Today: Monday, November, 19, 2018 Last Update: 10:59 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

ملک کو غلامی کی سوچ سے نکالنے کا چیلنج مولانا آزاد نے قبول کیا

 

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقدہ انٹر نیشنل ایجوکیشن کانفرنس میں مرکزی وزیر نجمہ ہپت اللہ کا بیان
محمداحمد
نئی دہلی ،24فروری ( ایس ٹی بیورو) جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی میں انٹرنیشنل ایجوکیشن کانفرنس 2015 سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیربرائے اقلیتی امور ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ یہ میرے لئے نہایت ہی مسرت اور اعزاز کی بات ہے کہ آج میں اس اہم انٹرنیشنل ایجوکیشن کانفرنس میں شرکت کر رہی ہوں۔انہوں نے اس نوعیت کی انفرادی کانفرنس کے انعقاد کیلئے سبھی کو مبارکباد پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آزادی حاصل کرنے کے بعد ہمارے سامنے مخالف ماحول میں قومی تعمیر کے مشکل عمل کو انجام دینا تھا۔ تعلیم کے میدان میں ہمیں بہت سی مشکلات سے دو چار ہونا پڑا- نوآبادیاتی غلامی کی سوچ سے باہر نکل کر ایک ایسے نظام کی تعمیر کرنا جو ہمارے ترقیاتی تقاضوں سے ہم اہنگ ہو۔ آزادی کے وقت ہمارے ملک میں 20 یونیورسٹیاں اور 500 کالجز تھے جن میں 2.1 لاکھ طالب علم پڑھتے تھے۔ ہمیں اس بنیاد پر ایک نئے قومی نظریہ کی تعمیر کو انجام دینا تھا۔ جنگ آزادی کے عظیم مجاہد اور ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد نے اس چیلنج کو قبول کیا اور تعلیمی پسماندگی، قدامت پسندی اور نا اتفاقی کیخلاف ایک مہم کا آغاز کیا جس کا ہمارے ملک کو اس وقت سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ مولانا آزاد کا ماننا تھا کہ ہمیں آزادی کا استعمال سماجی بہبود کو فروغ دینے ، اپنے ذہنوں سے توہمات کو دور کرنے اور مذہبی جنونیت کے خاتمہ کیلئے کام کرنا چاہئے ۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں میں ہم نے تعلیم کے میدان میں درپیش بڑے چیلنجوں سے دو دو ہاتھ کئے ہیں۔ آزادی کے وقت کے اعداد و شمار کے مقابلہ یونیورسٹیوں کی تعداد میں تقریبا 35 گنا اضافہ ہوا ہے۔ کالجز کے معاملہ میں 70 گنا اور اعلیٰ تعلیم کے باقاعدہ نظام میں طلبہ کے داخلوں میں تقریبا 100گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔آزادی کے وقت ہماری بنیادی خواندگی کی سطح صرف تقریبا 12فیصد تھی جو آج1.2 بلین سے زائد آبادی کا بڑھ کر تقریبا 75 فیصد ہو گئی ہے۔ ان اعداد و شمار کو مد نظر رکھ کر اگر ہم غور کریں تو ہمیں ان دشواریوں کی شدت کا اندازہ ہوگا جن کا سامنا ان ایام میں ملک نے کیا ہے ۔ اس کانفرنس کا انعقاد ایک ایسے موقع پر کیا جا رہا ہے جب ہم تکنیکی انقلاب کے موڑ پر ہیں۔ مرکزی حکومت ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کر گورننس اور ترقی کو فروغ دینے کے حصہ کے طور پر مجموعی اقدام اور اہم پالیسی فیصلے لینے کیلئے تیار ہے۔معزز شرکاء دنیا تکنیکی انقلاب کے درمیان میں ہے۔ اور یہ تبدیلی تعلیم سے جڑی ٹیکنالوجی کے میدان میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ کانفرنس ملک میں معیار تعلیم کو آگے بڑھانے کیلئے ایک روڈ میپ فراہم کرے گی۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment