Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 05:21 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

افسر نے ملزمین کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم کیا


دفاعی وکلا نے کیادعوی ٰ ،اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے میں ڈائٹرکٹر جنرل آف پولس نے غلط گواہی دی تھی
ممبئی3 فروری (یواین آئی)مہاراشٹر میں ہوئے ایک دہشت گردانہ وقعہ اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے میں؟آج یہاں ڈائرکٹر جنرل آف پولس مہاراشٹر اسٹیٹ کی گواہی عمل میں آئی جس نے اس معاملے میں تین مواقعوں پر 23؍ مسلم نوجوانوں کے خلاف مکوکا قانون کے اطلاق کی منظوری دی تھی ۔واضح رہے کہ اسی ڈائرکٹر جنرل آف پولس نے مالیگاؤں2006 بم دھماکہ معاملے بھی ۹؍ مسلم نوجوانوں کے خلاف مکوکا قانون کے اطلاق کی منظوری دی ،حالانکہ قومی تفتیشی ایجنسی نے اپنی تحقیقات میں مسلم نوجوانوں کو بے قصور پایا تھا اور بھگواء دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ملزمین کی گرفتار عمل میںآئی تھی ۔ممبئی کی خصوصی مکوکا عدالت کے جج جی ٹی قادری کے روبرو آج سرکاری گواہ ڈی جی پی سنجیو دیال کی گواہی عمل میں آئی جس سے ملزمین کو قانونی امدا د فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے دفاعی وکلاء نے جرح کی جس کے دوران اس نے اعتراف کیا کہ اسی نے مالیگاؤں2006بم دھماکہ معاملے کے ساتھ اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے میں کل ۳۲؍ مسلم نوجوانوں کے خلاف مکوکا قانون کے اطلاق کی منظور ی دی تھی ۔دفاعی وکیل ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان کی جر ح کے دوران سرکاری گواہ نے اعتراف کیا کہ اس نے اس معاملے میں مبینہ طور ملزمین کے قبضوں سے ضبط کیئے گئے ہتھیاروں کو دیکھا نہیں ہے اور نہ ہی اس نے اس معاملے میں گرفتارکسی ملزم سے ملاقات کی ہے ، البتہ انسداد دہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس) کی جانب سے اسے مہیا کرائی گئی معلومات کے آدھا ر پر اس نے ملزمین کے خلاف مکوکا قانون کے اطلاق کی منظور ی دی تھی ۔دیگردفاعی وکیل ایڈوکیٹ شریف شیخ کی جانب سے لگائے گئے اس الزام سے سرکاری گواہ نے انکار کیا کہ اس نے اے ٹی ایس کے دباؤ میں[؟]آکر بغیر اس کے ذہیں کا استعمال کیئے ہوئے ملزمین کے خلاف مکوکا قانون کے اطلاق کی منظور ی دی تھی ۔مالیگاؤں2006 ؁ بم دھماکہ معاملے میں مسلم نوجوانوں کے خلاف مکوکا قانون کے اطلاق کی منظوری دینے والے افسر کی گواہی جمعیۃ علماء کے وکلاء نے آج خصوصی جج کے سامنے یہ بات پیش کرنے کی کوشش کی کہ جس طرح سے اے ٹی ایس نے مالیگاؤں2006 بم دھماکہ معاملے میں ۹؍ مسلم نوجوانوں کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسا کر ۵؍ سالوں تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنے پر مجبوری کیا تھا اور اسی افسر نے ملزمین کے خلاف مکوکا قانون کے اطلاق کی منظور دی تھی جو بعد میں جھو ٹ کا پلندہ ثابت ہوا تھا اسی طرح اورنگ آبا داسلحہ ضبطی معاملے میں بھی اے ٹی ایس نے ۲۳؍مسلم نوجوانوں کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم کیا ہے اور اسی افسر نے ان کے خلاف بھی مکوکا قانون کے اطلاق کی اے ٹی ایس کے دباؤ میں[؟]آکر منظوری دی تھی ۔اسی درمیان سرکاری وکیل وبھئے بگاڑے کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے سرکاری گواہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ 2006 سے لیک2009 کے درمیان وہ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولس لاء اینڈر آرڈر کے فرائض انجام دے رہے تھے ۔سرکاری وکیل نے خصوصی جج کو مزید بتایا کہ اس نے اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے میں تین مواقعوں پر ملزمین کے خلاف مکوکا قانون کے اطلاق کی منظوری دی تھی ۔پہلی مرتبہ 5؍ اگست کو 16؍ ملزمین کے خلاف اور اسی طرح اکتوبر2006 ؁ء اور دسمبر2007۷ ؁ء میں بقیہ ملزمین کے خلاف مکوکا قانون کے اطلاق کی منظوری دی تھی۔اسی درمیان فریقین کی سرکاری وکیل سے جرح مکمل ہوئی جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی کل تک کے لیئے ملتوی کردی۔دوران کارروائی عدالت میں جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ آصف نقوی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری ، ایڈوکیٹ افضل نواز، ایڈوکیٹ ارشد و ایڈوکیٹ توصیف شیخ موجود تھے ۔

 

...


Advertisment

Advertisment