Today: Wednesday, September, 19, 2018 Last Update: 10:58 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

جموں میں بی جے پی کے خلاف احتجاجی مہم شروع

 

مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کو جموں وکشمیر کی شہریت اور اسمبلی انتخابات میں ووٹ کا حق دینے کے مطالبات پر اقتدار کی خاطر سمجھوتہ
جموں،5 فروری (یو ا ین آئی) جموں وکشمیر میں اگرچہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحادپر مبنی حکومت امکانی طور پر محض ایک ہفتے کی دوری پر ہے لیکن بی جے پی کے مضبوط گڑھ جموں میں اس کے خلاف احتجاجی مہم شروع کردی گئی ہے ۔ یہ احتجاجی مہم حال ہی میں وجود میں آنے والی جموں پردیش یونائیٹڈفرنٹ نامی آرگنائزیشن کی جانب سے شروع کی گئی ہے ۔ اس آرگنائزیشن نے بی جے پی پر الزام لگایا ہے کہ اُس نے صوبہ جموں سے وزیراعلیٰ کی تقریری کی دیرنہ مانگ اور مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کو جموں وکشمیر کی شہریت اور اسمبلی انتخابات میں ووٹ کا حق دینے کے مطالبات پر اقتدار کی خاطر سمجھوتہ کیا۔ - جے پی یو ایف نے کل ہی جموں سے وزیراعلیٰ کی تقرری اور مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کو ریاست کی شہریت دینے کے حق میں احتجاجی مارچ منظم کیا۔ احتجاجیوں کی قیادت فرنٹ کے کنوینئر اور پنتھرس پارٹی کے صدر بلونت سنگھ منکوٹیا کررہے تھے ۔ مسٹرمنکوٹیا کا دعویٰ ہے کہ صوبہ جموں کی مختلف سیاسی جماعتوں نے جے پی یو ایف تشکیل دے دی ہے جو صوبہ جموں کے مطالبات کو منوانے کیلئے جنگ لڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں صوبہ جموں سے 25 سیٹوں پر جیت درج کرنے والی بی جے پی کیلئے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ صوبہ جموں سے وزیر اعلیٰ کی تقرری کا خواب شرمندہ تعبیر کریں اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ صوبہ جموں کے لوگوں کی توہین اور ان کے ساتھ سب سے بڑا دھوکہ ہوگا۔اگر رپورٹوں پر اعتبار کیا جائے تو بی جے پی نے پہلے ہی وزارت اعلیٰ کی کرسی پورے چھ سال کیلئے مفتی محمد سعید کو دینے کی حامی بھر لی ہے وہیں۔
ان رپورٹو ں کے مطابق نائب وزیراعلیٰ کی کرسی بی جے پی کے پاس رہے گی۔اس کے علاوہ دونوں جماعتوں نے دفعہ 370 اور فوج کو حاصل خصوصی اختیارات جیسے حساس معاملات کو سرد خانے میں ڈالنے پر اتفاق قائم کرلیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی نے صوبہ جمو ں سے وزیر اعلیٰ کی تقرری اور مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کو ریاست کی شہریت اور اسمبلی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے مطالبات زبردست انداز میں اٹھائے تھے تاہم معلق اسمبلی وجود میں آنے کے بعد بی جے پی نے اپنے موقف میں غیرمعمولی نرمی لائی۔ پی ڈی پی اور بی جے پی پورے چھ سال تک حکومت چلانے کیلئے کم از کم مشترکہ پروگرام مرتب کرنے والی ہیں۔ جے پی یو ایف کی مانگ ہے کہ مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کو ریاست کی شہریت دینے کا مطالبہ کم از کم مشترکہ پروگرام میں شامل کرلیا جائے۔ - تاہم پی ڈی پی ، بی جے پی امکانی اتحاد میں اہم رول ادا کرنے والے پی ڈی پی کے سینئر لیڈر و رکن پارلیمنٹ مظفر حسین بیگ کی جانب سے مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کے معاملے پر حال ہی میں سامنے آنے والے بیان سے لگ رہا ہے کہ رفیوجیوں کا معاملہ کم از کم مشترکہ پروگرام میں شامل کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم ان رفیوجیوں کو مستقل شہریت اور حق رائے دہی دیناجموں وکشمیر کی اسمبلی کے حد اختیار میں ہے جس کیلئے اسمبلی میں بل پاس ہونا لازمی ہے ۔ اگرچہ مغربی پاکستان کے اِن رفیوجیوں کو جموں وکشمیر کی مستقل شہریت دینے کیلئے فروری 2007 کو نیشنل پنتھرس پارٹی کی طرف سے جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں ایک بل لایا گیا تھا تاہم اُس سے تب مسترد کردیا گیا تھا۔

 

...


Advertisment

Advertisment