Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 09:08 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

تلنگانہ کے بجٹ میں اقلیتوں کی ترقی کیلئے 1105کروڑ روپئے الاٹ


حیدرآباد11مارچ(یو این آئی) تلنگانہ حکومت نے مالیاتی سال دو ہزار 2015-16 کا مکمل بجٹ پیش کردیا ۔ وزیر خزانہ ای راجندر نے اسمبلی میں جملہ1,15,689 کروڑ روپئے کا بجٹ پیش کردیا جس میں منصوبہ جاتی بجٹ52,383کروڑ اور غیر منصوبہ جاتی بجٹ63,306 کروڑ روپئے کا ہے ۔انہوں نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ اقلیتوں کی ترقی کیلئے اس بجٹ میں 1105 کروڑ روپئے الاٹ کئے گئے ہیں ۔ مالیاتی خسارہ3.49 فیصد دکھایا گیا ہے ۔ آر ٹی سی کی ترقی کیلئے 400 کروڑ روپئے ’ ایس سی طبقہ کی ترقی کیلئے 5547کروڑ روپئے دیگر پسماندہ طبقات کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے 2172 کروڑ روپئے ’ آسرا اسکیم کے تحت دیئے جانے والے وظائف کیلئے 4000 کروڑ روپئے ’ فوڈ سکیوریٹی کیلئے 2200 کروڑ روپئے ’ زراعت و ملحقہ شعبوں کیلئے 8425 کروڑ روپئے ’ صنعتوں کی ترقی کیلئے 937 کروڑ روپئے ’ برقی کے شعبہ کیلئے 7400کروڑ روپئے ’ آبپاشی کے شعبہ کیلئے 8500 کروڑ روپئے ’ واٹر گرڈ کی تعمیر کیلئے 4000کروڑ روپئے ’ سڑکوں کی ترقی کے لئے 4980کروڑ روپئے ’ صحت کے شعبہ کیلئے 4932 کروڑ روپئےتعلیم کے شعبہ کیلئے 11216 کروڑ روپئے ’ دلتوں میں اراضی کی تقسیم کیلئے 1000 کروڑ روپئے ’ حکومت کی جانب سے شروع کردہ سرسبزی و شادابی کے پروگرام ہریتا ہرنم کیلئے 325 کروڑ روپئے ’ گریٹر حیدرآباد بلدیہ کیلئے 526 کروڑ روپئے ’ حیدرآباد میٹرو ریل کیلئے 416کروڑ روپئے ’ حیدرآباد واٹر ورکس اینڈ سیوریج بورڈ کیلئے ایک ہزار کروڑ روپئے ’ بی سی طبقات کی ترقی کیلئے 2172کروڑ روپئے ’ تلنگانہ کو ریاست کا درجہ دلانے کیلئے قربانی دینے والے افراد کے ارکان خاندان کی امداد کیلئے 48 کروڑ بارہ لاکھ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت تمام طبقات اور شعبوں کی ترقی کیلئے پابند ہے ۔انہوں نے بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں فلاح وبہبود کو اہمیت دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ تلنگانہ کو ریاست کا درجہ ملنے کے بعدریاست پسماندہ ہوجائے گی ۔ ان افراد کی یہ باتیں غلط ثابت ہوئی ۔ انہوں نے آج پیش کردہ بجٹ کو فاضل بجٹ قراردیا اور کہا کہ چودھویں فائنانس کمیشن نے انکشاف کیا کہ ملک میں صرف دو ریاستیں گجرات اور تلنگانہ فاضل بجٹ رکھتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آج کے اس بجٹ میں ہر شعبہ کو اہمیت دی گئی۔چار ہزار کروڑ روپئے سے ریاست کے 33لاکھ افراد کو وظیفہ دیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس میں اضافہ کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔ مرکزی بجٹ کے مشاہدے کے بعد ہی ریاست کا بجٹ تیار کیا گیا مرکز کی جانب سے جن شعبوں کو نظر انداز کیا گیا ان کو اہمیت دی گئی اور ان شعبوں کے لیے زیادہ رقومات الاٹ کی گئیں اور ہوزنگ کے شعبہ کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے الاٹ کئے گئے ہیں۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment