Today: Wednesday, September, 19, 2018 Last Update: 10:21 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

وزیر اعظم مغربی بنگال کی ترقی کیلئے پابندعہد


ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتابنرجی نے وزیراعظم نریندرمودی سے ملاقات کے بعد ریاست کیلئے مانگی راحت ،وزیراعظم کی ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی
نئی دہلی، 9 مارچ(یو این آئی) مغربی بنگال کی وزیراعلی محترمہ ممتا بنرجی نے پارلیمنٹ میں وزیر اعظم مسٹرنریندر مودی سے ملاقات کی ۔بعد میں ترنمول کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ کے ایک وفد نے وزیر اعلیٰ کے ساتھ وزیراعظم سے ملاقات کی ۔ اس ملاقات کے دوران مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ نے ریاست کو درپیش قرض کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ قرض کا یہ مسئلہ پچھلی سرکاروں کے کارناموں کا نتیجہ ہے ۔قرض کے اس مسئلے کے نتیجے میں بڑی شرح سود کی ادائیگی کرنی پڑرہی ہے ، جس سے ریاست کے ترقیاتی اخراجات پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔اس موقع پر انہوں نے قرض اور سود کی ادائیگیوں سے راحت کا مطالبہ کیا ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے ریاست کوجاری کئے جانے والے زیر التواسرمائے کا بھی مسئلہ اٹھایا۔اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ وہ وفاقی تعاون باہمی پر پختہ یقین رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ مستقل یہ بات کہتے آرہے ہیں کہ طاقتورریاستیں ہی ایک طاقتور ہندوستان کی تعمیر کرسکتی ہیں ۔اس لئے ریاستوں کو مستحکم کیا جانا چاہئے تاکہ لوگوں کی ترقیاتی ضروریات کی تکمیل کی جاسکے ۔مغربی بنگال اور کولکتہ کو اپنے اور اس خطے کے لئے ترقی کرنی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہم ‘‘ایکٹ فاسٹ’’یعنی تیزی سے کام کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔اس خطے میں باصلاحیت لوگ اور قدرتی وسائل وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کولکتہ اور مغربی بنگال کی ترقی کے لئے پوری طرح سے عہد بستہ ہیں ۔اسی کے پیش نظر مرکزی سرکار نے ٹیکسوں کے پول کا قابل تقسیم سرمایہ منتقل کرنے پررضامندی کا اظہار کیا ہے ۔یہ منتقلی اگلے پانچ برسوں کے دورا ن کی جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی بڑی ریاستوں میں مغربی بنگال کوانتہائی اہم ریاست کی حیثیت حاصل ہے ، اس لئے اسے اس فیصلے سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا۔
سال 2015-16سے 2019-20 تک اگلے پانچ برسو ں کے دوران ٹیکسوں سے حاصل سرمائے کی منتقلی تقریباََ دو لاکھ 90 ہزارکروڑروپے ہوگی جو پچھلے پانچ برس کی مدت کے دوران محض ایک لاکھ چھ ہزارکروڑروپے تھی ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سرمائے میں ایک لاکھ 80ہزارکروڑ روپے یعنی 174 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ٹیکسوں سے حاصل سرمائے میں مغربی بنگال کے حصے میں 7.264 فیصد سے بڑھاکر سات اعشاریہ 324 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے ۔اہم ترین بات یہ ہے کہ مغربی بنگال کو سال 2015-16 میں مالگزاری میں خسارے سے متعلق 8ہزار 449کروڑ روپے کی گرانٹ دی جارہی ہے ۔اس طرح مغربی بنگال کو مالگزاری میں خسارے سے متعلق گیارہ ہزار سات سو کروڑ روپے کی گرانٹ دی جارہی ہے ۔یہ خصوصی گرانٹ حاصل کرنے والی ریاستوں میں صرف کیرالہ اور آندھرا پردیش کی ریاستیں ہی شامل ہیں۔اگلے پانچ برس کے دوران مغربی بنگال کو دئے جانے والے مجموعی وسائل (ٹیکسوں سے حاصل سرمائے کی منتقلی اور ایف سی گرانٹ ) کی مقدار دو لاکھ پانچ ہزار نوسو کروڑ روپے ہوگئی ہے ، جو پچھلے پانچ برس کے مقابلے 174فیصد زائدہے ۔ ا س موقع پر وزیر اعظم نے محترمہ ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ کے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ مغربی بنگال کی ترقی کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جائے گا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment