Today: Wednesday, September, 19, 2018 Last Update: 09:54 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملہ

 

واحد چشم دید گواہ کا حلفیہ بیان شک کے دائرے میں

تحقیقاتی دستہ نے اسے فرد جرم داخل کرنے کے وقت عدالت میں پیش نہیں کیا

ممبئی17 فروری (یواین آئی)اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے میں گذشتہ دس دنوں سے سرکاری گواہ سے سوالات پوچھنے کا بالآخیر آج اختتام عمل میں آیا جس کے بعد ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے دفاعی وکلاء نے جرح کاآغاز کیا جس کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ اس معاملے کے واحد چشم دید گواہ کا بیان تحقیقاتی دستہ نے چارج شیٹ داخل کرتے وقت خصوصی مکوکا عدالت میں داخل ہی نہیں کیا تھا ۔خصوصی مکوکا عدالت کے روبرو سرکاری گواہ جو کہ اس معاملے کا چیف تحقیقاتی افسر بھی ہے نے اعتراف کیا کہ اس نے اس معاملے کے واحد چشم دید گواہ دیپک پاچاونے کا حلفیہ بیان انہوں نے ملزمین کے خلاف فرد جرم داخل کرتے وقت عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا تھا جس کے دفاعی وکیل شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں پولس کو چھوڑ کر کوئی چشم دید گواہ ہے ہی نہیں لہذا عدالت کو بتانے کے لیئے فرد جرم داخل کرنے کے بعد ایک جعلی چشم دید گواہ بنایا گیا اور اس کا بیان درج کیا گیا۔دفاعی وکیل شریف شیخ نے گواہ پر الزام عائد کیا کہ اگر اس نے چشم دید گواہ کو بیان درج کیا تھا تو اسے فرد جرم داخل کرتے وقت عدالت کے روبرو کیوں نہیں داخل کیا گیا تھا جس پر سرکاری گواہ ریٹائرڈ اے سی پی دھولے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔سرکاری گواہ نے آج دفاعی وکیل کے زیادہ ترسوالات کا جواب یہ کہکر دیا کہ اسے معلوم نہیں ہوا، وہ بھول چکا ہے ،یہ غلط ہے وغیروغیرہ جبکہ سرکاری وکیل کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اس نے دن تاریخ کے ساتھ ساتھ دیگر تفصیلات سے بھی عدالت کو آگاہ کیا تھا ۔دفاعی وکیل نے سرکاری گواہ پر الزام عائد کیا کہ ا س دوران گواہی روزانہ دستاویزات کو مطالعہ کرکے سرکاری گواہ کے سوالات کا جواب دیئے تھے اور آج جب دفاع اس سے سوالات پوچھ رہا ہے تو وہ اس کا جواب نفی میں دے رہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اے ٹی ایس والوں نے گواہ کو روزانہ عدالت میں کیا گواہی دینا ہے اس کی مشق کرائی تھی ۔واضح رہے کہ اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے میں پولس گواہان کو چھوڑ کر صرف ایک ہی ایساشہری ہے جسے پولس چشم دید گواہ کو نام دیا ہے لیکن اس کا حلفیہ بیان فرد جرم داخل کرتے وقت عدالت میں پیش نہیں کیئے جانے سے اس کی حقیت بھی شک کے دائر ے میںآگئی ہے ۔آج دفاعی وکلاء کی سرکاری گواہ سے جرح نہ مکمل رہی جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی کل تک کیلئے ملتوی کردی۔ دوران کارروائی آج عدالت میں جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ انصار تمبولی، ایڈوکیٹ آصف نقوی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری، ایڈوکیٹ افضل نواز، ایڈوکیٹ توصیف شیخ و دیگرموجود تھے ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment