Today: Thursday, November, 22, 2018 Last Update: 01:55 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے شیوسینا پر کی تنقید


دہلی میں بی جے پی کی شکست مودی کی ذاتی ہار نہیں:فرنویس
ممبئی11فروری یو این آئی(یو این آئی) دوسرے کے گھر میں پیر رکھ کر کئی دنوں تک آرام کر نے کا موقعہ نہیں ملتا اس قسم کی تنقید آج یہاں مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے شیوسینا پر کی ہے ۔ شیوسینا سر براہ ادھو ٹھاکرے نے دہلی میں بی جے پی کی شکست پر یہ کہا تھا کہ عوام کا اعتماد متزلزل ہونے میں دیر نہیں لگتی ہے اس الیکشن میں مودی لہر ختم ہوگئی اس بات کا غماز دہلی میں آپ کی فتح ہے ۔ ریاست کے وزیر اعلی نے کہا کہ ہمیں شکست کی وجوہات پتہ کر نی ہوگی اس کے علاوہ پارٹی اپنا خود احتساب بھی کر ے گی کسی کو اس میں رائے زنی کر نے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ بی جے پی کی دہلی میں شکست کے بعد شیوسینا ۔ بی جے پی میں ایک مرتبہ پھر چپقلش بڑھ گئی ہے ۔ شیوسینا کے ترجمان مراٹھی روزنامہ سامنا میں شیوسینا سر براہ نے نہ صرف یہ کہ بی جے پی کی شکست پر اداریہ میں وزیر اعظم نریندر مودی 249 بی جے پی صدر امیت شاہ پر تنقید کی بلکہ بی جے پی کی کارگزاریوں پر بھی افسوس اور تنقید کی ہے ۔ ریاست میں شیوسینا کے کابینی وزراء بھی بی جے پی کے خلاف محاذ کھول رہے ہیں۔ گزشتہ کل آپ کی نمایاں کارکردگی کے بعد شیوسینا کے وزیر مملکت راٹھور نے ناسک میں اس کے خلاف اپنا احتجاج بھی درج کرایا ہے راٹھور کا کہنا ہے کہ ایسے محکمہ کا کیا فائدہ جس میں اختیارات نہ ہو اور اس کے ذریعہ عوام کے فلاح کے کام نہ ہوسکے ۔ناسک میں جب وزیر اعلی صحافیوں سے رو برو ہوئے تو انہوں نے کہا کہ راٹھور کا معاملہ زائد اختیارات کا ہے اس کا تصفیہ کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شیوسینا اور بی جے پی مہاراشٹر میں اتحادی ہے اس معاملے میں دونوں پارٹیاں کوئی فیصلہ کر ے گی ۔ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے اب شیوسینا کے خلاف کھل کر محاذ آرائی شروع کردی ہے اس کا ثبوت دیویندر فڑنویس کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے کہا کہ شیوسینا کو اس سلسلے میں متفکر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بی جے پی اس بارے میں شکست کے اسباب کا جائزہ لے کر کوئی لائحہ عمل تیار کرے گی ۔شیوسینا کے نشانے پر وزیر اعلی کے بعد اقلیتی وزیرایکناتھ راؤ کھڑسے بھی رہے ہیں شیوسینا نے ایکناتھ کھڑسے پر بھی تنقید شروع کر دی ہے تعلیمی معاملات میں مراٹھی میڈیم اسکولوں میں اردو کی تعلیم دئیے جانے پر بھی شیوسینا نے انہیں ہری ٹوپی تحفہ بھی دی تھی ایسے میں اب شیوسینا اور بی جے پی کے اختلافات جگ ظاہر ہوگئے ہیں اور یہ دونوں پارٹیوں کے کارکنان کی خلیج کا ثبوت ہے ۔ اسی درمیان ریاست کے مبصرین کا کہنا ہے کہ دہلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی نمایاں کامیابی اور بی جے پی کی کراری شکست کا اثر مہاراشٹر پر بھی ہوگا ۔ نیز شیوسینا ۔ بی جے پی کے تعلقات میں شگاف پڑنے کے اثرات نمایاں ہوگئے ہیں۔سیاسی مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ دہلی انتخابات کے نتائج کا اثر قومی سطح پر ہوگا اور جلد ہی یو پی اور بہار میں منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات بی جے پی کے لئے سخت ہوں گے ۔دریں اثنا دہلی اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی شرمناک شکست پر مہاراشٹر کے وزیراعلی دیویندر فرنویس نے کہا کہ اسے وزیراعظم نریندر مودی کی ذاتی شکست کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے ۔مسر فرنویس نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ایک ایسی پارٹی ہے جو اگر جیت پر جشن مناتی ہے تو اپنی شکست کو بھی پوری شدت سے تسلیم کرتی ہے ۔ ہم اپنی شکست کے اسباب پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں اور آئندہ کامیابی کے لئے متحد ہوکر محنت کرتے ہیں۔انہوں نے سوالیہ لہجے میں کہا کہ کیاگرام پنچایت الیکشن میں ملنے والی شکست کے لئے صرف سرپنچ کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے ۔ اگر شیو سینا میونسپل کارپوریشن کا الیکشن ہار جاتی ہے تو کیا اس کی پوری ذمہ داری اودھو ٹھاکرے اپنے اوپر لینے کے لئے تیار رہیں گے ۔ ایسا نہیں ہوتا ہے ۔ اس لئے دہلی میں ہونے والی شکست کو مسٹر مودی کی ذاتی شکست کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے ۔مسٹر فرنویس دہلی کے نتائج پر شیو سینا کے اخبار سامنا میں مسٹر ٹھاکرے کے اس اداریہ پر سخت ردعمل ظاہر کررہے تھے جس میں پوچھا گیا ہے کہ ‘‘دہلی کی شکست اگرمودی کی شکست نہیں ہے تو پھر کیا ہے ۔ اس اداریہ میں مزید لکھا گیا ہے کہ دہلی کے لوگوں نے بی جے پی کا جھاڑو سے صفایا کردیا ہے ’’۔کل دہلی کے نتائج کا اعلان ہونے کے موقع پر بھی مسٹر ٹھاکرے نے عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کو فون پر مبارک باد دی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ ان کی حلف برداری تقریب میں دہلی ضرور آئیں گے ۔اس کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت میں وہ یہاں تک کہہ گئے کہ ملک میں مودی لہر کی بات کی جاتی ہے ۔
لیکن دہلی کے عوام نے یہ دکھا دیا ہے کہ کیجریوال کی سونامی اس لہر سے زیادہ طاقتور ہے ۔مسٹر ٹھاکرے اور مسٹر فرنویس کے درمیان اس بیان بازی سے مہاراشٹر میں حکمراں اتحاد بی جے پی اور شیو سینا کے رشتوں میں مزید تلخی پیدا ہوجانے کا خدشہ بڑھ گیا ہے ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment