Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 10:27 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اجے ماکن کو مشکل حالات میں ملی دہلی کانگریس کی کمان

 

طویل سیاسی تجربات کے حامل ماکن پر پارٹی ہائی کمان نے جتایا بھروسہ* تنظیم کو مضبوط کرنے اور نئے طریقے سے کانگریس کو کھڑی کرنے کی ذمہ داری* نوجوان لیڈرشپ کو آگے لانے کاامکان
نثاراحمدخان
نئی دہلی،2مارچ (ایس ٹی بیورو) لوک سبھا الیکشن اور ریاستی الیکشن میں ملنے والی شکست کے بعد کانگریس میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی جارہی ہے۔ کانگریس نے کئی ریاستوں کے سربراہ کی تقرری کی ہے جبکہ دہلی میں اروندر سنگھ لولی کی جگہ اجے ماکن کو نیا صدر بنایاگیاہے۔حالیہ اسمبلی الیکشن میں کانگریس کو ایک بھی سیٹ پر کامیابی نہیں ملی تھی، جس کے بعد اروندر سنگھ لولی نے اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیاتھا۔ حالانکہ دوروز قبل ہی میڈیا میں خبریں آگئی تھیں کہ پارٹی کی قومی صدر سونیاگاندھی نے اجے ماکن کے نام کو منظوری دے دی ہے، مگر سرکاری طور پر ان کے نام کا اعلان آج کیا گیاہے۔ تاہم 51سالہ اجے ماکن کیلئے یہ ذمہ داری بہت آسان نہیں ہے کیونکہ انہیں ایسے وقت میں یہ ذمہ داری ملی ہے جب پارٹی مشکل مرحلے سے گذر رہی ہے اور دہلی میں تنظیم کو کھڑاکرنا ان کیلئے چیلنج سے کم نہیں ہے۔ دہلی میں ایک طرح سے ختم ہورہی کانگریس میں نئی روح پھونکنی ہوگی جبکہ کانگریس کے ووٹرس کا عام آدمی پارٹی میں شفٹ ہوجانے کے بعد انہیں پارٹی سے ایک بار پھر جوڑنا آسان نہیں ہوگا۔ کہاجارہا ہے کہ اجے ماکن کو دہلی میں واپس لانے کافیصلہ پارٹی کے قومی نائب صدر راہل گاندھی کے اشاروں پر کیاگیا ہے اور ان کے پسندیدہ لوگوں کو بڑی ذمہ داریاں دی ہیں۔ ماکن سے امید ہے کہ وہ نوجوان لیڈر شپ کو آگے لانے کیلئے بھی کام کریں گے۔

دہلی پردیش سربراہ کے طور پر اجے ماکن کی واپسی اسی وقت طے مانی جا رہی تھی، جب انہیں دہلی اسمبلی الیکشن کیلئے تشہیری کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ حالانکہ یہ بھی قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ اس بار کسی مسلم لیڈر کو ریاستی صدر کی ذمہ داری دی جاسکتی ہے کیونکہ 2013 کے اسمبلی الیکشن میں مسلمانوں نے مکمل طورپر کانگریس کا ساتھ دیاتھا، جبکہ اس سے قبل بھی مسلمان ہمیشہ کانگریس کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔ اس طر ح سے ریاستی صدر کیلئے کئی مسلم ناموں پر غور بھی کیا جارہا تھا، مگر راہل گاندھی کے پیمانے پر اجے ماکن کھرے اترے۔ حالیہ اسمبلی الیکشن میں کانگریس کو ایک بھی سیٹ پر جیت نہ ملنے کے بعد مسٹرماکن کو پردیش کانگریس کمیٹی کاسربراہ بنائے جانے کا فیصلہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی ریاست کی سیاست میں طویل فاصلے طے کرنے کی تیاری کر رہی ہے اور اس شخص کو کمان دینا چاہتی ہے جو عوام میں بھی اپنی بات بہتر طریقے سے رکھ سکے اور عوام بھی اس سے بخوبی واقف ہوں۔ اجے ماکن کو سیاست کا طویل تجربہ ہے۔ 1964میں پیدا ہوئے اجے ماکن نے طلبہ یونین سے اپنے کیریئر کی شروعات کی تھی اور 1985-86میں دہلی یونیورسٹی کے یونین صدر منتخب کئے گئے تھے۔ اس کے بعد ماکن نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا اوراین ایس یوآئی اور کانگریس میں ریاستی سطح پر کئی ذمہ داریاں انجام دیں۔ دہلی میں1993میں ہوئے پہلے اسمبلی الیکشن میں انہوں نے راجوری گارڈن سے قسمت آزماتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔اس حلقے سے وہ مسلسل تین بار ایم ایل اے منتخب ہوئے اور اس دوران وہ ریاستی وزیر بھی بنائے گئے۔ اس کے علاوہ وہ دہلی کی وزیراعلیٰ شیلادکشت کے پارلیمنٹری سکریٹری بھی رہے جبکہ انہیں 2003 میں بہترین ایم ایل اے کیلئے ایوارڈ بھی سرفراز کیاگیاجبکہ 2003میں اسمبلی اسپیکر بھی بنائے گئے۔ 2004 میں ہوئے لوک سبھا الیکشن میں نئی دہلی پارلیمانی حلقہ سے جیت حاصل کرکے پارلیمنٹ پہنچے۔ 2009میں دوبارہ نئی دہلی سے وہ ممبرپارلیمنٹ بنے۔ 2006میں وہ وزیر مملکت بنائے گئے جبکہ 2011میں انہیں ترقی ملی اور انہیں آزادی چارج دیاگیا۔ اس طرح سے اجے ماکن کو سیاست کا طویل تجربہ ہے اور وہ دہلی کے عوام کے نبض سے بھی واقف ہیں۔حالانکہ دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ کیا اجے ماکن دہلی ریاستی صدر کے طور پر اپنی صلاحیت کا لوہا منوانے میں مشکل حالات میں پارٹی ہائی کمان کی امیدوں پر کھرا اترنے کامیاب ہوپاتے ہیں یانہیں۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment