Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 12:38 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

تو کیا ٹوٹ جائے گی عام آدمی پارٹی؟

 

پارٹی کی ہائی لیول کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم،پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کو پی اے سی سے ہٹانے کی تیاری، سنجے سنگھ تلاش رہے ہیں اپنے لئے زمین،کمار وشواس چاہتے ہیں یوپی کی کمان
نثاراحمدخان

نئی دہلی، 28فروری (ایس ٹی بیورو) دہلی کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد عام آدمی پارٹی میں اندر خانہ جنگ چھڑ گئی ہے، اس سے سوال پیدا ہوگیا ہے کہ کیا اب عام آدمی پارٹی گروپ بازی میں بکھر جائے گی ۔پرشانت بھوشن کے باغیانہ تیور کے بعد ایک اور انصاف پسند اور سیکولر لیڈر یوگیندر یادو کو ہٹانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ دراصل پارٹی کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں گروپ بازی کھل کر دیکھنے کو ملی اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔حالانکہ پارٹی کی قومی مجلس عاملہ نے پارٹی چیف اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کو پارٹی کے سیاسی امور کی کمیٹی کو نئے سرے سے تشکیل کرنے کا حق دے دیا گیاہے۔ اس بات کا مکمل امکان ہے کہ پارٹی کی پولیٹیکل افیئرس کمیٹی (پی اے سی) جب نئے سرے سے بنے گی تو پارٹی کے سینئر لیڈر یوگیندر یادو کی چھٹی ہو جائے گی۔ پارٹی کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ جب سے یوگیند ر یادو نے کجریوال کے عمل پر انگلی اٹھاتے ہوئے پارٹی میں اندرونی جمہوریت نہ ہونے کو لے کر خط لکھا ہے، اس کے بعد سے ان کے اور کچھ سینئر لیڈروں میں پہلے جیسے رشتے نہیں بن پائے ہیں۔ دہلی الیکشن میں یکطرفہ جیت کے بعد پہلی بار ’آپ‘ کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ جمعرات کو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق قومی مجلس عاملہ کے ایک گروپ اور یوگیندر یادو گروپ کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ یوگیندر یادو کے مخالفین نے دہلی الیکشن میں ان کے کردار کو لے کر ہی سوال کھڑے کردیئے۔ پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے کہا کہ کچھ ممبران کو لگتا ہے کہ انہوں نے امیدواروں کے انتخاب کو لے کر بے وجہ تنقید کی تھی اور دوسری ریاستوں میں الیکشن لڑنے کو لے کر میڈیا میں بیان دیا تھا۔
انگریزی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی عاملہ کی دوسری میٹنگ میں جمعہ کو یوگیندر یادو کو نہیں بلایا گیا۔ اسی میٹنگ میں اروند کجریوال کو پی اے سی کو پھر سے قائم کرنے کیلئے کجریوال کو مکمل اختیار دینے کی تجویز لائی گئی۔ جب یوگیندر یادو سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’پارٹی کے داخلی معاملات کو لے کر میں میڈیا میں تبصرہ نہیں کرنا چا ہتا ہوں۔ تاہم دوسرے لیڈران نے بتایا کہ قومی مجلس عاملہ میں پارٹی میں داخلی جمہوریت اور دہلی الیکشن کے دوران امیدواروں کے اخلاق کو لے کر بحث ہوئی۔ ذرائع کے مطابق جمعرات کی صبح قومی مجلس عاملہ میں اروند کجریوال نہیں آئے اور پارٹی کے قومی سربراہ کا عہدہ چھوڑنے کی تجویز بھجوا دی۔اس کے علاوہ نائب وزیراعلیٰ اور کجریوال کے سب سے قریبی منیش سسودیا نے بھی میٹنگ میں شرکت نہیں کی تھی۔ اس کو لے کر میٹنگ میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیااور ایگزیکٹیو کمیٹی نے ان کے استعفیٰ کی تجویز کو مسترد کر دیا۔ بعد میں قومی مجلس عاملہ کے کچھ ممبران اروند کجریوال سے ملنے گئے اور استعفیٰ نہ قبول کرنے کی بات انہیں بتائی۔ جمعہ کو ممبران کی میٹنگ دوبارہ ہوئی تو ایک ایسی تجویز لائی گئی جس سے کجریوال کی تنقید کرنے والوں کو باہر کا راستہ دکھایاجاسکے۔ کمیٹی میں یہ تجویز پیش کی گئی پی اے سی کو دوبارہ تشکیل دینے کا مکمل اختیار پارٹی سربراہ اروند کجریوال کو دیاجائے، چنانچہ اس تجویز کو منظور کرلیاگیا۔ حالانکہ دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ کیا اروند کجریوال واقعی اپنے سینئر ساتھی یوگیندر یادو اور ان کے گروپ کو پی اے سی سے باہر کا راستہ دکھاتے ہیں یا پھر ایک بار پھر وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی حکمت عملی پر عمل کریں گے۔ بہرحال یہ بات تو طے ہے کہ اگر یوگیندر یادو کو پی اے سی سے باہر کیاجاتا ہے تو پھر ایک گروپ ان کی حمایت میں کھڑا ہوجائے گا کیونکہ انہیں ایک سیکولر اور انصاف پسند رہنما کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اگر ’’آپ‘‘ ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کا شکار ہوتی ہے تو عام آدمی کے خوابوں کا کیاہوگا؟ اتنا تو طے ہے کہ اگر ’’آپ‘‘ بکھری اور دہلی کے ان عام لوگوں کے خواب بھی بکھرجائیں جنہوں نے بڑی امیدوں اور آرزوؤں سے کجریوال کوتاریخی کامیابی دلوائی ہے۔ دوسرے اگر ایسا ہوا و ایک بڑا سیاسی سانحہ بھی ہوگا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment