Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 05:14 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

فرقہ پرستی کو شکست دینے کیلئے بیدار ہونا انتہائی ضروری: سلمان خورشید


مصطفی آباد میں حسن احمدکیلئے اترے کئی ممبران اسمبلی*اسٹارفلم اداکارہ مہیما چودھری نے عوام کے جم غفیر کودیکھتے ہوئے پیار کا اظہار کرتے ہوئے مانگے ووٹ*ہزاروں کی تعداد بتا رہی ہے کہ مصطفی آباد میں آ چکی ہے کانگریس کی سنامی : حسن احمد *سیفی سماج امن کمیٹی اور مختلف برادریوں کاحمایت کا اعلان
نئی دہلی،4فروری(ایس ٹی بیورو) دہلی اسمبلی الیکشن کے انتخابی تشہیر کے آخری دنوں میں مصطفی آباد سے کانگریس امیدوار حسن احمد نے گذشتہ روز اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کا دل جیت لیا۔ منگل کی شب مان سنگھ نگر میدان میں منعقدہ انتخابی جلسے کے بعد حسن احمدکے چہرے کھل گئے ہیں اور ان کے حامیوں میں زبردست جوش وخروش دیکھنے کو مل رہا ہے اور مخالفین مایوس نظرآنے لگے ہیں۔ حسن احمدکی حمایت میں سابق وزیرخارجہ سلمان خورشید، بالی ووڈ کی معروف فلم اداکارہ مہیما چودھری، ایم ایل سی نصیب پٹھان، خورجہ سے ایم ایل اے بنسی پہاڑیہ، رڑکی سے ممبر اسمبلی فرقان احمد،حلقہ کے کانگریس آبزرورنظام ملک، کونسلر پروین بیگم، حاجی تاج محمد، محمد معروف،محمود حسن، علی مہدی، ولی مہدی، عباس مہدی وغیرہ موجود تھے۔ جلسے میں شامل ہونے والوں میں جہاں ایک جانب بزرگ اور خواتین کی بڑی تعداد تھی وہیں دوسری جانب ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں نے بھی شرکت کی۔ مصطفی آبادکے اس تاریخی جلسے میں پورا علاقہ’’کانگریس زندہ آباد، حسن احمد زندہ آباد، مہر لگے گی ہاتھ پر‘‘ کے نعرے سے گونجنے لگا،جب بالی ووڈ کی معروف فلم اداکارہ مہیما چودھری نے لوگوں سے حسن احمد کی حمایت میں ووٹ کرنے کی اپیل کی۔ عالم یہ تھا کہ مہیما چودھری کی ایک جھلک پانے کیلئے لوگ بیتاب تھے۔ میدان کے علاوہ گردو نواح میں موجود مکانات کی چھتوں تک پر سینکڑوں مر د اور خواتین مہیما چودھری اور حسن احمد کو سننے کیلئے موجود تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے کہا کہ یہاں موجود جم غفیر اس بات کی ضمانت ہے کہ حسن احمد آپ لوگو ں کے پسندیدہ لیڈر ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ اتنی تعداد میں انہیں ووٹ کریں گے کہ ان کے حریف کو اپنی ضمانت بھی بچانی بھاری پڑ جائے گی۔ انہو ں نے کہاکہ پھر بھی میں ایک بات سے ہوشیار کرنا چاہتا ہوں کہ لوگ مختلف قسم کا بھیس بنا کر اور مختلف طریقہ کار اختیار کر کے آپ لوگوں کے درمیان آئیں گے تاکہ آپ گمراہ ہو جائیں اور آپ کا ووٹ تقسیم ہو جائے اور اگر ایسا ہو گیا، تو یاد رکھئے فرقہ پرست طاقتیں اپنے منصوبے میں کامیاب ہو جائیں گی اور مرکز پر تو یہ لوگ قابض ہو ہی چکے ہیں، مگر اس کے بعد دہلی پر بھی ان کا قبضہ ہو جائے گا۔سلمان خورشید نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کے لوگ جب اس جماعت سے کسی بھی بات پر ناراض ہوتے ہیں تو سیدھے بھاگ کر بی جے پی میں جاتے ہیں اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ ہم تو شروع سے ہی بی جے پی کے تھے۔ایسے لوگوں کو زبردست جواب دینے کیلئے ضروری ہے کہ کانگریس کے ہاتھ مضبوط کریں۔ حلقہ مصطفی آباد ہویاپھر دہلی کی کوئی دوسری بستی،سب جگہ کانگریس نے ترقیاتی کام کرائے ہیں۔ حسن احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ سیلاب بتا رہا ہے کہ مصطفی آباد میں کانگریس کی سنامی آ چکی ہے اور وہ وقت دور نہیں کہ جب ایک بار پھر دہلی میں کانگریس کی سرکا ربنے گی۔ نصیب پٹھان نے کہاکہ حلقہ مصطفی آباد کے لوگوں کو فخر کرنا چاہئے کہ ان کے پا س اس وقت ایک ایسا چہرہ موجود ہے، جو نہ صرف دہلی میں بلکہ ملک کے کسی بھی صوبے میں ان کیلئے جد و جہد کرنے کو تیار رہتا ہے۔ انہو ں نے کہاکہ حسن احمدایسا شخص ہے کہ جو حج کے دوران خانہ کعبہ میں اپنے حلقے کے لوگوں کی ترقی اور کامیابی کی دعا کرتا ہے۔ بنسی پہاڑیہ نے بھی اپنے خطاب میں حسن احمد کی ستائش کی اور کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے کانگریس کوو و ٹ کریں تاکہ حسن احمد جیسے لوگ ایوان میں جاکر سیکولرازم کو بچانے کا کام کریں اور بھگوا تنظیموں کو من مانی کرنے سے روک سکیں۔کچھ ایسا ہی کہنا رڑکی سے ممبر اسمبلی فرقان احمد کا بھی تھا، جنہوں نے سبھی لوگوں سے متحد ہو کر عام آدمی پارٹی کے جھانسے میں نہ آکر کانگریس کووو ٹ دینے کی اپیل کی۔اجلاس میں سیفی سماج امن کمیٹی کے سیکڑوں لوگوں نے نہ صرف کانگریس کو حمایت کرنے کا علان کیا بلکہ حسن احمد کو بھاری تعدا د میں ووٹ کر کے کامیاب بنانے کا وعدہ کیا۔ ان کے علاوہ وہاں موجود مختلف برادریوں کے لوگوں نے بھی یقین دہانی کرائی اور ترقی کی ضمانت حسن احمد کو کامیاب بنانے کا وعدہ کیا۔ واضح رہے کہ دہلی اسمبلی الیکشن میں مختلف امیدواروں کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے اب تک کے عوامی انتخابی اجلاس میں یہ سب سے بڑ ااجلاس عام تھا، جس میں ایک اندازہ کے مطابق 15 ہزار لوگوں کے شامل ہونے کی بات کی جا رہی ہے۔ وہیں ماہرین سیاست کا یہ بھی کہنا ہے کہ حسن احمد کے اس جلسے کے بعد وہ انتخابی تشہیر او رمقبولیت میں پہلے نمبر پر چلے گئے ہیں اور شاید ہی اب کوئی ان کی اس کثیر التعداد حمایت کی دیوا ر کو توڑ پائے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment