Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 01:07 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

گوپال رائے بن سکتے ہیں ’آپ‘ سرکار کیلئے درد سر


آپ‘ کے وزیرکے ذریعہ صحافیوں کو ’دلال‘ کہنے پر صحافی براداری میں ناراضگی، نائب وزیراعلیٰ نے کہا ’میڈیا پر کوئی پابندی نہیں
نثاراحمدخان
نئی دہلی، 19فروری (ایس ٹی بیورو) کجریوال کابینہ کی حلف برداری کے بعددہلی سیکریٹریٹ میں میڈیا کے داخل ہونے پر روک لگائے جانے کی خبر سامنے آنے کے بعد سے سرکاراور میڈیا میں ٹکراؤ کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ کابینہ کی پہلی میٹنگ کے بعد بریفنگ کے دوران جب میڈیا نے اس حکم کے بارے میں نائب وزیر اعلی منیش سسودیا سے پوچھا تو وہ بریفنگ میں بنا کچھ بولے ہی واپس لوٹ گئے۔ اس سے یہ بات پختہ ہوئی کہ دہلی سیکریٹریٹ میں عام لوگوں اور میڈیا کے داخلہ پر روک لگا دی گئی ہے۔ تاہم اس بارے میں صفائی دیتے ہوئے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کہا ہے کہ میڈیا پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ہم انٹرویو دیں گے، لیکن اس سے پہلے ہم عوام سے بات کریں گے۔ نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کہا ہے کہ میڈیا سے بات کرنے سے پہلے ہم اپنا کام کریں گے اور پھر وقت بچا تب میڈیا سے بات کریں گے۔ غور طلب ہے کہ کبھی عوام اور میڈیا کیلئے ہمیشہ کھلا رہنے والے دہلی سیکرٹریٹ میں عام لوگوں اور میڈیا کی انٹری پر پابندی لگائے جانے جیسا ماحول ہے۔ سکریٹریٹ میں داخل کرنے سے پہلے میڈیا کو سخت سیکورٹی چیکنگ سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ باوجود اس کے انہیں آگے نہیں بڑھنے دیا جاتا۔ اس بارے میں حکومت کے وزراء بات کی گئی تو وہ اس خبر کو ہی غلط بتا رہے ہیں، لیکن انہوں نے میڈیا سے بات کرنے سے زیادہ اپنا کام کرنے پر زور دیا اور کہا کہ وقت ملنے پر میڈیا سے بات ضرور کریں گے۔ حالانکہ کجریوال کابینہ میں شامل وزیر ٹرانسپورٹ گوپال رائے سرکار کیلئے درد سر بن سکتے ہیں۔ بابر پور اسمبلی حلقہ سے کامیاب ہوکر وزیر بنے گوپال رائے نے الزام عائد کیا کہ ’کچھ ایسے صحافی ہیں جو سکریٹریٹ کے گلیاروں میں گھس کر دلالی کرتے تھے۔ ان کو اب دقت ہو رہی ہے۔ ہم دلالی کے دھندے کو سکریٹریٹ میں بند کریں گے، جس پر بی جے پی نے حملہ بولتے ہوئے ’آپ‘ سے اس صحافی کا نام عام کرنے کو کہا ہے۔بی جے پی اور کانگریس دونوں نے اسے جمہوریت کے چوتھے ستون کے قتل سے تعبیر کرتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیاہے۔دوسری جانب میڈیا کے داخلے پر پابندی اور ایک وزیر کے ذریعہ اس طرح کا بیان سامنے آنے کے بعد صحافیوں میں زبردست ناراضگی پائی جارہی ہے۔ انڈین لینگویج نیوز پیپر ایسوسی ایشن ( ایلنا) نے پریس کونسل آف انڈیا کو خط لکھ ایک ہفتے سے دہلی سکریٹریٹ میں میڈیا کے داخلے پر عائد پابندی کو جمہوریت پر حملہ بتاتے ہوئے اور وزیرٹرانسپورٹ گوپال رائے کے ذریعہ نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے کی مذمت کرتے ہوئے میڈیا کے حقوق کی حفاظت کا مطالبہ کیاہے۔ وہیں آل جرنلسٹ ایسوسی ایشن نے بھی معافی مانگنے کا مطالبہ کیاہے۔ آل جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر نے کہاکہ ہے کہ اگر وزیرٹرانسپورٹ گوپال رائے نے صحافیوں کی بے عزتی کرنے پر معافی نہیں مانگی تو ان کیخلاف احتجاج کیاجائے گا۔ اس کے علاوہ آج کچھ صحافیوں نے دہلی سکریٹریٹ کے باہر احتجاج بھی کیاجائے اور میڈیا پر عائد پابندی کو ختم کرنے کامطالبہ کیا۔ بہرحال اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پھر میڈیا اور سرکار میں زبردست ٹکراؤ دیکھنے کو ملے گی۔ حالانکہ آج میڈیا کے ایک گروپ نے وزیراعلیٰ کے میڈیا ایڈوائزر ناگیندر شرما سے ملاقات کرکے اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے اور کل اس کا کوئی حل نکلنے کا امکان ہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment