Today: Wednesday, September, 26, 2018 Last Update: 10:19 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

’آپ‘ سرکارنے دہلی سکریٹریٹ میں صحافیوں کے داخلہ پر پابندی عائد کی


نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیادرمیان میں پریس کانفرنس چھوڑکر چلے گئے*جمہوریت کے چوتھے ستون پر پابندی عائد کئے جانے پرزبردست ہنگامہ*صحافیوں میں زبردست ناراضگی 
نثاراحمدخان

نئی دہلی،16فروری (ایس ٹی بیورو) عام آدمی پارٹی سرکار کے پہلے دن ہی دہلی سیکریٹریٹ میں میڈیا کے داخلہ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اسے لے کر ہنگامے کے بعد نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا پریس کانفرنس سے چلے گئے۔ آج صبح سے ہی پرنٹ اور الیکٹرانک صحافیوں کو سیکریٹریٹ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ پیر کو ’آپ‘ سرکار کی پہلی کابینہ میٹنگ ہوئی، اس کے بعد نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا میڈیا اہلکاروں سے جب بات کرنے کیلئے آئے تو صحافیوں نے ان کے سامنے سکریٹریٹ میں داخل ہونے سے روکے جانے کو لے کر شکایت کی، جس کے بعد ہنگامہ ہو گیا اور سسودیا پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔دراصل کئی اخبارات کے فوٹوگرافر کابینہ کی میٹنگ کی تصویریں لینا چاہ رہے تھے، لیکن انہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہیں کہا گیا کہ وہ پریس بریفنگ روم میں ہی بیٹھے رہیں، جہاں انہیں میٹنگ کی معلومات دے دی جائے گی۔ ڈی آئی پی سے تسلیم شدہ صحافیوں کو بھی دہلی سیکریٹریٹ کی اہم بلڈنگ میں داخل نہیں دیا گیاجبکہ انہیں داخل کرنے کیلئے کارڈ جاری کیا گیا ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کے میڈیا ایڈوئزر سے بات ہو رہی تھی، لیکن وہ کوئی راستہ نہیں نکال پائے۔ اس سے صحافی ناراض ہو گئے اور جیسے ہی منیش سسودیا پریس کانفرنس کیلئے آئے صحافیوں نے ڈائس پر ہی انہیں گھیر لیا اور ان سے سوال کرنے لگے، جس کا کوئی جواب سسودیا کے پاس نہیں تھا۔
صحافیوں کی ناراضگی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پچھلی بار بھی عام آدمی پارٹی کی 49روزہ حکومت کے دوران صحافیوں سے ایسا ہی سلوک کیا گیا تھا۔ ٹھیک اسی طرح اس بار بھی کجریوال حکومت نے صحافیوں کو سیکریٹریٹ کے ہر مقام پر جانے سے روک دیا ہے۔ لہٰذاصحافیوں کو لگا کہ پچھلی بار تو نئے لوگوں نے حکومت بنائی تھی تو انہیں شاید بہت کچھ پتہ نہیں تھا، لیکن دوبارہ انہی لوگوں کی طرف سے ایسا کیا جانا کہیں نہ کہیں میڈیا پر پابندی عائد کیاجانا ان کی منشا ظاہر کرتا ہے۔ بہرحال صحافیوں کی ناراضگی کے درمیان بڑھتے ہوئے ہنگامے کو دیکھ کر سسودیا نے پریس کانفرنس چھوڑ کر وہاں سے جانا ہی مناسب سمجھا۔ حالانکہ دہلی سرکارسے منظور شدہ صحافیوں کی پہلے پولس انکوائری کی جاتی ہے اور اس کے بعد ہی کارڈ بنایاجاتا ہے اور وہ سکریٹریٹ میں جانے کے اہل قرار دیئے جاتے ہیں، مگر ان پر سیکورٹی کے تحت پابندی عائد کیاجانا جمہوریت کے چوتھے ستون پر پابندی عائد کرنے کے مترادف ہے۔واضح رہے کہ ایک میڈیا بریفنگ روم بنایا گیا ہے، صرف وہیں تک صحافیوں کو جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ آج اسی بریفنگ روم میں جب پریس کانفرنس کیلئے منیش سسودیا آئے تو ہنگامہ ہوا۔ اس واقعہ کے بعد ’آپ‘ سرکار کے تئیں صحافیوں میں زبردست ناراضگی پائی جارہی ہے۔ میڈیاایکریڈیشن کمیٹی کے چیئرمین رتنیش مشرا نے کہاکہ بغیر کسی بات چیت کے میڈیا پر پابندی عائد کیاجانا انتہائی مایوس کن ہے۔انہوں نے کہاکہ دہلی سرکار کے ذریعہ جب ڈی آئی پی کارڈ فراہم کیاجاتا ہے تو اس سے قبل پولس انکوائری اور تمام طرح کی جانچ کے بعد ہی اسے منظوری دی جاتی ہے۔ اس لئے بار بار اس طرح کی حالت پیدا کیاجانا بدقسمتی کی بات ہے۔ مسٹر مشرا نے کہاکہ سیکورٹی کے نام پر میڈیا کے ساتھ ایسا نہیں کیاجانا چاہئے کیونکہ میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون ہے، جس پر پابندی عائد کیا جانا درست نہیں ہے، لیکن ہم بات کررہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ جلدی ہی یہ معاملہ حل ہوجائے گا۔ 

...


Advertisment

Advertisment