Today: Tuesday, November, 13, 2018 Last Update: 09:35 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

تھرور کی برخواستگی کے سوالوں پر کا نگریس کاناطقہ بند

 

پارٹی کی ترجمان شوبھا اوجھا نے نہیں دیا میڈیا کے سوالوں کا جواب ، منموہن سے متعلق بیان پر معافی مانگیں امت شاہ:کانگریس

محمداحمد

نئی دہلی،13اکتوبر( ایس ٹی بیورو) کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر مملکت برائے خارجہ امور و فروغ انسانی وسائل ششی تھرور کو ترجمان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد آج کانگریس نے کہا ہے کہ کیرل پردیش کانگریس کمیٹی کی شکایت تھی کہ ششی تھرور کے بیانوں اور ان کے کمینٹ سے پارٹی میں شدید غم و غصہ تھا ۔ کارکنان کافی ناراض تھے ۔ جسکے سبب کے پی سی سی نے شکایت کی ۔ وہ شکایت ڈسپلنری بورڈ کوارسال کی گئی ۔ بورڈ نے اپنی سفارشات کانگریس صدر کو ارسال کیں ، اور کانگریس صدرنے بورڈ کی سفارشات کو منظوری دیتے ہوئے انہیں انکے عہدے (ترجمان) سے ہٹادیا ۔
آج جب میڈیا نے کانگریس پارٹی کی ترجمان شوبھا اوجھا سے پوچھاکہ کیا مودی کے ’صاف بھارت مہم ‘ سے جڑنے سے پارٹی ششی تھرور سے ناراض تھی؟ پارٹی ششی کے اس فیصلے کو کس نقطہ نظرسے دیکھتی ہے ؟ اس پر شوبھا اوجھانے سوالوں کا جواب نہ دیکر حامدکی ٹوپی محمود کے سررکھتے ہوئے کہا کہ ایک طرف وزیراعظم نریندر مودی گاندھیائی اصولوں کی بات کرتے ہیں دوسری جانب مظفرنگر فسادات کے ملزمین کی تکریم کی جاتی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی واقعی میں گاندھین بننا چاہتا ہے تو اسے گاندھی جی کے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔ ایسا نہیں ہوگا کہ جن اصولوں کو وہ چاہے مانے اور جن کو چاہے ترک کردے ، کیونکہ گاندھی اہنسا کے حامی تھے اور دنیا جانتی ہے کہ بی جے پی میں کیسے لوگ ہیں ۔ انہوں نے مودی سے متعلق لال کرشن اڈوانی کے ایک قول کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل درست ہے کہ مودی جی ایک اچھے ایونٹ مینیجر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صاف بھارت مہم ہماری اسکیم نرمل بھارت کی ری پیکیجنگ ہے ۔ اسی طرح دھن جن یوجنا سمیت متعدد اسکیمیں ہماری ہی اسکیموں کی ری پیکیجنگ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک مودی حکومت یوپی اے کی اسکیموں کی ری پیکیجنگ میں جٹی ہوئی ہے ۔
شوبھااوجھانے بی جے پی کے مرکزی صدر امت شاہ پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ سے متعلق جو بیان دیا ہے اسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ انہوں نے امت شاہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ۔ انہو ں نے کہا کہ امت شاہ کایہ کہنا کہ منموہن سنگھ صرف دوعورتوں ( سونیا گاندھی اور اپنی بیوی ) سے بات کرتے تھے یہ نہ صرف ہم عورتوں کی بے عزتی ہے جسے ہم کبھی برداشت نہیں کریں گے ، بلکہ آئین کے عہدے کا اپمان(مذاق) ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ اس سے پتہ چلتاہے کہ بی جے پی کی سوچ کتنی گھٹیا ،گندی و خراب ہے اور یہ لوگ سیاست کا معیا رکہاں لے کر جارہے ہیں ۔

...


Advertisment

Advertisment