Today: Tuesday, September, 25, 2018 Last Update: 06:41 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

مانجھی نے مرکزی امداد میں کمی پر وزیراعظم کو خط لکھا


مانجھی کابینہ کی خصوصی میٹنگ میں آج اہم فیصلوں کا امکان
پٹنہ۔ 14فروری (یو این آئی) بہار کے وزیراعلی جیتن رام مانجھی نے ریاست کو منصوبہ بندی کی مد میں ملنے والی مرکزی امدادی رقم میں کی جانے والی کمی کے تعلق سے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے ۔وزیراعظم کو تحریر کردہ خط آج یہاں میڈیا میں جاری کیا گیا جس میں مسٹر مانجھی نے کہاکہ یوجنا آیوگ نے مالی سال 2014-15کی سالانہ منصوبہ کو منظوری دیتے ہوئے مرکز ی امداد یافتہ منصوبوں کے لئے 16668.32کروڑ روپے اوراضافی مرکزی امداد کے طورپر 7901.69کروڑ روپے دئے تھے جو مجموعی طورپر 24570.01کروڑ روپے ہوتے ہیں ۔ منظور کی گئی رقم میں سے اب تک 11002کروڑ روپے جاری نہیں کئے گئے ہیں۔ ان میں مرکزی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے تحت 6866.60 اور اضافی امرکزی امداد کے زمرے میں 4135.70کروڑ روپے کی رقم جاری نہیں کی گئی ہے ۔خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت بہار نے باقی رقم میں سے 6613.82کروڑ جاری کرنے کے لئے ضروری رسمی کارروائی مکمل کرکے دستاویز مرکزی حکومت کی وزارت خزانہ سمیت متعلقہ وزارتوں کو بھیج دئے ہیں۔ مالی سال 2014-15ختم ہورہا ہے لیکن مرکز سے ملنے والی مقررہ مرکزی امداد کابڑا حصہ اب تک جاری نہیں کئے جانے سے ریاست میں جاری اہم فلاحی منصوبے متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم مودی سے باقی رقم جاری کرنے کے لئے متعلقہ وزارتوں کو ضروری ہدایت جاری کرنے کی درخواست کی ہے ۔دوسری جانب بہار میں آئینی بحران اور سیاسی اضطراب کے دوران وزیر اعلی جیتن رام مانجھی کی کابینہ کی آج ہونے والی میٹنگ میں متعدد اہم فیصلے کئے جانے کا امکان ہے ۔ واضح رہے کہ یہاں وزیر اعلی مسٹر مانجھی کی سرکاری رہائش گاہ پر آج منعقد ہونے والی کابینہ میٹنگ میں سرکاری ملازمی کے سبکدوش ہونے کی عمر 60 سے بڑھاکر 62 سال کرنے اور خواتین کے لئے سرکاری ملازمتوں میں 35 فیصد ریزرویشن کو منظوری دینے کا امکان ہے اور اس کے ساتھ غیر مستقل اساتذہ کے ماہانہ اعزازیہ میں اضافہ کرنے کی تجویز کو بھی منظوری دی جاسکتی ہے ۔ آج کی خصوصی کابینہ میٹنگ میں مسٹر مانجھی کی طرف سے گزشتہ ہفتہ اعلان کی گئی اس منصوبے کو بھی منظوری دی جاسکتی ہے جس کے تحت پانچ ایکڑ اراضی رکھنے والے کسانوں کو زراعتی سرگرمیوں کے لئے مفت بجلی فراہم کرنے کی تجویز کی گئی تھی۔ ان کے علاوہ کابینہ میٹنگ میں جن دیگر امور پر غور و خوض کئے جانے کا امکان ہے ، ان میں غیر امداد یافتہ تعلیمی اداروں کو سرکار کے کنٹرول میں لانے اور کاشتکاری مشینریوں کی خریداری پر درج فہرست ذات و قبائل کے کسانوں کو 80 فیصد امداد دینے کا مسئلہ شامل ہے ۔

...


Advertisment

Advertisment