Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 09:17 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اردو کی زبوں حالی ختم کرنے کیلئے اردو والوں کو جدوجہد کرنی ہوگی: پروفیسر شاہد مہدی


شعبۂ اردودہلی یونیورسٹی میں پہلے4روزہ ’جشن اردو‘کا افتتاح*حالی اور شبلی نے اردوکی فکری وسعت میں اضافہ کیا: ڈاکٹر تقی عابدی*طلباء میں سرگرمی پیدا کرنے کا سیمینار بہترین ذریعہ:پروفیسر خواجہ اکرام*طلباء میں پیدا ہوگا صلاحیتوں کے اظہار کاجذبہ:پروفیسر ابن کنول
نثاراحمدخان
نئی دہلی،9مارچ (ایس ٹی بیورو) اردو کی زبوں حالی کا تدارک صرف حکومت کے ذریعہ ہی ختم نہیں کیاجاسکتا بلکہ اردوسے دلچسپی رکھنے والے اور اس سے وابستہ ادیبوں کو اپنی سطح پر کوشش کرنی چاہئے۔ آج ہم اعلیٰ سطح پراردو کی تعلیم دلانے کی کوشش کررہے ہیں، مگر پرائمری سطح پر اردو کی تعلیم کا نظم ونسق کرنے اور اسے یقینی بنانے کیلئے ہمیں کوشش کرنی ہوگی۔ان خیالات کااظہارشعبۂ اردودہلی یونیورسٹی میں ’جشن اردو‘کے عنوان سے آج4 روزہ سیمینار کے افتتاحی تقریب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر سیدشاہد مہدی نے کیا۔ افتتاحی تقریب کی صدارت کناڈا سے تشریف لائے ڈاکٹر تقی عابدی نے کی جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے شرکت کی۔استقبالیہ کلمات شعبہ کے صدر پروفیسر ابن کنول نے پیش کیا جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد کاظمنے انجام دیئے۔ پروفیسر شاہد مہدی نے علامہ شبلی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اردوتحقیق وتنقید کو نئی سمت عطاکرنے میں حالی وشبلی سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں، انھیں معلوم تھاکہ آنے والے وقت میں بولی جانے والی زبان اردوہوگی، اس لئے انھوں نے اردوکے مختلف اصناف کوفروغ دیابلکہ اصلاح وتنقید کا اہم کارنامہ بھی انجام دیا۔
صدر شعبۂ اردودہلی یونیورسٹی پروفیسر ابن کنول نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے اس پروگرام کے انعقادکے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ایسے پروگرام کے انعقاد سے طلبہ وطالبات کو بہت کچھ سیکھنے اورسمجھنے کا موقع ملتاہے اور ان کے اندرخود بھی اپنی صلاحیتوں کے اظہار کاجذبہ پیداہوتا ہے۔انھوں نے کہاکہ اس چار روزہ تقریب کے دوران کئی اہم پروگرام ہوں گے۔آج کے اس پروگرام کے تئیں طلبہ وطالبات کے جوش وخروش سے بھی ہمیں بہت حوصلہ ملاہے۔
صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے ڈاکٹرسید تقی عابدی نے کہاکہ حالی اورشبلی کے حوالے سے کہاکہ انھوں نے کہاکہ اردوکی فکری وسعت میں اضافہ کیا۔انھوں نے کہاکہ اکیسویں صدی میں انسان خود بینی کے بجائے جہاں بینی کی طرف چلاگیاجواس دور کی سب سے بڑی پریشانی ہے اورحالی نے اپنی شاعری میں بار بار حقوق نسواں کیلئے آواز اٹھائی ہے ۔انھوں نے جہاں مجالس النساء لکھ کر خواتین کے اقدار کو بلند کیاہے وہیں مناجات بیوہ لکھ کر خواتین کے مسائل،حقوق نسواں اورصنف نازک کے تئیں اظہار ترحم پر لوگوں کو برانگیختہ کیاہے۔افتتاحی اجلاس کے مہمان خصوصی پروفیسرخواجہ محمداکرام الدین نے کہاکہ اس پروگرام سے طلبہ وطالبات کو بے حد فائدہ پہنچے گاکیونکہ طلباء میں سرگرمی پیدا کرنے کا سیمینار بہترین ذریعہ ہے۔ پروفیسر خواجہ اکرام نے صدرشعبہ پروفیسرابن کنول اوراساتذہ وطلبہ وطالبات کو مبارکباد کا مستحق قرار دیا۔ اس کے بعدباقاعدہ سیمینار کا آغاز ہوا،جس میں پروفیسرعبدالحق،پروفیسر انور عالم پاشا،پروفیسر محمدنعمان،داکٹرخالد اشرف ،داکٹرابوبکرعباد اور ڈاکٹرمشتاق صدف نے مقالے پیش کئے۔ اس افتتاحی اجلاس کی نظامت4 روزہ جشن اردوکے کنوینرڈاکٹر محمدکاظم نے انجام دیئے۔ دوسرااجلاس پروفیسرصادق او رعبدالعزیزکی صدارت میں منعقد ہوا۔اس سیشن میں ڈاکٹر کوثر مظہری ، ڈاکٹرمشتاق عالم قادری، ڈاکٹرنجمہ رحمانی، ڈاکٹرشاذیہ عمیر،ڈاکٹرعلی اکبر شاہ، ڈاکٹر فاطمہ سمٰواتی نے مقالات پیش کئے۔اس سیمینار میں شعبۂ اردوکے علاوہ عربی اور فارسی کے علاوہ دوسرے شعبوں کے اساتذہ اورطلبانے شرکت کی۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment