Today: Tuesday, November, 13, 2018 Last Update: 10:00 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

بی جے پی ۔ پی ڈی پی ایک ساتھ مل کر حکومت بنانے کو تیار

 
پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس سے قبل حکومت تشکیل دینے کیلئے سرگرمیاں تیز ،مرکزی حکومت کر سکتی ہے جموں وکشمیر میں سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف پیکیج کا اعلان
سری نگر، 13 فروری (یو ا ین آئی) ریاست جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک اور بھارتیہ جنتار پارٹی کی مخلوط حکومت ایک ہفتے کی دوری پر ہے ۔ دہلی اسمبلی انتخابات میں چونکا دینے والے نتائج سامنے آنے کے بعد بی جے پی جموں وکشمیر میں حکومت کا حصہ بننے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی ہے ۔بی جے پی کو دہلی انتخابات میں شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب اس جماعت کی مرکزی ہائی کمان ان کوششوں میں جٹ گئی ہے کہ جلد از جلد پی ڈی پی کے ساتھ تمام معاملات پر اتفاق رائے قائم کرکے جموں وکشمیر میں حکومت تشکیل دی جائے ۔ بی جے پی ہائی کمان کی کوششوں کے نتیجے میں سری نگر سے لیکر نئی دہلی تک جموں وکشمیر میں پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس سے قبل حکومت تشکیل دینے کیلئے سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ذرائع کے مطابق پی ڈی پی بھی چاہتی ہے کہ جموں وکشمیر میں پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس سے پہلے ہی حکومت معرض وجود میں آئے تاکہ بجٹ اجلاس میں ریاست کے سیلاب متاثرین کے حق میں ایک جامع ریلیف پیکیج کا اعلان ہو۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور پی ڈی پی کے درمیان بعض اہم معاملات پر اتفاق رائے قائم ہوگیاہے جس میں وزارت اعلیٰ کا عہدہ بھی شامل ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید پورے چھ سال کیلئے ریاست کے وزیر اعلیٰ ہوسکتے ہیں جبکہ بی جے پی کے ممبر اسمبلی بلاور نرمل سنگھ امکانی طور پر اُن کے نائب ہوں گے ۔ ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کی مذاکراتی ٹیمیں قومی راجدھانی دہلی روانہ ہوگئی ہیں جو وہاں قومی سطح کے مختلف لیڈران سے ملاقات کے بعد فروری 15 اور 16 کو مذاکراتی ٹیبل پر بیٹھ کر کم از کم مشترکہ پروگرام کو حتمی شکل دیں گی۔سیاسی مبصرین کی مانیں تو دونوں جماعتوں کی جانب سے جو کم از کم مشترکہ پروگرام سامنے لایا جائے گا اُس میں زیادہ تر ترقیاتی امور ہی شامل ہوں گے جبکہ دفعہ 370 اور فوج کو حاصل خصوصی اختیارات جیسے حساس معاملات کو سرد خانے میں ڈال دیا جائے گا۔ تاہم پی ڈی پی کے ترجمان اعلیٰ نعیم اختر کا کہنا ہے کہ اُن کی جماعت دفعہ 370 کی حفاظت اور افسپا کی واپسی پر اٹل ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی مذاکراتی ٹیم وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ، پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو، ممبران اسمبلی نرمل سنگھ اور چودھری لال سنگھ، ممبر پارلیمنٹ و بی جے پی ریاستی صدر جگل کشور شرما، ایم ایل اے بالی بھگت اور پارٹی کے ریاستی یونٹ کے جنرل سکریٹری اشوک کول پر مشتمل ہوگی۔ جبکہ پی ڈی پی کی مذاکراتی ٹیم ممبران پارلیمنٹ مظفر حسین بیگ و طارق حمید قرہ، جماعت کے ترجمان اعلیٰ نعیم اختر، ممبران اسمبلی سید الطاف بخاری و ڈاکٹر حسیب درابو اور وکرم ادتیا سنگھ پرمشتمل ہوگی۔ رپورٹوں کے مطابق پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید آئندہ چند دنوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دہلی میں ملاقات کریں گے جس کے بعد جموں وکشمیر میں پی ڈی پی ۔ بی جے پی اتحاد پر مبنی مخلوط حکومت معرض وجود میں لانے کی تاریخ کا باضابطہ اعلان متوقع ہے ۔ان رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پی ڈی پی اور بی جے پی کی جانب سے تشکیل دی جانے والی مذاکراتی کمیٹیاں پورے چھ سال تک حکومت چلانے کیلئے کم از کم مشترکہ پروگرام کو حتمی شکل دیں گی۔ تاہم دونوں جماعتوں کے درمیان قلمدانوں کی تقسیم پر ہونے والے معاہدے پر پی ڈی پی سرپرست مفتی سعید وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں دستخط کریں گے ۔ اگرچہ پی ڈی پی اور بی جے پی کو حکومت تشکیل دینے کیلئے کسی آزاد امیدوار یا کسی دوسری چھوٹی جماعت کی حمایت درکار نہیں ہے ، لیکن باوجود اس کے علیحدگی پسند تحریک سے مین اسٹریم سیاست میں قدم رکھنے والے سجاد غنی لون کو امکانی طور پر کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ رپورٹوں کے مطابق انہیں بی جے پی اپنے کوٹہ کے تحت کابینہ میں ایک اہم قلمدان سے نوازے گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور سجاد غنی لون کے روابط بہت اچھے ہیں اور راجیہ سبھا انتخابات میں پیپلز کانفرنس کے دونوں ممبران اسمبلی نے اپنے ووٹ بی جے پی امیدواروں کے حق میں ڈالے ۔ قابل ذکر ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں رخصت ہونے والے سال کے نومبر اور دسمبر میں اسمبلی انتخابات منعقد کئے گئے جس میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملی اور ریاست میں معلق اسمبلی وجود میں آگئی۔ریاست جموں وکشمیر میں حکومت بنانے کیلئے کسی بھی جماعت کو 87 میں سے 44 سیٹیں درکار تھیں ۔ انتخابی نتائج کے اعتبار سے پی ڈی پی 28 سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی، بی جے پی 25 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی جبکہ سابقہ مخلوط حکومت میں شامل نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو بالترتیب 15 اور 13 سیٹیں ملیں۔ اگرچہ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد نیشنل کانفرنس ، کانگریس، سی پی آئی (ایم)، پی ڈی ایف اور ایک آزاد ممبر اسمبلی انجینئر شیخ عبدالرشید نے پی ڈی پی کو ریاست میں حکومت تشکیل دینے کیلئے غیر مشروط حمایت دینے کی پیشکش کردی تھی ۔تاہم پی ڈی پی نے نیشنل کانفرنس کی پیشکش کو ٹھکرادیا جبکہ دیگر پارٹیوں کی حمایت سے متعلق پیشکشوں پر رائے زنی کے بجائے خاموشی اختیار کی تھی۔


...


Advertisment

Advertisment