Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 12:37 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

مفتی سعید کی تقریب حلف برداری کیلئے اسٹیج بالکل تیار


وزیر اعظم مہمان خصوصی ہونگے ، سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات
جموں، 28 فروری (یو ا ین آئی ) جموں وکشمیر کے نئے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید اور اُن کی کابینہ کے وزراء کی تقریب حلف برداری اتوار کو دن کے گیارہ بجے جموں یونیورسٹی کے جنرل زور آور سنگھ آڈیٹوریم میں منعقد ہونے جارہی ہے جس کیلئے اسٹیج بالکل تیار ہے ۔ تقریب حلف برداری میں وزیر اعظم نریندر مودی بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کررہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ اور متعدد مرکزی وزراء کی بھی تقریب حلف برداری میں شرکت متوقع ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی وزراء ڈاکٹر جتیندر سنگھ، منوہر پاریکر، سمرتی ایرانی کے علاوہ رام مادھو اور رام لال کی تقریب میں شرکت تقریباً طے ہے ۔ذرائع کے مطابق مفتی محمد سعید نے کانگریس صدر سونیا گاندھی، سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ، جے ڈی یو کے صدر شرد یادو اور کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کو اپنی تقریب حلف برداری میں مدعو کیا ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جموں وکشمیر کی انتخابی تاریخ میں پہلی مرتبہ انتہائی حساس مانی جانے والی اس ریاست میں حکومت کا حصہ بننے جارہی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ مفتی محمد سعید اور اُن کی کابینہ کے 25 وزیر اپنے عہدوں کا حلف لیں گے ۔ اِن میں سے 13 پی ڈی پی جبکہ 12 بی جے پی سے ہوں گے ۔ جموں یونیورسٹی کے ذرائع نے بتایا کہ تقریب کے سلسلے میں انتظامات کو حتمی شکل دی جارہی ہے ۔ جنرل زور آور سنگھ آڈیٹوریم کے انچارج سنجے شرما نے یو این آئی کو بتایا کہ تقریب کے سلسلے میں یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے تیاریاں زوروں پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی کی ذمہ داری ریاستی پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے سنبھال لی ہے جبکہ تقریب کے مقام کو سیل کردیا گیا ہے ۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ تقریب حلف برداری کے مقام کے اردگرد تین دائروں والی سیکورٹی کا بندوبست کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کی تقریب میں شرکت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سرمائی دارالحکومت جموں اور خاص طور پر آڈیٹوریم اور یونیورسٹی کیمپس کے اردگرد سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسپیشل پروٹکشن گروپ کی ایک ٹیم نے جنرل زور آور سنگھ آڈیٹوریم کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے ۔ایک سینئر پولیس افسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس کی قیادت میں ایس پی جی کی ایک ٹیم پہلے ہی یہاں پہنچی ہے جس نے یونیورسٹی کے احاطے اور تقریب حلف برداری کے مقام کو سیل کردیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیم نے یونیورسٹی کے مختلف مقامات کا معائنہ کرکے اپنی نفری تعینات کردی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیم نے کیمپس کے اردگرد سیکورٹی ڈرل مکمل کی ہے اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو تقریب کے مقام کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔
ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی انتظامات کے تحت آڈیٹوریم کی طرف جانے والے تمام راستوں کو اتوار کے روز سیل کردیا جائے گا۔ ایک سیکورٹی افسر نے بتایا کہ ٹریفک ایڈوائزری جاری کی گئی ہے اور کل صرف سیکورٹی اور انتہائی اہمیت رکھنے والے افراد کی گاڑیوں کو ہی تقریب کے مقام کی طرف جانے کی اجازت دی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں رخصت ہونے والے سال کے نومبر اور دسمبر میں اسمبلی انتخابات منعقد کئے گئے تھے جس میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملی تھی اور ریاست میں معلق اسمبلی وجود میں آئی تھی۔ریاست جموں وکشمیر میں حکومت بنانے کیلئے کسی بھی جماعت کو 87 میں سے 44 سیٹیں درکار تھیں۔ اگرچہ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد نیشنل کانفرنس ، کانگریس، سی پی آئی (ایم)، پی ڈی ایف اور ایک آزاد ممبر اسمبلی انجینئر شیخ عبدالرشید نے پی ڈی پی کو ریاست میں حکومت تشکیل دینے کیلئے غیر مشروط حمایت دینے کی پیشکش کردی تھی تاہم پی ڈی پی نے نیشنل کانفرنس کی پیشکش کو ٹھکرادیا تھا جبکہ دیگر پارٹیوں کی حمایت سے متعلق پیشکشوں پر رائے زنی کے بجائے خاموشی اختیار کی تھی۔اصل میں پی ڈی پی نے بی جے پی کو ساتھ ملانے کا من بنالیا تھا جس سے عملی جامہ پہنانے کیلئے دونوں جماعتوں نے انتخابی نتائج سامنے آنے کے ساتھ ہی پہلے غیر رسمی اور پھر رسمی مذاکرات کئے ۔ قریب اڑھائی مہینے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد دونوں جماعتوں نے چند روز قبل جموں وکشمیر میں ایک مخلوط حکومت تشکیل دینے پر اتفاق کیا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment