Today: Thursday, November, 15, 2018 Last Update: 04:01 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

زندگی جی رہے کرداروں کی نفسیاتی کیفیات کو من و عن کینوس پر اتارنا فن کار کا کام ہے


چار روزہ ادبی اجتماع’نئے پرانے چراغ‘کے تیسرے دن تخلیقی اجلاس میں پروفیسر معین الدین جینا بڑے کا اظہار خیال

نئی دہلی،2؍مارچ(پریس ریلیز)آج اردو اکادمی ، دہلی کاچار روزہ ادبی پروگرام بہ عنوان ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کے تیسرے دن تحقیقی و تنقیدی اجلاس حسبِ پروگرام صبح ساڑھے دس بجے شروع ہوا جس کی صدارت ڈاکٹر رضا حیدر اور ڈاکٹر ابوبکر عباد نے کی جب کہ نظامت کے فرائض عینین علی حق نے ادا کیے۔ پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے سکریٹری اردو اکادمی انیس اعظمی نے دو روز سے چل رہے پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے فرمایا کہ22 برس سے مسلسل جاری نئے پرانے چراغ کے نئے چراغ اب صدارت فرمارہے ہیں اور بہت سے نئے چراغ اس کارواں میں شامل ہوتے جارہے ہیں اور اس میں جس قدر اضافہ ہورہا ہے وہ حوصلہ افزا ہے اور یہی ہے یہ دوروز سے بڑھ کر سہ روزہ ہوا اور اس سال اسے چار روزہ کردیا گیا ہے۔ جس قدر اس پروگرام کی مقبولیت بڑھ رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے ایسالگتا ہے کہ منتظمین اکادمی کو اسے پانچ روزہ کرنا پڑے گا۔ بعد ازاں مقالے آغاز ہوا اور ناظمِ اجلاس نے سب سے پہلے علام الدین ( جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے ’’مرأۃالعروس کا تجزیہ‘‘ جب کہ جواہر لعل نہرو کے اسکالر عبدالرحیم نے ’’کلامِ اقبال کے عربی مصادر‘‘، دہلی یونیورسٹی کے محمد ارشد نے ’’علی گڑھ تحریک اور نظیر احمد‘‘، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شاہنواز فیاض نے ’’تفسیر غالب اور گیان چند جین‘‘، جواہر لعل نہرو کے اشفاق احمد عمر نے ’’نثرغالب کی اہمیت اور معنویت‘‘ ، جواہر لعل نہرو کے ہی محمد منظور عالم نے ’’ڈپٹی نذیر احمد حیات و خدمات‘‘ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے محمد یوسف وانی نے ’’کلامِ اقبال میں تصورِ مرگ‘‘، جواہر لعل نہرو کے فاروق اعظم نے ’’مولوی نذیراحمد اور عربی زبان‘‘، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے محمدسراج اللہ نے ’’ڈپٹی نذیر احمد اور ان کی اہمیت‘‘، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی محترمہ صدف پرویز نے ’’ مسجد قرطبہ کا تجزیاتی مطالعہ‘‘ اوردہلی یونیورسٹی کی اسکالر سفینہ نے ’’غالب شکن کی غالب شناسی‘‘ پر اپنے مقالات کی قرأت کی۔ مقالات کے بعد صدارتی تقریر کرتے ہوئے ڈاکٹر رضا حیدر نے کہا کہ نئے اور پرانے چراغ میں شامل ہونا میرے لیے فخر کا باعث ہوتا ہے ۔ حق تو ہے کہ نئے اور پرانے چراغ کے دوران جتنا بڑا ادیبوں کا اجتماع ہوتا ہے پوری دنیا میں یہ ایک مثال ہے اور یہ مثال یقیناًاردو اکادمی، دہلی ہی قائم کرسکتی ہے۔ ڈاکٹر رضا حیدر نے تمام مقالہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ نہایت وقیع موضوعات پر ریسرچ اسکالرز نے جس طرح کے مقالے پیش کیے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو اکادمی، دہلی کی بائیس سالہ خدمات ضائع نہیں ہوئیں۔ ڈاکٹر رضا حیدر نے غالب اور اقبال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی حیات و خدمات پر شائع ہونے والی دیگر زبانوں کی کتابوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ نوجوان اسکالرز کو غلطیوں سے سبق حاصل کرکے سبق حاصل کرنا چاہیے اور آج کے اسکالر یہ کام بخوبی انجام دے رہے ہیں اس کا اندازہ ان کے پرچوں کو سن کر ہوا اور میں ان سب کو مبارکباد دیتا ہوں۔ بعد ازاں ڈاکٹر ابوبکر عباد نے اردو اکادمی کے جملہ اراکین کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اردو اکادمی، دہلی صرف زبان و ادب کا فروغ نہیں کرتی بلکہ ناقدوں، افسانہ نگاروں ، شاعروں ، موسیقاروں، تبصرہ نگاروں یہاں تک کہ صدور و ناظمین کی بھی تربیت کرتی ہے اور سکریٹری انیس اعظمی بشمول ان کے رفقاء یہ کام برسوں سے انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر عباد نے نہایت صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے اس اجلاس میں پڑھے گئے مقالوں میں استعمال کیے گئے متن اور نہایت خوبی سے پیش کرنے کے حوصلے کی بھی داد دی۔ بعد از مجموعی رائے کے ڈاکٹرعباد نے اس اجلاس میں پڑھے گئے تمام مقالات پر الگ الگ رائے زنی کی اور ریسرچ اسکالرز کی توصیف کی۔ ڈاکٹر عباد نے مزید کہا کہ یہاں تین مخصوص موضوعات غالب، اقبال اور ڈپٹی نذیر احمد پر مقالے پیش کیے گئے لیکن حیرت انگیز طور پر تین موضوعات پر گیارہ پرچے سننے کے بعد بھی تمام پرچے الگ الگ تھے اور ان تین بڑی شخصیتوں کو تمام اسکالرز نے اپنے اپنے کینوس پر الگ الگ وضع قطع کے ساتھ پیش کیا جو حسنِ اتفاق ہے۔دوپہر کے کھانے کے بعد تخلیقی اجلاس کی صدارت پروفیسر عراق رضا زیدی اور پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے فرمائی۔ اس نشست میں کل آٹھ افسانے پڑھے گئے ۔ سب سے پہلا افسانہ محترمہ صالحہ صدیقی نے ’’رخصتی ‘‘ کے عنوان سے پڑھا جب کہ عزیر احمد نے ’’ممتا‘‘، پروفیسر ابن کنول نے صرف ’’ایک دن کے لیے‘‘، پرویز شہریار نے ’’صدرجمہوریہ کا بہادری انعام‘‘ ، نورین علی حق نے ’’پنجرے میں قیدنیند‘‘، ڈاکٹر طاہرہ منظور نے ’’ابن مریم ہوا کرے کوئی‘‘اور ایم۔ رحمن نے ’’سنپولا‘‘ کے عنوان سے اپنا افسانہ پیش کیا۔ افسانوں کے بعد عراق رضا زیدی نے ان افسانوں پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اردو اکادمی کی یہ کوشش کہ وہ نئے اور پرانے چراغوں کی روشنی کو ملاکر اردو کے مستقبل کو اور زیادہ تابناک بنائے، ایک مثبت قدم ہے اور اس کی توصیف کی جانی چاہیے۔ موصوف نے جملہ افسانہ نگاروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس افسانے فرانس اور انگلستان سے آئے تھے اور اب ایسا لگتا ہے کہ اب ہماری کہانیاں ان افسانوں سے آگے بڑھ چکی ہیں۔ پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے اپنے خیالات کا یوں اظہار کیا کہ میں ہربرس اس نئے پرانے چراغ کی محفل کے برپا ہونے کا انتظار کرتا ہوں کیوں کہ میں مانتا ہوں کہ اردو زبان کی مٹی زرخیز ہے اور اس میں نئے اور صحت مند پودے اگیں گے اور اللہ کا شکر ہے کہ مجھے مایوسی نہیں ہوئی۔ آج کی شام جو کہانیاں میں نے سنیں خاص طور پر نئی نسل کے افسانہ نگاروں کی کہانیاں وہ بہت حد تک اطمینان بخش ہیں۔ فنکار مسئلے کو انسانی بصیرت کا صرف ایک سیاق فراہم کرتا ہے ، ان کا حل نہیں پیش کرتا ۔ زندگی میں مسائل ہیں اور ان کو حل کرنے کی کوششیں بھی ہورہی ہیں اور اس کے لیے ادارے بھی موجود ہیں۔ فنکار تو صرف مسائل کی نشاندہی کرتا ہے فن کار کا کام ہے کہ زندگی جی رہے کرداروں کی نفسیاتی کیفیات کو من و عن کینوس پر اتارے ، اسے اپنے قوتِ متخیلہ کے خراد سے گزارے۔

 

...


Advertisment

Advertisment