Today: Thursday, November, 15, 2018 Last Update: 04:05 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

پروفیسر عبد الستار دلوی ہندوستان میں اردو ادب کے مینارۂ نور


شعبۂ فارسی، بنارس ہندو یونیورسٹی میں مخطوطات اور کتبہ شناسی پر منعقدہ21روزہ ورکشاپ کامیابی کے ساتھ جاری
وارانسی،21فروری،ایس ٹی بیورو:شعبۂ فارسی، بنارس ہندو یونیورسٹی میں مخطوطات اور کتبہ شناسی پر منعقدہ 21 روزہ ورکشاپ کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ آج اس ورکشاپ میں ڈاکٹر پربھاکر اپادھیایے (شعبہ اے آئی ایچ سی) نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کتبہ شناسی میں ہم آج تک سندھ گھاٹی تہذیب کو نہیں پڑھ سکے اس کے بر عکس ہم ایرانی اور مصری اور یونانی قدیم تہذیبوں کی تحریروں کو پڑھ سکے ہیں کیونکہ سدھ گھاٹی تہذیب کے بر عکس یہاں کتبہ کئی زبانوں میں ملتے ہیں ۔ ہمیں اس فن کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور آج اس فن کے ماہرین کی تعداد دو سو سے زائد نہیں، جبکہ لاکھوں کتبہ ابھی پڑھے جانے باقی ہیں، جو دنیا کی مختلف لائبریریوں اور آرکائز میں موجود ہیں۔ اس کے بعد پروفیسر سید حسن عباس نے مخطوطات اور کتبہ شناسی کے فن پرگفتگو کی اور شرکا کو بہت سی باتوں کے ساتھ ساتھ ترغیب دلائی کہ وہ مخطوطات اور کتبات کی تدوین کی طرف توجہ کریں۔ اس ورکشاپ میں اردو ادب کی مشہور و معروف شخصیت پروفیسر عبد الستار دلوی کو ان کی ہمہ جہت خصوصیات کی بنا پر پروفیسر سید حسن عباس (کو آرڈی نیٹر)، شعبۂ فارسی اور تمام شرکا کی جانب سے اعزاز سے نوازا گیا۔ واضح رہے کہ پروفیسر دلوی عصر حاضر میں اردو ادب کے نمایاں ستارے کی مانند اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں وہ بیک وقت ماہر لسانیات، ماہر تاریخ، ماہر فہرست، محقق، نقاد اور اسکے علاوہ کئی زبانوں کے جاننے والے ہیں اور ان میں ترجمے کا کام بھی کرتے ہیں۔ اعزاز میں پروفیسر سید حسن عباس(کو آرڈی نیٹر) ، پروفیسر نسیم احمد (صادق صدر اردو، ڈاکٹر پردیپ جین (ماہر پریم چندریات) نے پروفیسر دلوی کی گل پوشی کی انہیں بکے پیش کئے اور آخر میں پروفیسر سید حسن عباس نے پروفیسر دلوی کی شال پوشی کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں ایک میمنٹو بھی دیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر دلوی نے تمام اساتذہ اور شرکا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تحقیق میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا تحقیق کے دروازے ہمیشہ سب کے لئے کھلے ہیں ضرورت ہے لوگوں کو اس طرف بلانے کی ۔ اس کے بعد پروفیسر عبد الستار دلوی صاحب نے تحقیق سے متعلق بہت سی اہم باتیں بتائیں انہوں نے کہا کہ تحقیق کو عروج بخشنے کے لئے ضروری ہے کہ مخطوطات کی تدوین کی جائے ابھی بھی ہمارا بیشتر سرمایا مخطوطات کی شکل میں مختلف لائبریریوں کی زینت بنا ہوا جسے آراستہ زیور طبع ہونا چاہئے ۔ پروفیسر دلوی نے پروفیسر سید حسن عباس (کو آر ڈی نیٹر) کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے آج کی نسل کو مخطوطات سے روشناس کرانے کے لئے اس قسم کی ورکشاپ کا انعقاد کروایا۔اس کے بعد پروفیسر دلوی نے اپنے معاصرین مثلاً علی سردار جعفری، سرفراز خان، جاں نثار اختر، کیفی اعظمی، پروفیسر مدنی وغیرہ کے بارے میں بھی اپنے تاثرات پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اقبال اور ممبئی کے متعلق بہت سی اہم باتیں بتائیں ۔اس تقریب کے بعد ڈاکٹر این سی کار (ریپرنزیٹو این ایم ایم) نے شرکا سے گفتگو کی اور مخطوطہ اور کتبہ شناسی کے ضمن میں نیشنل مشن آف مینسکڑپٹس کے نقطہ نظر سے روشناس کروایا اور یہ بھی بتایا کہ جہاں کہیں بھی مخطوطات اور کتبات موجود ہیں ہم ان کا تحفظ کرنے کے لئے کوشاں ہیں لوگوں کو اپنی اس علمی وراثت کے تحفظ کے لئے آگے آنا چاہئے۔اس موقع پر پروفیسر شمیم اختر (صدر شعبہ فارسی)، ڈاکٹر محمد عقیل (شعبہ فارسی)، ڈاکٹر آفتاب احمد (شعبہ اردو)، ڈاکٹر مشرف علی (شعبہ اردو ) فیروز احمد، ارمان احمد، اور احمد نوید یاسر بھی موجود تھے۔

 

...


Advertisment

Advertisment