Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 10:39 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

محمد افضل گورو کو پھانسی دینے کا فیصلہ انتہائی افسوس ناک تھا:نیشنل کانفرنس

 

سری نگر، 9فروری (یو ا ین آئی) نیشنل کانفرنس نے تہاڑ جیل میں سپرد خاک محمد افضل گورو کی جسد خاکی کو لواحقین کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ہند کو چاہئے کہ وہ بغیر کسی مزید طوالت کے مرحوم کے گھر والوں کو یہ راحت پہنچائے تاکہ اُن کے زخموں اور غموں کا تھوڑا بہت مداوا ہو۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ گورو کو پھانسی دینے کا فیصلہ انتہائی افسوس ناک تھا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے تو محمد افضل گورو کو پھانسی دینے جیسا انتہائی فیصلہ کرنا ہی غلط تھا کیونکہ یہ تاثر عام ہے کہ افضل گورو کو صحیح اور پوری قانونی امداد فراہم نہیں کی گئی اس کے علاوہ سابق جموں وکشمیر حکومت اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بار بار کہتے رہے کہ افضل گورو کی رحم کی اپیل کو منظو کیا جائے ۔ یہاں تک کہ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور دیگر ممبرانِ پارلیمان اور راجیہ سبھا نے بھی رحم کی اپیل منظور کرنے کی بار بار تلقین کی لیکن مرکز نے یہ انتہائی فیصلہ لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ حد تو یہ ہے کہ محمد افضل گورو کو پھانسی دینے کے معاملے میں تمام لوازمات کو نظرانداز کیا گیا۔ ساگر نے کہا کہ محمد افضل گورو کے بعد متعدد افراد یہاں تک سابق وزیر اعظم آنجہانی راجیو گاندگی کے قاتلوں کی پھانسی کی سزا عمر قید میں تبدیل کی گئی ، جو کشمیریوں کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک خود بیان کرتا ہے ۔رحم کی اپیلوں کی درخواستوں میں افضل گورو سے پہلے کئی دوسرے کیس بھی تھے لیکن آج کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی جتلاتے پھر رہے بی جے پی والوں نے حکومت وقت پر ایسا دباؤ ڈالا کہ گورو کا کیس پہلے نمبر پر لاکر اس پر بے رحم فیصلہ صادر کیا اور اسی بی جے پی کے اتحادی پی ڈی پی والوں نے اس پھانسی پر سب سے زیادہ سیاست کی اور آج بھی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر قلم دوات جماعت والے اقتدار کے نشے میں دُت نہ ہوتے تو شاید افضل گورو تختہ دار پر نہ چڑھایا گیا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ جب مفتی سعید ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے اور پی ڈی پی کی سرکار تھی، اگر اسی وقت افضل گورو کی مدد کی جاتی تو وہ آج زندہ ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ افضل گورو کوپہلی بار 18دسمبر 2002کو پھانسی کی سزا سنائی گئی اس وقت مفتی صاحب ریاست کے وزیر اعلیٰ تھی۔اس کے بعد افضل گورونے دہلی ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں سزا کیخلاف اپیل کی اور 2005 تک قانونی جنگ لڑی، لیکن بدقسمتی سے آج جھوٹے اور فریبی بیان بازی کرنے والے اُس کی مدد کیلئے آگے نہیں آئے اور نہ ہی اُس کے حق میں کوئی بات کہی۔ نہ تو مفتی سعید ،نہ ان کی بیٹی اور نہ ہی ان کی جماعت کے کسی لیڈر نے اپنے دور اقتدار کے دوران محمد افضل گورو کو قانونی مدد فراہم کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ افضل گورو نے 2002سے 2005تک طویل قانونی جنگ لڑی، جس سے پورا ملک خصوصی کشمیری بخوبی واقف ہیں، لیکن اقتدار کے نشے میں دُت پی ڈی پی والوں کی کان پر جوں تک نہیں رینگی اور بالآخر قانونی امداد نہ ملنے کی وجہ سے 2005میں سپریم کورٹ نے سزائے موت برقرار رکھی۔ انہوں نے حکومت ہند سے مانگ کی کہ محمد افضل گورو کے جسد خاکی کو جلد سے جلد لواحقین کے حوالے کرے اپنی قابل شرم غلطی کا ذرا سا ازالہ کریں۔

 

 

 

...


Advertisment

Advertisment