Today: Monday, November, 19, 2018 Last Update: 11:00 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

دہلی اسمبلی میں حلف برداری کے روز ہی ہنگامہ


سکریٹریٹ میں میڈیا پر عائد پابندی کیخلاف بی جے پی نے اٹھائی آواز* اسپیکر اور اپوزیشن میں بھی ہوئی زبانی جنگ*اسمبلی میں سبزی منڈی جیسی صورتحال* رام نواس گوئل نے کی سیاسی تقریر
نثاراحمدخان

نئی دہلی، 23 فروری (ایس ٹی بیورو) چھٹے دہلی اسمبلی اجلاس کے پہلے سیشن کے پہلے روز ہی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کا ماحول دیکھنے کو ملا۔اس موقع پر ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے ایوان کی حرمت پامال کی جارہی ہو۔ ایک طرف بی جے پی لیڈر اوراسپیکر میں تو تو میں میں کی کیفیت دیکھنے کو ملی وہیں عوام کی بھیڑ نے خوب جم کرتالیاں بجائیں اور پبلک گیلری میں بیٹھے لوگوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ اسمبلی میں آج 70ممبران اسمبلی موجود تھے۔ حالانکہ درمیان میں تقریباً نصف گھنٹے تک وزیراعلیٰ اروند کجریوال اور نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا ایوان سے غیرحاضر تھے، مگر بعد میں وہ لوٹ آئے اور اخیرتک موجودرہے۔ ایوان میں سبزی منڈی جیسی صورتحال دیکھنے کو ملی اور عوام نے جم کر تالیاں بجائیں۔ پبلک گیلری میں بیٹھے لوگ اور میڈیاگیلری میں موجود عوام نے جم کر تالیاں بجائیں اور خوب تیز تیز آواز دے کر ایک دوسرے سے بات چیت بھی کی، جسے اسمبلی کے احترام کے خلاف تصور کیاجاتاہے۔ پروٹم اسپیکر چودھری فتح سنگھ نے نومنتخب ممبران کو عہدے اور راز داری کا حلف دلایا۔ مگر جیسے ہی اسپیکر کے انتخاب کیلئے تجویز پیش کئے جانے کا اعلان کیاگیا، وشواس نگر سے بی جے پی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ممبراسمبلی اوم پرکاش شرما نے آج کے ایک اخبار میں شائع خبر کے حوالے سے کچھ اعتراض کرناچاہتے تھے، مگر اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور اتفاق رائے سے رام نواس گوئل کو اسپیکر منتخب کرلیا گیا۔اسپیکر کے اپنی سیٹ پر بیٹھنے کے بعد ہی ہنگامہ آرائی کا ماحول پیدا ہوگیا۔ رام نواس گوئل کو مبارکباد دینے کیلئے اپوزیشن لیڈر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر وجیندرگپتا کو ڈیڑھ منٹ کا موقع دیاگیا کہ وہ ایوان کے ممبران کا شکریہ اداکریں۔ وجیندرگپتا نے اسپیکر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ اسپیکر کے منتخب ہونے تک ایوان کی حرمت برقرار رکھنے کی ذمہ داری تھی، مگر سرکار نے جمہوریت کے چوتھے ستون میڈیاپر پابندی عائد کردی ہے جو انتہائی غلط ہے۔ وجیندرگپتا ابھی آگے اپنی بات کہہ ہی رہے تھے کہ اسپیکر رام نواس گوئل نے انہیں روک دیا اور کہاکہ یہ کوئی موضوع نہیں ہے اورآپ کو 5سال تک اپنی بات رکھنے کاموقع ملے گا، اس لئے آج صرف شکریہ ادا کریں۔ اس کے بعد اسپیکر اور وجیندر گپتا میں توتو میں جیسی صورتحال دیکھنے کو ملی۔ وجیندرگپتانے کہاکہ اسپیکرصاحب! میں آپ کی اجازت سے ہی اپنی بات رکھ رہاہوں، اس لئے میں آپ سے ہاتھ جوڑکر گذارش کرتا ہوں کہ مجھے اپنی بات مکمل کرنے کی اجازت دی جائے۔ بہرحال اس دوران اسپیکر رام نواس گوئل نے تقریرکے دوران سبھی نومنتخب ممبران اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے سبھی ممبران کو ایوان کی حرمت برقرار رکھنے کی تلقین کی۔ اس موقع پر انہوں نے وزیراعلیٰ اروند کجریوال کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ دہلی کے لوگوں کو اروند کجریوال میں ایک نئی امید نظرآرہی ہے اور میں امید کرتاہوں کہ وہ ان امیدوں کو پورا بھی کریں گے۔ انہوں نے بی جے پی کے قانون سازپارٹی کے لیڈر وجیندرگپتا کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ گپتاجی کہ ذمہ داری ہے کہ وہ دہلی سرکار اور مرکز کے درمیان کڑی کاکام کریں گے۔ بہرحال یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اسمبلی اسپیکر نے اپنے پہلے ہی دن سیاسی تقریر کی۔ اس سے قبل ملک اور دہلی کی ترقی کیلئے اسمبلی میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اس موقع پر اروند کجریوال کے والدین، ممبرپارلیمنٹ بھگوت مان سنگھ اور بڑی تعداد میں مہمانان موجود تھے جبکہ بڑی تعداد میں عوام نے بھی شرکت کی۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment