Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 01:03 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

وزیرقانون کانااہل بیٹا سپریم کورٹ میں سرکاری وکیل

 

وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی روی شنکر پرساد نے کیا عہدے کا غلط استعمال

بھوپال، 20؍فروری (آئی این ایس انڈیا ) مدھیہ پردیش حکومت نے بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر اور وزیر اعظم مودی کے قریبی سمجھے جانے والے مرکزی وزیر روی شنکرپرساد کے ایسے بیٹے کو سپریم کورٹ میں اپنا مستقل وکیل بنا دیا ہے ، جو اس عہدے کے لائق بھی نہیں ہے۔مرکزی ٹیلی کام وزیر روی شنکر پرساد کے بیٹے کا نام آدتیہ شنکر ہے۔غو رطلب ہے کہ اس عہدے کے لئے بار کونسل کی طرف سے منعقدایڈووکیٹ آن ریکارڈ (اے او آر )امتحان پاس کرنا ضروری ہے، لیکن آدتیہ نے یہ امتحان پاس نہیں کیا ہے۔اس معاملے میں جب روی شنکر پرساد سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ وہ اس پر کچھ دیر میں بیان دیں گے۔سپریم کورٹ میں 12؍سال تک مدھیہ پردیش حکومت کے مستقل وکیل رہے ایڈووکیٹ بی ا یس بانٹھیا نے تقرری پر اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ جس شخص کے پاس اس عہدے کی اہلیت ہی نہیں ہے، اسے یہ ذمہ داری کیسے دی جا سکتی ہے؟ ۔بانٹھیا نے کہا کہ آدتیہ کی قابلیت صرف یہ ہے کہ وہ روی شنکر پرساد کے بیٹے ہیں۔سپریم کورٹ میں ریاستی حکومت کی مستقل وکیل ویبھا دتہ ماکھیجہ کی جگہ نئی تقرری کا عمل گزشتہ دنوں شروع ہوا ۔نئے مستقل وکیل کی تلاش آدتیہ شنکر کے نام پر ختم ہوئی۔حالانکہ ذرائع کے مطابق ریاست کے محکمہ قانون نے آدتیہ کے اے او آر پاس نہیں کرنے کی وجہ سے اعتراض کیا تھا۔لیکن آدتیہ شنکر کو چو ر دروازے سے داخلہ مل گیا ۔ایڈووکیٹ بانٹھیا نے کہا کہ صلاحیت نہیں ہونے کی وجہ سے نئے مستقل وکیل سپریم کورٹ میں کیس بھی فائل نہیں کر سکتے۔ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ مقدمہ دائر کرنے کیلئے بھی انہیں کسی اے اوآرکاتعاون لینا پڑے گا۔اس تقرری کے بارے میں محکمہ قانون کے چیف سکریٹری وریندر سنگھ نے تبصرہ کرنے سے انکارکردیا۔حالانکہ اس تقرری کو لے کر افسروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں کئی مستقل وکیل ہیں جو اے او آر نہیں ہیں۔ادھرسپریم کورٹ کے سینئر وکیل وویک تنکھا نے کہا کہ روی شنکر میرے دوست ہیں، اس لئے میں کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔آدتیہ کو این جی ٹی کی ذمہ داری ریاستی حکومت نے اپنے 3 مستقل وکلاء کے درمیان کام کو تقسیم کر دیا ہے۔آدتیہ شنکر کو نیشنل گرین ٹرائی بیونل (این جی ٹی )کے معاملے سونپے گئے ہیں۔انہیں خواتین واطفال کی ترقی کے سیکشن سے متعلق سپریم کورٹ میں چل رہے مقدموں کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت انہیں دوسرے کیس بھی دے سکتی ہے۔

 

 

 

...


Advertisment

Advertisment