Today: Tuesday, November, 13, 2018 Last Update: 10:10 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

شرپسندوں کے ذریعہ معمولی سی واردات کوفرقہ وارانہ رنگ دیکر ماحول کو زہر آلود بنانے کی کوشش


شہر کے مخصوص مقامات پر پولیس فورس تعینات ، شہر کے تمام بازار حسب معمول کھلے ،انتظامیہ کی پر امن فضا قائم رکھنے کی اپیل
یاسرعثمانی
دیوبند،12؍فروری(ایس ٹی بیورو) امن و شانتی کا گہوارہ کہلانے والا شہرۂ آفاق قصبہ دیوبند پر فرقہ پرستوں کی بری نظر ٹکی ہوئی ہیں اور وہ آئے دن کسی نہ کسی معمولی سے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دیکر ماحول خراب کرنے پر تلے ہوئے تاہم شہر کی امن پسند عوام کی ہوشمندی بھی قابل ستائش قراردی جارہی ہے ہاں اس تناظر میں گذشتہ شب بھی الگ الگ فرقوں کے لوگوں میں ہوئے دو الگ الگ واقعات کوفرقہ وارانہ کشیدگی میں تبدیل ہوگئی ۔اور شرپسندوں نے معمولی سی بات کو فرقہ وارانہ رنگ دیکر شہر کی پر امن فضاد مکدرکرنی کی کوشش کی لیکن انتظامیہ کی بروقت کاروائی اور ہوشمند عوام نے ایک بار پھر اس کو فساد سے بچالیا ،لیکن دیر رات پھیلی افواہوں نے شہر میں افراتفری کاماحول پیدا کردیا ہے اور لوگ سڑکوں پر اتر آئے جس سے پورے شہر کا ماحول فرقہ وارانہ کشیدگی میں تبدیل ہوگیا،لیکن معزز شہر کی سوجھ بوجھ کے سبب بڑی واردات ہونے سے بچ گئی۔ موقع پر پر پہنچے ایس پی دیہات،ایس ڈی ایم ،سی او اور معززین نے شہر نے معاملہ کو نمٹایا ۔ شہر کے مختلف حساس چوک چوراہوں پراحتیاط کے طورپر بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے۔ گزشتہ رات شہر میں ہوئے تنازعہ میں متاثرہ نے پانچ نوجوانوں پر اغوا اور مارپیٹ کاالزام عائد کرتے ہوئے کوتوالی معاملہ درج کرایا ہے ،وہیں دوسری واردات میں متاثرہ کے والد نے چارنوجوانوں پر لوٹ کی کوشش کرنے اور دھاردار ہتھیاروں سے مار پیٹ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کوتوالی میں مقدمہ درج کرایا ہے۔ دونوں واقعات کچھ ہی وقت کے وقفہ میں واقع ہوئی جس سے ایک بار تو پورے شہر میں کشیدگی پھیل گئی تھی اور دونوں فرقوں کے لوگ ہتھیار لیکر ایک دوسرے کے سامنے آ گئے تھے لیکن ذمہ دار لوگوں اور پولیس انتظامیہ کی سوجھ بوجھ کی وجہ سے بڑی واردات واقع ہونے سے ٹل گئی۔معاملہ کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے آس پاس کے تھانوں کی پولیس کو بھی شہر میں بلا لیا گیا تھا۔ آج بھی پورے دن شہر کے چپے چپے پر پولیس فورس تعینات رہی جبکہ شہر کا ماحول آج پوری طرح معمول پررہا اور حسب معمول آج شہر کے تمام بازار کھلے اور خریداروں کی بھی اچھی خاصی بھیڑ بازاروں میں دیکھنے کو ملی۔کوتوالی میں درج رپورٹ میں شہر کے محلہ جوشی واڑہ کے باشندہ سشیل کمار گپتا نے بتایا اس کا بیٹا راہل مظفرنگر میں نوکری کرتاہے، گزشتہ رات تقریبا ساڑھے آٹھ بجے جب وہ اسٹیشن سے گھر واپس آ رہا تھا،راہل چھمپی واڑہ میں ملکھا سنگھ چوک پر پہنچا تو وہاں شمشاد ولد ذوالفقار و جلال ولد نرنا نے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ راہل کو لوٹنے کی کوشش کی راہل کے ذریعہ مخالفت کرنے پر انہوں بلٹی و دھاردار ہتھیار سے حملہ کرراہل کو شدید زخمی کر دیا۔ راہل کومقامی سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں سے اسے ہائر سینٹر رریفر کردیاگیا۔ادھر درج رپورٹ میں محلہ لہسواڑہ کے باشندہ آلوک ولد راجیش نے کوتوالی میں درج رپورٹ میں بتایا کہ وہ محلہ جنک پوری میں واقع ایک دکان پرچاٹ کھا رہا تھااسی دوران وہاں غفران، عادل، عمران، نوید، مونی وغیرہ پہنچے اورانہوں اس پر لاٹھیوں اور دھاردار ہتھیاروں سے حملہ بول دیا،مارپیٹ میں وہ اور ایک دیگر نوجوان زخمی ہوگیا ۔ دونو ہی واقعات دونوں واقعات سے ایک دوسرے کا کوئی تعلق نہیں تھا لیکن دونوں واقعات آگے پیچھے پیش آنے کے سبب پورے شہر فرقہ وارانہ فساد کی افواہ پھیل گئی جس کے بعد دونوں فرقوں کے لوگ سڑکوں پر اتر آئے ۔ ہنومان چوک پر جمع دونوں فرقوں کے لوگ ایک دوسرے کے سامنے مسلح ہوکر آٹے۔جس سے شہر میں کشیدگی پھیل گئی۔موقع پر پہنچے ذمہ دار لوگوں اور پولیس نے دونوں ہی طرف کے لوگوں کو سمجھابجھا کر واپس گھر وں کو بھیجا، معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے آس پاس کے تھانوں کی پولیس کو بھی شہر میں بلا لیا گیا اور شہر میں چپے چپے پر پولیس تعینات کردی گئی ہے۔ پوری رات پولیس کے جوان مستعدی کے ساتھ شہر میں ڈیوٹی دیتے رہے جس کے چلتے شہر میں مذکورہ واقعات کے بعد آج پورے دن شہر کی معمولات زندگی پر معمول پررہی۔ ایس ڈی ایم راجیش کار سنگھ نے بتایاکہ شہر میں کے حالات مکمل طورپر پر امن ہے شہر کے ماحول کے کھلواڑ کرنے والوں کو قطعی نہیں بخشا جائے گا،احتیاط کے طورپر شہر کے مختلف چوک چوراہوں اور دیگر حساس مقامات پر پولیس فورس و پی ایس سی تعینات کی گئی ہے۔
معمولی سی بات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے والوں کے خلاف سخت کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی سہارنپور 
پولیس کپتان سہارنپوربھرت سنگھ نے بتایا کہ دیوبند کے حالات پر وہ باریکی سے نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور خفیہ محکمہ اور پولیس کو مستعد کردیا گیا ہے ماحول کو خراب کرنے والوں سے اب ڈنڈے کے بل پر نمٹا جائے گا ۔

...


Advertisment

Advertisment