Today: Saturday, November, 17, 2018 Last Update: 06:53 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

آندھرا پردیش کو راحت پیکیج دینے کے مطالبہ کو لے کر ہنگامہ

 

نئی دہلی، 3 مارچ (یوا ین آئی) آندھرا پردیش کو راحت پیکیج اور خصوصی درجہ دینے کے مطالبے کے سلسلے میں آج راجیہ سبھا میں جم کر ہنگامہ کیا گیا اور نعرے لکھی ہوئی تختیاں دکھائی گئیں جس پر حکومت نے کہا کہ وہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی ترقی کے لئے پابند عہد ہے ۔کانگریس کے جیسودداس سیلم نے وقفہ صفر کے دوران یہ معاملے اٹھاتے ہوئے کہا کہ تقسیم کے بعد آندھرا پردیش کی حالت خراب ہورہی ہے اور مرکزی حکومت اس پر دھیان نہیں دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخاب کے دوران بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) اور وزیراعظم نریندر مودی نے آندھراپر دیش کو خصوصی درجہ دینے اور راحت پیکیج دینے کی یقین دہانی کرائی لیکن حکومت اب اسے پورا نہیں کر رہی ہے ۔کانگریس کے لیڈر نے کہا کہ آندھرا پردیش سے متعلق ایکٹ میں ریاست کو پانچ سال تک خصوصی درجہ دینے کا التزام رکھا گیا تھا۔ مسٹر مودی نے انتخاب کے دوران کہا کہ پانچ نہیں دس سال خصوصی درجہ دیا جائے گا اور اگر ضرورت ہوئی تو اس سے آگے بھی دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئے نو مہینے گزرچکے ہیں لیکن اس سمت میں کچھ نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی خطبہ میں اس کا ذکر تک نہیں ہے ۔کانگریس کے ہنو منت راؤ اور آندھرا پردیش کے رکن ریاست کو راحت پیکیج دینے کا مطالبہ کرنے والی تختی اٹھا لی اور حکومت سے جواب کا مطالبہ کرنے لگے ۔ مسٹر سیلم اور راؤ ا اور ایک دیگر اسپیکر کی کرسی کے سامنے آگئے ۔ جنتا دل متحدہ، مارکسی کمیونسٹ پارٹی اور سماج وادی پارتی کے ارکان بھی ان کی حمایت میں کھڑے ہوگئے ۔ پارلیمانی امور کے وزیر مملکت مختار عباس نقوی نے کہا کہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ ریاستوں کے تئیں حکومت کو اپنے وعدے کو پورا کرنے کے عہد کا پابند ہے ۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اس سے مطمئن نہیں ہوئے اور شور شرابہ کرنے لگے ۔ ڈپٹی چیرمین پی جے کورین نے ایوان میں اراکین سے بار بار خاموش رہنے کی اپیل کرتے رہے اور انہوں نے بی جے پی کے ترون وجے کا نام پکارا۔ لیکن شور ہونے کی وجہ سے وہ بول نہیں پائے اور انہوں نے زور زور سے بولنے والے اراکین پر ایک تبصرہ کردیا۔ اس سے مشتعل کانگریس کے آندھرا پردیش سے رکن ہنومنت راؤ اور جیسوداس سیلم چیرمین کی کرسی کے سامنے آگئے ۔دریں اثنا جنتا دل متحدہ کے شرد یادو نے کہا کہ حکومت کو اندھرا پردیش اور گتلنگانہ کے اراکین کی بات سننی چاہئے ۔ یہ دونوں ریاست کے لوگوں کی بیچینی ہے جو ایوان میں جھلک رہی ہے ۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے بھی کہا کہ حکومت کو اپنے وعدے پورے کرنے چاہئے اور لوگوں کے دکھ درد کو سمجھنا چاہئے ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment