Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 05:40 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اُردو زبان سے ہماری محبت اب صرف دکھاوا

 

اُردو ٹیچرس ویلفئر ایسوسی ایشن کی جانب سے اُردو ٹیچرس سمینار بعنوان’’موجودہ دور میں تعلیم کی اہمِیت اور ذمہ داری ‘ ‘  سے شرکاء کا خطاب

علیگڑھ 20فروری(ایس ٹی بیورو)گنگا جمنی تہذیب کے شہر علیگڑھ کی نمائش کے مُکتا کاش منچ میں اُردو ٹیچرس ویلفئر ایسوسی ایشن اُترپردیشٗ علی گڑ ھ کی جانب سے اُردو ٹیچرس سمینار بعنوان’’موجودہ دور میں تعلیم کی اہمِیت اور ذمہ داری ‘ ‘منعقد کیاگیا۔ سمینار کی صدارت ڈاکٹر مفتی زاہدعلی ( چئیرمین شعبہ دینیات سُنیّ ،اے۔ایم۔یو علی گڑھ) اور مہمانِ خصوصی ممتاز صحافی فیاض رفعت خان ( چیف یڈیٹر روزنامہ،اودھ نامہ لکھنؤ ) ر ہے۔مہمانانِ ذی و قار کی طور پرمحمدخالد حمید صاحب،مفتی شہر، علی گڑھ،ڈاکٹر رکشپال سِنگھ ( صابق ضِلع صدر) سماج وادی پارٹی علی گڑ ھ ، آفاق احمد (صوبائ صدر ) اُردو ٹیچرس ویلفئر ایسوس ایشن اُترپردیش،محترمہ آمنہ ملِک پرنسپل عبداﷲگرلس ،ہائی اسکول، اے۔ایم۔یو علی گڑ ھ، انیس احمد ( منڈل سیکریٹری ) اُردو ٹیچرس ویلفئر ایسوس ایشن اُترپردیش مو جود رہے ۔ اس سمینار کی نظامت ممتازشاعر ڈاکٹر مجیب شہزرؔ نے کی۔ اس موقہ پر ڈاکٹر شکیل صمدانی نے کہا کہ ہر اردو ٹیچر کو کم از کم ایک اردو کا اخبار خریدناچاہئے ڈاکٹر مفتی زاہدعلی نے اپنی تقریر میں کہا کہ اُردو زبان سے ہماری محبت اب صرف دکھاوے کے لئے رہ گئی ہے صوبے کی سرکار نے انتخابات کے وقت اسکی ترقی کے لئے جو وعدے کے تھے ۳ سال گزر جانے کے بعد بھی پور ے نہیں کئے۔ مہمانِ خصوصی فیاض رفعت خان نے کہا کہ اگر اُردو زبان کو فروغ دینا ہے تو ہو گھر میں اُردو زبان کااستعمال کر ہوگا۔ اُردو ٹیچرس ویلفئر ایسوسی ایشن اُترپردیش علی گڑ ھ کے صدر محمد احمد نے کہا کہ صوبائی سرکارنے پرائمری اِسکولوں میں اُردو اساتذہ کا تقرر تو کردیا لیکن اَپر پرائمری اسکولوں میں مسلم بچوں کی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں ہے۔نوکرشاہ اپنی من مرضی سے اُردو اساتذہ کو وہاں پوسٹ کر تے ہیں جہاں مسلم بچوں کی تعداد زیرو ہے ۔آج زمین پرجس آسمان کے نیچے آج ہم بیٹھے ہیں اور جس کے چاروں طرف دیواویں تقریبا نہیں کے برابر ہیں ۔ہم قوم کے لوگوں نے صدیوں سے ایسے ہی زندگی گزاری ہے۔ نہ ہمیں چھت ملی،نہ ہمیں دیواریں ملی، نہ ہمیں تحفظ ملا،نہ ہمیں بھرپیٹ روٹی ملی،نہ ہمیں پینے کے لئے صاف پانی ملا،نہ ہمیں چلنے کے لئے سڑکیں ملی اور تعلیم حاصل کر نے کے لئے قلم و دوات ملی۔ ہم تاریخ کے وہ بدنصیب لوگ ہیں۔جیسے علی گڑھ میں بھُوج پورا، شاہ جمال،مولانا آزاد نگر،جمال پور،یہ وہ علاقے ہیں جہاں لاکھوں کی مسلم آبادی ہے،ہر پانچ سال بعد سرکاری انتخابات ہوتے ہیں اسکول قائم کرنے کے وعدے کئے جاتے ہیں۔تعلیم کا کوئی مکمل انتطام نہیں۔آج ملک کے تعلیمی نظام کو فرقہ پرست طاقتوں نے گھیرلیاہے،جس کی و جہ سے آج تعلیم تنزلی کی طرف جا رہا ہے ۔کہیں پر اسکول بکتے ہیں تو کہیں اساتذہ کو غلام بنا کر انکے حوصلوں کو پست کر نے کی کوششیں کی جاتی ہے۔جب تک فرقہ پرست لو گوں کی زہنیت نہ بدلی جائیگی، اُردو زبان کی ترقی نہ ممکن ہے۔ کیوں کہ اگر ناؤ میں بیٹھے ہوے لوگ دیانت داری کو چھوڑ کر فرقہ پرست ہو جائیں تووہ ناؤ کبھی بھی اپنی منزل تک نہیں پہنچے گی۔ آمنہ ملِک صاحبہ عبداﷲگرلس ،ہائ اسکول، اے۔ایم۔یو علی گڑ ھ نے کہا کہا کہ آج کے استاد اپنی ملازمت کو صرف ایک کمانے کا ذریعہ سمجھتے لگے ہیں اب نہ تواستادوں کے دلوں میں شاگردوں کے لئے محبت رہ گئی ہے اور نہ شاگردوں کے دلوں میں اپنے استادوں کی عزت باقی رہ گئی ہے وجہ صرف یہ کہ ہم نے اس پیشے کو روزی اور تجارت کا ذزیعہ بنا لیا ہے۔ اس موقہ پراُردو ٹیچرس ویلفئر ایسوس ایشن کے جنرل سکریٹری مقیم احمد نے ایسوس ایشن گزشتہ کار کردگی پر روشنی ڈالی۔ اس موقعہ پر جناب ڈاکٹر مفتی زاہدعلی صاحب اور مہمانِ فیاض رفعت خان صاحب کے دستِ مبارک سے ۳۵ سینئر اساتذہ کو اچھی تعلیم فراہم کرنے کے لئے اعزاز سے نوازا گیا۔ ساتھ ہی علی گڑھ ڈائیٹ پر پوسٹ محترمہ آئیشہ کو صوبے سے۳ میں اور پورے ہندوستان سے۵۲ میں شامل ہوکر امریکہ سے تعلیمی Trainingکر کے آنے پر اعزازسے نوازا گیا۔

 

...


Advertisment

Advertisment