Today: Thursday, November, 15, 2018 Last Update: 03:02 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

سابق مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کا معاملہ


پی ڈی پی لیڈر کے بیان پر کشمیری علیحدگی پسند لیڈران سیخ پا
سری نگر،2فروری (یو ا ین آئی) پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان جموں وکشمیر میں امکانی اتحاد میں اہم رول ادا کرنے والے پی ڈی پی کے سینئر لیڈر و رکن پارلیمنٹ مظفر حسین بیگ نے جموں میں مقیم سابق مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کے معاملے پر ایک بیان دے کر تنازع کھڑا کردیا ہے ۔ سابق مغربی پاکستان کے رفیوجیوں سے متعلق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات اور وزیر داخلہ کی جانب سے اِن رفیوجیوں کیلئے مراعات کے اعلان پرعلیحدگی پسند لیڈران کی طرف سے شدید تنقید سامنے آنے کے بعد مسٹر مظفر حسین بیگ نے گذشتہ روز معاملے کو ایک انسانی مسئلہ قرار دیا۔اُن کے اس بیان پر تمام علیحدگی پسند جماعتیں سیخ پا ہوئیں اوراخباری بیانات جاری کرکے مظفر بیگ کو کھری کھری سنائی۔ مظفر حسین بیان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سابق مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کا معاملہ ایک انسانی مسئلہ ہے جس سے حل کرنے کیلئے اُن کے پاس فارمولہ ہے ۔ اس بیان پر علیحدگی پسند جماعتوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے ۔لبریشن فرنٹ کے چیرمیں محمد یاسین ملک کا کہنا ہے کہ مظفر حسین بیگ نے یہ بیان آر ایس ایس کو خوش کرنے اور مرکزی کابینہ میں جگہ پانے کیلئے دیا۔ سخت گیر حریت کانفرنس نے کہا کہ پی ڈی پی اب بی جے پی کی بولی بولنے لگی ہے ۔ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے چیرمین شبیر احمد شاہ نے ا سے سودا بازی قرار دیا ۔ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرانی نے پی ڈی پی کو آر ایس ایس کی ایک ذیلی شاخ قرار دیا۔ علیحدگی پسند جماعتوں کا ماننا ہے کہ سابق مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کو ریاست کی شہریت اور اسمبلی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے نتیجے میں جموں وکشمیر کی ڈیموگرافی اور مسلم شناخت متاثر ہوجائے گی جبکہ نیشنل کانفرنس کا کہنا ہے کہ یہ سفارشات جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن اور آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی ایک مذموم سازش کا حصہ ہیں۔قابل ذکر ہے کہ ان رفوجیوں نے تقسیم ہند کے وقت سیالکوٹ پاکستان (صوبہ پنجاب) سے ہجرت کرکے جموں میں پناہ لی تھی اور اس وقت جموں کی سرحدوں پر کٹھوعہ سے پلن والا تک پڑنے والے دیہات میں مقیم ہیں۔ان رفوجیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان سے متصل بین الاقوامی سرحد کے ساتھ والی تین اسمبلی حلقوں (آر ایس پورہ، سچیت گڑھ اور بشناہ) کے 137 دیہات میں مقیم ہیں ۔ انڈین اسٹریمز جرنل کے فروری 2014 کے شمارے میں شائع ایک تحقیقی مقالہ کے مطابق گذشتہ 65 برسوں کے دوران اِن رفیوجیوں کی تعداد اڑھائی لاکھ سے تین لاکھ تک پہنچ گئی ہے ۔ مقالہ کے مطابق ریاست جموں وکشمیر کو دفعہ 370 کے تحت حاصل خصوصی پوزیشن کی وجہ سے یہ رفیوجی نہ زمین کے مالکانہ حقوق ، نہ سرکاری نوکریاں اور نہ راشن کارڈحاصل کرسکتے ہیں اور نہ پنچایتی و اسمبلی کے انتخابات میں بھی اپنے حق رائے کا استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ تاہم پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق رکھتے ہیں۔سابق مغربی پاکستان کے اِن رفیوجیوں کو جموں وکشمیر کی مستقل شہریت دینے کیلئے فروری 2007 کو نیشنل پنتھرس پارٹی کی طرف سے جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں ایک بل لایا گیا تھا جس سے مسترد کردیا گیا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ اُس وقت ریاست میں پی ڈی پی اور کانگریس کی مخلوط سرکار برسراقتدار تھی۔ان رفوجیوں کے کئی مطالبات تھے جن میں ودھوا کمیٹی کی رپورٹ پر عمل درآمد، متروکہ زمین پر ملکیت کے حقوق، کشمیری پنڈتوں کے طرز پر امداد، پیشہ وارانہ کالجوں میں ریزرویشن اور طلباء کیلئے سکالرشپ، ویسٹرن پاکستان رفیوجیز ڈیولپمنٹ بورڈ کی تشکیل، نوجوانوں کیلئے ریاستی اور مرکزی انتظامی خدمات میں ریزرویشن ، جموں وکشمیر پر کسی بھی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں شمولیت وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ان مطالبات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پی بھٹاچاریہ کی قیادت والی ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے اپنی سفارشات پر مبنی رپورٹ وزارت داخلہ کو پیش کی تھی جن میں اِن رفوجیوں کو جموں وکشمیر کی مستقل شہریت دینے ، حق رائے دہی دینا اور جموں وکشمیر کی اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں سیٹیں مختص کرنا بھی شامل ہیں۔ اِن سفارشات میں سے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے 6 جنوری کو بیشتر سفارشات کو منظوری دے دی۔ جن سفارشات کو منظوری دی گئی اُن میں ہر کنبے کو 30 لاکھ روپے کی امداد، پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں میں خصوصی بھرتی اور کشمیری پنڈت مائیگرنٹوں کی طرز پر تعلیمی اداروں میں ریزرویشن شامل ہیں۔ تاہم مستقل شہریت، حق رائے دہی اور سیٹیں مختص کرنا جموں وکشمیر کی اسمبلی کے دائرہ اختیار میں ہے ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment