Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 02:47 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

سوائن فلو کے بچاؤ پرتحریک بقائے اردو کی مہم شروع


ریاست کے تمام اسکولوں و کالجوں میں اردو زبان میں مہم چلائی جائے: ذاکر بھلیسی
راجوری،21فروی :راجوری ضلع میں سوائن فلو کے متعلق اردو میں جانکاری پھیلانے کو لیکر تحریک بقائے اردو نے سرکاری و غیر سرکاری سکولوں سے مہم چھیڑ دی ہے جس میں اردو میں بنائے گئے اشتہارات کو لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر چہ تحریک بقائے اردو ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو اردو کی بقاء و فروغ کیلئے5سال سے گرم ہے تاہم تنظیم نے آج اردو سے ہٹ کر سوائن فلو پر اپنی مہم چھیڑی ہے ۔ تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری و ترجمان ذاکر ملک بھلیسی نے پیر پنجال خطہ کے آرگنائزر انجینئر عاشق لون کے ہمراہ اس مہم کا آغاز راجوری کے دھنور علاقہ کے سرکاری و غیر سرکاری سکولوں سے کیا ہے جہاں تحریک کی طرف سے بنائے گئے اردو اشتہارات کو لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ وہیں اے ٹو زیڈ انسٹی چوٹ آف ایجوکیشن اور ہائی سکول دھنور کے اساتذہ کیساتھ بھی ذاکر ملک بھلیسی نے اجلاس منعقد کیا اور ان کو اردو زبان میں سوائن فلو کی جانکاری دی اور اس جانکاری کو بچوں و علاقے کے لوگوں تک پہنچانے کی گزارش کی۔ ذاکر ملک بھلیسی نے بتایا کہ اگر چہ تحریک کا کام لوگوں کی صحت سے جڑا نہیں ہے لیکن تحریک کا ماننا ہے کہ زبانیں تبھی زندہ رہیں گی جب لوگ زندہ اور تندرست رہیں گے اور اسی مشن کے تحت تحریک نے اردو میں اشتہارات چھپوا کر سوائن فلو کی جانکاری لوگوں تک پہنچائی۔ بھلیسی نے بتایا کہ انہوں نے لوگوں کے اندر اس بیماری کے اثرات، اس کا علاج اور احتیاطی تدابیر کے متعلق جانکاری دی اور ریاست کے تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں اور چیف ایجوکیشن آفیسران سے اپیل کی کہ وہ سرکاری و غیر سرکاری سکولوں میں اردو زبان کے اندر اس مہم کو آگے بڑھائیں ۔ بھلیسی نے بتایا کہ سکول سب سے بہتر جگہ ہے جہاں سوائن فلو کے متعلق جانکاری لوگوں تک پہنچائی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے اساتذہ و طلباء کو بتایا کہ سوائن فلونہایت مہلک وبائی مرض ہے جو کہ نزلہ ، زکام کے جراثیموں سے انسان میں منتقل ہوجاتی ہے جس سے انفلونزا وائرس ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جن جگہوں پر سوروں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے وہاں متاثرہ جانور سے جراثیم فضا میں شامل ہوجاتے ہیں اور یہ فضاء سانس کے ذریعہ انسان کے پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے اور نزلہ ہوجاتا ہے جہاں سے یہ بیماری شروع ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کی علامات میں نزلہ ، بخار تھکاوٹ، وجود میں سستی، بے چینی، جسم میں دردیں، گلے میں سوجن، ناک و آنکھ میں پانی بہنا، زیادہ چھینکیں آنا اور کھانسی و چھاتی میں درد شامل ہیں جبکہ علاج کیلئے سب سے پہلے ڈاکٹر کا مشورہ لینا ضروری ہے اور ابتداء میں اس کیلئے انٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیلئے سوائن انفلونزا ویکسین لگانا ضروری ہے جو بذریعہ انجیکشن، اورل اور نیزل سپرے سیبھی ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے ذیادہ ضروری احتیاط ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کھانسی چھینکے اور جمائی لیتے وقت منہ ڈھانپ کر رکھنا ضروری ہے تاکہ متعلقہ چراثیم سانس کے ذریعے جسم میں داخل نہ ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ منہ اور ناک کیلئے صاف ستھرا رومال یا ماسک کا استعمال بھی ضروری ۔ انہوں نے بچوں کو صلاح دی کہ وہ اپنے ہاتھ ہمیشہ صابن سے دھوئیں۔ پبلک کال آفس، دفاتر، واش رومز، ریلوے سٹیشن ، بس اڈہ، بازار اور دیگر پبلک مقامات پر خصوصاً احتیاط کریں۔ بھلیسی نے تحریک بقائے اردو کے تمام کارکنان کو اس بیماری کے متعلق اردو میں جانکاری پھلانے کی گزارش کی ہے۔

 

...


Advertisment

Advertisment