انشورنس معاوضہ نہیں دیا جانا اس میں ایک ہے،ہم یہ یقینی بنا نا چاہتے ہیں کہ کم سے کم مرکزی حکومت کی 10 اور ریاستی حکومت کی سرو سز اس وسیع نظام کا حصہ بنے جہاں ہر کوئی جوابدہ ہوگا،اگر وہ وقت پر سروس مہیا کرانے میں ناکام رہتاہے تو ان کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔مدھیہ پردیش 2010میں رائٹ ٹو سروس ایکٹ نافذ کرنے والا پہلی ریاست تھی۔اس کے بعد بہار، دہلی، پنجاب، راجستھان، ہماچل پردیش، کیرالہ، اتراکھنڈ، ہریانہ، اترپردیش اور جھارکھنڈ نے بھی اپنے یہاں یہ ایکٹ لاگو کیا۔پہلے دور میں حکومت پاسپورٹ سروس، آئی آر سی ٹی سی، سینٹرل گورنمنٹ ہیلتھ اسکیم، امینائزیشن اینڈ ہیلتھ انشورنس جیسی 10سروسز کو اس میں شامل کیا جائے گا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment