Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 01:03 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

قومی ترانہ کی توہین پر معافی نہ مانگنے اور ہنگامہ آرائی پر تلنگانہ اسمبلی سے تلگودیشم ارکان معطل

 

حیدرآباد9مارچ(یو این آئی) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے بجٹ سیشن کے دوسرے دن کی کارروائی کے موقع پر قومی ترانہ کی توہین کا مسئلہ چھایا رہا۔ریاستی وزیر پارلیمانی امور ہریش راو نے ایوان کی کاروائی کی شروعات کے ساتھ ہی اس مسئلہ کو اٹھایا اور تلگودیشم کے ارکان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جنہوں نے تلنگانہ اسمبلی کے بجٹ سیشن کی شروعات کے موقع پر گورنر کے خطاب اور قومی ترانہ بجائے جانے کے دوران ہنگامہ آرائی اور گڑبڑ کی تھی۔اس موقع پر حزب اختلاف کے رہنما جاناریڈی نے کہا کہ ارکان کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی جو ویڈیو کلپنگس دکھائی گئی ہیں وہ ادھوری ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مکمل اور غیر ایڈٹ کلیپنگس دکھائی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ قومی ترانہ بجائے جانے کے دوران ارکان کی گڑبڑ کو ان ویڈیو کلپنگس میں نہیں دکھایا گیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ تمام کو قومی ترانہ کا احترام کرنا چاہئے ۔اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور ہریش راؤ نے کانگریس کے ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ ایوان میں قومی ترانہ کے معاملے پر سیاست نہ کرے ۔انہوں نے ایوان سے غیر مشروط معذرت خواہی کرنے کا تلگودیشم ارکان سے مطالبہ کیا جس پر تلگودیشم کے ارکان نے زبردست ہنگامہ آرائی شروع کردی جس پر تلگودیشم کے دس ارکان کو مکمل بجٹ سیشن کیلئے معطل کردیا گیا ۔مسٹر ہریش راو نے اسمبلی میں کہا کہ گورنر کے خطاب کے دورن ہنگامہ آرائی کرنے والے تلگودیشم کے ارکان سے پہلے اس معاملے پر معافی مانگنے کی خواہش کی گئی تھی لیکن ان ارکان نے معافی نہیں مانگی جس پر ان کو ایوان سے معطل کر دیا گیا ۔اس موقع پر تلنگانہ اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما جانا ریڈی نے کہا کہ بجٹ سیشن کی شروعات کے موقع پر قومی ترانہ بجائے جانے پر ہنگامہ آرائی کرنا مناسب نہیں ہے ۔ اپنی معطلی سے قبل تلگودیشم کے ارکان نے اسمبلی میں ان پر مبینہ طور پر بعض ارکان کی جانب سے حملہ کرنے کی شکایت کی ۔ان ارکان نے ایوان میں نعرے بازی کی اور ریاستی وزیر ٹی سرینواس یادو کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا جنہوں نے حال ہی میں تلگودیشم چھوڑ کر تلنگانہ کی حکمران جماعت ٹی آرایس میں شمولیت اختیار کی تھی جس کے بعد وزیراعلی نے انہیں ریاستی کابینہ میں جگہ دی۔ان ارکان نے ایوان میں وزیر پارلیمانی امور ہریش راو کی تقریر کے دوران مداخلت کی اور ہنگامہ آرائی جاری رکھی جس پر ایوان میں گڑبڑکو دیکھتے ہوئے اسپیکر مدھوسدن چاری نے دس منٹ کے لیے ایوان کی کاروائی کو ملتوی کردیا لیکن دوسری مرتبہ جب ایوان کی کاروائی شروع ہوئی تو ایوان میں صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی کیونکہ تلگودیشم کے ارکان نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔اس احتجاج کو دیکھتے ہوئے وزیرپارلیمانی امور ہریش راو نے تلگودیشم کے دس ارکان کو ایوان سے مکمل بجٹ سیشن تک معطل کرنے کی قرارداد پیش کی جس کو اسپیکر نے منظور کرتے ہوئے ان ارکان کو معطل کردیا۔گورنر کے خطاب کے دوران تلگودیشم کے ارکان کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے معاملے پر وزیراعلی کے چندرشیکھر راو نے کہا کہ ان احتجاجی ارکان نے ایوان میں نعرے بازی کی تھی۔ ایوان میں تمام ارکان کو اس کے وقار کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے تمام ارکان پر زور دیا کہ وہ تلنگانہ کی ترقی کے لیے تعاون کریں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت ایک ماہ تک کسی بھی مسئلہ پر مباحث کروانے کے لیے تیار ہے لیکن یہ مباحث تعمیری انداز میں ہونے چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ایوان کی کاروائی کوئی بھی نہیں روک سکتا۔انہوں نے گورنر کے خطاب کے دوران ان پر خطاب کی کاپیاں پھاڑ کر پھینکنے کے معاملے پر سوا ل کیا اور کہا کہ گورنر پر کس طرح کاغذات پھاڑ کر پھینکنے جاسکتے ہیں۔انہوں نے حزب اختلاف تلگودیشم کے ارکان سے سوال کیا کہ قومی ترانہ بجائے جانے کے موقع پر کس طرح ہنگامہ آرائی کی جاسکتی ہے ۔مسٹر راو نے کہا کہ وہ گزشتہ چالیس سال سے سیاست میں ہیں۔یہ ارکان اسمبلی کی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے نہیں آئے ہیں بلکہ کاروائی میں جان بوجھ کر مداخلت پیداکرنے اور رکاوٹ کے لیے آئے ہیں۔قبل ازیں اسپیکر مدھو سدن چاری کے چیمبر میں تمام سیاسی جماعتوں کے فلور لیڈرس کی میٹنگ ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں ہفتہ کو اسمبلی میں پیش کردہ گورنر کے خطاب کے دوران حزب اختلاف کی جماعتوں کے ارکان کی جانب سے کی گئی ہنگامہ آرائی اور گڑ بڑ کے واقعات کا سخت نوٹ لیا گیا ۔تمام فلور لیڈرس اور اسپیکر نے گڑ بڑ کے واقعات کے میڈیا فوٹیج کا بھی مشاہدہ کیا ۔
گورنر کے خطاب اور قومی ترانہ بجاتے وقت احتجاج کرتے ہوئے قومی ترانہ کی توہین کرنے والے حزب اختلاف کی جماعتوں کے ارکان کے خلاف کارروائی پر غور کیا گیا ۔گورنر کے خطاب کے دوران حزب اختلاف جماعتوں کے ارکان نے بنچوں پر چڑھ کر احتجاج کیا تھا ۔ ایک گھنٹہ تک فلور لیڈرس کے ساتھ میٹنگ منعقد کی گئی جس کے بعد ان احتجاجی ارکان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ تمام فلور لیڈرس نے اسپیکر پر چھوڑ دیا ۔بجٹ سیشن کے دن گورنر کے خطاب کے موقع پر پیش آئے گڑ بڑ کے واقعات کے بعد بزنس اڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ میں ان ارکان کے خلاف کارروائی کرنے کی قرار داد پیش کی گئی تھی ۔ اس قرار داد کی تلگودیشم کے سوا تمام جماعتوں نے حمایت کی تھی ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment