Today: Thursday, November, 22, 2018 Last Update: 01:15 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

سر سید نے تعلیمی تحریک کو جاری کر کے نسلوں کو زندگی دینے کا کار نامہ انجام دیا

 

نیو ہورائزن پبلک اسکول میرٹھ میں ہفت روزہ جشن سر سید تقریبات کے افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی ڈاکٹر معراج الدین احمد کا اظہار خیال

میرٹھ، 13اکتو بر(پریس ریلیز) شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی اور سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی، میرٹھ کے باہمی اشتراک سے منعقد ہو رہے ہفت روزہ جشن سر سید تقریبات کا آج نیو ہو رائزن پبلک اسکول،زیدی سوسائٹی میرٹھ میں شہر قاضی پروفیسر زین الراشدین کی سرپرستی میں شاندار آغاز ہوا۔جس کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر اسلم جمشید پوری (صدر شعبۂ اردو)نے انجام دیے۔مہمان خصوصی کے بطور ر ڈاکٹر معراج الدین (سابق وزیر ،حکومت اتر پردیش )اور مہمانان ذی وقار کے طور پر قاری شفیق الرحمن قاسمی اورسید جاوید اخترشریک ہوئے۔ اور نظا مت کے فرا ئض آفاق احمد خاں نے انجام دیے استقبالیہ کی رسم محترم طالب زیدی اور شکریے کی رسم اسکول کی پرنسپل محترمہ تنویر فاطمہ نے ادا کی۔واضح ہوکہ ہر سال شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی سر سید ایجو کیشنل سوسائٹی،میرٹھ کے اشتراک سے محسن قوم، عظیم تعلیمی رہنما سر سید احمد خاں کی یو م پیدا ئش کے موقع پر ہفت روزہ ’’ جشن سر سید تقریبات‘‘کا اہتمام کرتا ہے۔جس کا مقصد اسکول، کالجزاور یونیورسٹیوں میں پڑھنے وا لے طلبا و طالبات کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سر سید احمد خاں کی زندگی،ان کی خدمات اور ان کے کاموں سے روشناس کرا نا ہے ۔اس کے تحت سر سید لیکچر سیریز اور سر سید کوئز کا اہتمام کیا جاتاہے۔ جس میں شہر کے سر کردہ دانشور اور ما ہر تعلیم حضرات مختلف اسکولوں اور کالجز میں جا کر سرسید احمد خاں کی حیات اور ان کے کار ناموں پر لیکچر دیتے ہیں ساتھ ہی کوئز مقابلے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اسی سلسلے کے تحت ہفت روزہ جشن سر سید تقریبات کا افتتاح دو پہر 12؍ بجے نیو ہورائزن پبلک اسکول ،واقع زیدی نگر سوسائٹی میں ہوا۔تقریب کا آ غاز تلا وت کلام پاک سے ہوا۔اور حمد و ہدےۂ نعت عروج فاطمہ ،مہک زیدی ،ثمرن وغیرہ نے پیش کیا۔اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے قاری شفیق الرحمن قاسمی نے کہا کہ سر سید مختلف الجہات کے مالک تھے۔ انہوں نے زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کارنامے انجام دیے۔انہیں سچا خراج یہی ہو گا کہ ان کے نقش قدم پر چلا جا ئے اور ان کے مشن یعنی تعلیم کو عام کیا جائے۔ڈاکٹر معراج الدین نے کہا کہ سر سید احمد خاں نے علم کے فیضان کی تحریک کو جاری کر کے نسلوں کو زندگی دینے کا کار نامہ انجام دیا۔انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ سر سید تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر زور دیتے تھے ۔آج ایک بار پھر قوم کو سر سید کے دکھائے ہوئے اس راستے کی اشد ضرورت ہے۔نائب شہر قاضی محترم زین اراشدین نے کہا کہ سر سید ہندوستان میں جدید تعلیم کے بانی تھے۔جب اہل وطن کو سہارا اور تعلیم کی اشد ضرورت تھی۔ان کی جلائی علم کی شمع سے آج پوری دنیا فیض یاب ہو رہی ہے۔قاری شفیق الر حمان قاسمی نے کہا کہ تعلیم و تربیت یقیناًضروری ہیں لیکن نوجوان نسل کے لیے خصوصیت کے ساتھ تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے کیونکہ اس کے مطالعے سے بہت سی غلط فہمیاں دور ہو سکتی ہیں۔سرسید احمد خاں نے بھی اس پر زور دیا تھا۔سید جاوید اختر نے بھی اس موقع پرجلسے کو خطاب کیا۔آخر میں اپنے صدارتی خطبے میں ڈاکٹرا سلم جمشید پو ری نے کہا کہ سر سید ایسے زمانے میں سامنے آئے جب قوم بے سہارا،ناتواں،کمزور اور تعلیم کے مقصد سے بے بہرہ تھی۔ آج سر سید کا جاری کردہ یہ مشن یعنی تعلیم تو قدرے عام ہوچکی ہے مگر یہ دور مقابلہ جاتی دور ہے اور اس دور میں علم کے ساتھ ساتھ اچھے نمبروں کی بھی ضرورت ہے۔اس لیے میرے سامنے بیٹھے ہو ئے یہ بچے عہد کریں کہ اسکول سے کبھی غیر حا ضر نہیں ہوں گے اور اچھے نمبر لا کر اپنا،اپنے والدین اور ملک کا نام رو شن کریں گے۔اس مو قع پرذیشان خان، ڈا کٹر آصف علی، ڈا کٹر شاداب علیم، فائزہ آصف، اکرام بالیان، عا بد، را شد، رضا حیدر،فرحانہ،طاہرہ، وصی حیدر، محمد صا دق، شو کت احمد داس اور کثیر تعداد میں طلباو طالبات نے شر کت کی۔کل مو رخہ14اکتو بر2014ء کو سر سید لیکچر سیریز کا دوسرا پرو گرام سر سید میمو ریل پبلک اسکول، زیدی نگر سو سائٹی، میں 11بجے منعقد ہو گا۔ جس کی صدارت ڈا کٹر اسلم جمشید پوری اور نظا مت کے فرا ئض آفا ق احمد خاں انجام دیں گے۔ جب کہ مقررین کے طور پر ڈاکٹر سراج الدین احمد، قاری شفیق الرحمن قاسمی، محترمہ رو حامہ عقیل اور حاجی مشتاق سیفی شریک ہوں گے۔

...


Advertisment

Advertisment