Today: Wednesday, September, 19, 2018 Last Update: 09:56 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اوکھلا کی زمین جامعہ کو دینے سے متعلق تنازع

 

حالت جوں کی توں برقرار ر کھنے کا عدالت کا حکم

نئی دہلی، 14 اکتوبر (یوا ین آئی) سپریم کورٹ نے اوکھلا کی زمین کو تحویل میں لے کر جامعہ ملیہ اسلامیہ کو دینے سے متعلق تنازع میں حالت جوں کی توں برقرار رکھنے کا آج حکم دیا۔جسٹس ایم وائی اقبال اور جسٹس شو یرتی سنگھ کی بینچ نے اتر پردیش اور دہلی حکومت کے وکلاء کی دلیلیں سننے کے بعد دونوں فریقوں کو حالت جوں کی توں برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ اتر پردیش کی حکومت نے اپنے حلف نامے میں کہا ہے کہ جب مسٹر نجیب جنگ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر تھے تب وہاں کی ایگزیکٹو کمیٹی نے یونیورسٹی کی توسیع کے لئے زمین کی تجویز پیش کی تھی اور آج جب وہ دہلی کے لیفٹننٹ گورنر ہیں، تب زمین تحویل میں لے کر آناً فاناً میں جامعہ ملیہ کو سونپ دی گئی۔ اس کے پیچھے جامعہ ملیہ کو نامناسب فائدہ پہنچانے کے ارادا تھا۔ اتر پردیش نے زمین پر اپنی دعویداریپش کرتے ہوئے عدالت سے کیس میں اسٹے جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔اتر پردیش کی حکومت نے دہلی کے خلاف بحث داخل کر کے اوکھلا کی 22 ایکڑ زمین کی تحویل کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ اوکھلا کی متنازعہ زمین اس کی ہے اور دلی حکومت کی طرف سے کی گئی زمین تحویل کی کارروائی غیر قانونی ہے۔ یہ زمین اترپردیش کے محکمے آبپاش کی ہے۔دہلی حکومت نے 2011 میں اوکھلا کی اس 22 ایکڑ زمین کے حصول کی نوٹی فیکشن جاری کی تھی اور اس نے اسی وقت سے اس کی مخالفت کی ہے۔ اتر پردیش کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہلی حکومت نے بغیر اس کا موقف اور اعتراضات سنے زمین کی کم قیمت طے کر دی ہے۔ دہلی نے تحویل میں لی گئی زمین کی قیمت 53 لاکھ روپے فی ایکڑ لگائی ہے، جبکہ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) کی طرف سے 2013 میں لی گئی بغل کی زمین کی قیمت 2591کروڑ فی ایکڑ تھی۔

 

...


Advertisment

Advertisment