Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 02:19 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

نیک ٹیم کے روبرو یونیورسٹی کا موقف کافی اثردار ہے

 

نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈٹیشن کونسل کے صدر اور جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر جی این قاضی نے نیک ٹیم کے ساتھ اے ا یم یو وائس چانسلر سمیت اعلی افسران سے ملاقات کے بعد کی وضاحت
فہمیدہ پروین
علی گڑھ،09؍فروری(ایس ٹی بیورو)نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈٹیشن کونسل ( نیک ) کی ٹیم نے آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سب سے پہلے سوشل سائنس فیکلٹی کے کانفرنس ہال میں وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ ( ریٹائرڈ) سمیت اعلیٰ افسران سے ملاقات کی۔وائس چانسلر جنرل شاہ نے نیک ٹیم کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ اور اس کی سرگرمیوں سے متعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ملک کا ایک عظیم تعلیمی ادارہ ہے جسے آئینِ ہند نے ’’ قومی اہمیت‘‘ کا ادارہ تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو کو ملک کی اولین گرین یونیورسٹی بنانے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں ساتھ ہی ملک میں یہ ایسا واحد ادارہ ہے جہاں رائڈنگ کلب ہے اور مستقبل میں یہاں گولف کورس بھی قائم کیا جا رہا ہے جو ملک کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں نہیں ہے۔جنرل شاہ نے پاور پوائنٹ کے ذریعہ یونیورسٹی کے تعلیمی، تحقیقی، ادبی ، ثقافتی ا ور کھیل کودکی سرگرمیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے نیک ٹیم کو اس ادارے کے تعلق سے معلومات مہیا کرائیں۔نیک ٹیم کے صدر اور جامعہ ہمدرد کے و ائس چانسلر پروفیسر جی این قاضی نے کہا کہ یونیورسٹی نے نیک ٹیم کے روبرو جو موقف پیش کیا ہے وہ کافی زود اثر ہے۔ ٹیم کے اراکین نے بھی اپنی اپنی سطح پر معلومات حاصل کیں۔ نیک ٹیم کے اراکین نے اے ایم یو کے کچھ ممتاز سابق طلبأ سے بھی تبادلۂ خیال کیا۔یونین پبلک سروس کمیشن کے سابق صدر پروفیسر ڈی پی اگروال نے کہا کہ ملک میں یہ واحد ایسی یونیورسٹی ہے جس نے یونین پبلک سروس کمیشن کو دو چیئرمین دئے۔ ان سے قبل پروفیسر اے آر قدوائی بھی یو پی ایس سی کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ا س ادارہ کے سابق طلبأ یہاں کے سفیر بن کر پوری دنیا میں اس ادارہ کا نام روشن کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے قیام میں بھی یہاں کے سابق طلبأ سرگرم رول ادا کر رہے ہیں۔ امریکہ میں بڑی تعداد میں یہاں کے سابق طلبأ کام کر رہے ہیں۔ممتاز ہاکی کھلاڑی مسٹرظفر اقبال نے کہا کہ ملک کی دیگر یونیورسٹیوں کے مقابلہ میں یہاں کھیل کی بہتر سہولیات دستیاب ہیں اورا س ادارہ نے بڑی تعداد میں اولپپئین پیدا کئے ہیں جنہوں نے نہ صرف اے ایم یو بلکہ ملک کا نام ساری دنیا میں روشن کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وائس چانسلر جنرل شاہ خود بھی کھلاڑی ہیں اس لئے وہ کھیلوں کی کافی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور کھیل کا رواج بہت تیزی کے ساتھ پنپ رہا ہے۔نلسارقانون یونیورسٹی، حیدر آباد کے وائس چانسلر پروفیسر فیضان مصطفےٰ نے کہا کہ سابق طلبأ کے رول کو تسلیم کرتے ہوئے یونیورسٹی ایکٹ میں25سابق طلبأ کو یونیورسٹی کورٹ میں نمائندگی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کالج کو یونیورسٹی بنانے میں بھی یہاں کے سابق طلبأ نے سرگرم رول ا دا کیا اور وہ اب بھی اس ادارہ کے فروغ کے لئے سرگرمِ عمل ہیں۔کالی کٹ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر پروفیسر انور جہاں زبیری نے کہا کہ اس ادارہ نے اپنے قیام سے ہی خواتین کی خود مختاری پر زور دیا ہے اور اپنا پہلا چانسلر سلطان جہاں بیگم کو بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی طالبات نے زندگی کے ہر میدان میں سرگرم رول ادا کیا ہے۔گڑھوال یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ایس کے سنگھ نے کہا کہ تقریباً چالیس سال تک ان کا اس ادارہ سے تعلق رہا ہے۔ یہ دیگر یونیورسٹیوں سے مختلف ہے اور سماج کے کمزور طبقے کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع مہیا کرا رہا ہے۔ یہاں کم قیمت پر معیاری تعلیم مہیا کرائی جارہی ہے۔ یہاں کے طلبأ میں آپسی محبت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔دلّی سے آئے اے ایم یو کے سابق طالب علم ڈاکٹر ڈی پی ایس طور نے کہا کہ دلّی میں رہ رہے یہاں کے میڈیکل کے سابق طلبأ غریبوں کو مفت طبی سہولیات مہیا کرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود دیہی علاقے کی عوام کو طبی خدمات مہیا کرا رہے ہیں۔انہوں نے مشورہ دیا کہ جے این میڈیکل کالج کو بھی کچھ دیہاتوں کو گود لے کر طبی سہولیات مہیا کرانی چاہئیں۔مدھیہ پردیش کے آئی جی لوک آیکت مسٹر ایس ایم افضل نے کہا کہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ ا سلامیہ کے رجسٹرار رہ چکے ہیں۔ یہاں کے طلبأ اپنے ادارہ سے گہری عقیدت رکھتے ہیں اور اس کی فلاح کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔دلّی سے آئے مسٹر آصف جاہ نے کہا کہ اے ایم یو میں اسمارٹ کلاس روم کے قیام کے لئے سابق طلبأ نے ہی چندہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرو کی خوشبو مرزا جو چندریان مشن کا حصہ تھیں وہ بھی ا سی ادارہ کی طالبہ رہ چکی ہیں۔ مسٹر جلیل احمد نے کہا کہ وہ امریکہ کی کمپنی میں کام کرتے ہیں اور کارپس فنڈ کے قیام کے لئے سرگرم رول ادا کر رہے ہیں۔ممتاز سابق طلبأ سے یہ تبادلۂ خیال الیومنائی آفس میں ہوا جس کے لئے الیومنائی افیئرس کمیٹی کے صدر پروفیسر جی جی دویدی نے سرگرم رول ادا کیا۔وائس چانسلر جنرل شاہ نے کہا کہ یہاں کے سابق طلبأ ہمارا سب سے بیش قیمت ورثہ ہیں اور وہ برابر ہر طرح کا تعاون پیش کر رہے ہیں۔ اس موقعہ پر پرو وائس چانسلر برگیڈیئر ایس احمد علی بھی موجود تھے۔نیک کی اس ٹیم نے اسٹوڈینٹس یونین ہال میں طلبأ یونین کے عہدیداران، نمائندوں اور عام طلبأ سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے طلبأ میں اپنی مادرِ درس گاہ کے لئے گہری محبت اور عقیدت ہے اور یہاں کے طلبأ نے جو پر جوش استقبال کیا ہے اس کے لئے نیک ٹیم ان کی مشکور ہے۔

...


Advertisment

Advertisment