Today: Monday, November, 19, 2018 Last Update: 10:48 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اقلیتی ترقیاتی فنڈکی رقم بارات گھروں ،قبرستان کی باؤنڈریوں اورآنگن واڈی مراکزکی تعمیر پر خرچ

 

صحافی قاری نسیم منگلوری کے جانب سے حق اطلاعات قانون کے تحت ملی اطلاعات میں ہواخلاصہ
نون الف ہاشمی
منگلور(اتراکھنڈ)،2؍فروری(ایس ٹی بیورو) اتراکھنڈریاست میں قیام پذیر اقلیتی طبقہ کی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی ترقی کے لئے اور ان کی قومی دھارے میں شراکت کو یقینی بنانے کے لئے سابق وزیراعلی وجے بہوگناکی دلچسپی سے اتراکھنڈ حکومت نے فروری 2013 میں چار کروڑ روپئے کی ابتدائی رقم سے اقلیتی ترقیاتی فنڈ کے نام سے ایک اسکیم شروع کی تھی۔ جس کی ساری رقم کو بارات گھروں کی تعمیر،قبرستانو کی بانڈریوں کی تعمیراورآنگن واڈی مراکزکی تعمیر پر خرچ کر دیا گیا ہے۔جبکہ اسکیم کے قوانین کے مطابق یہ رقم اقلیتی طبقہ کی فلاح وبہبودکے ساتھ ہی اقلیتی تعلیمی اداروں پرخرچ کی جانی تھی۔اتراکھنڈکے سابق وزیراعلیٰ وجے بہوگناکی دلچسپی سے اتراکھنڈریاست میںآباد اقلیتی طبقہ کی سماجی، اقتصادی، تعلیمی ترقی کے لئے اور ان کی قومی دھارے میں شراکت کو یقینی بنانے کے لئے2013میں اتراکھنڈ حکومت کی جانب سے اقلیتی ترقیاتی فنڈ کے نام شروع کی گئی اس اسکیم کامقصدصوبہ میں مختلف اسکیموں سے محروم اقلیتی طبقہ کوفیضیاب کئے جانے،ایم ایس ڈی پی اسکیم سے استفادہ نہیں اٹھاپارہے ان اقلیتی علاقوں کوبھی فیض پہنچانے کے لئے اورصوبہ کے وہ اقلیتی تعلیمی ادارے جو کہ حکومت ہند کی تعمیرو ترقی کے لئے چل رہی آئی ڈی ایم آئی اسکیم سے کن ہی وجوہات کے سبب اسکیم سے محروم اداروں میں تعمیروترقی کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ 20 لاکھ روپئے تک کی امدد اس شرط کے ساتھ دستیاب کرانا ، کہ ادارہ اپنی سطح سے 25 فیصد رقم خود خرچ کرے گا۔ وہیں حکومت ہند کی مدرسہ جدیدکاری کے تحت ایس پی قیوای ایم اسکیم سے فائدہ اٹھارہے مدرسوں کوحکومت ہند کی شرح پر کمپیوٹر ٹیچر کی تنخواہ فراہم کرنا تھا۔اس کے علاوہ اقلیتوں کی ترقی سے متعلق اقلیتی طبقہ کے مطالبات کی ترتیب میں مناسب فیصلہ لینا تھا۔ مگر اب تک مذکورہ اسکیم سے کسی بھی مدرسے کو کمپیوٹر ٹیچر کا تنخواہ نہیں دی گئی، وہیں مذکورہ اشیاء کی ساری رقم کو ایک دو اقلیتی تعلیمی اداروں کو چھوڑ کر بارات گھروں کی تعمیر،قبرستانو کی بانڈری اورآنگن واڈی مراکز کی تعمیر پر خرچ کر دیا گیا ہے۔مذکورہ انکشاف صحافی قاری نسیم منگلوری کی جانب سے اقلیتی ڈائریکٹوریٹ اور حکومت سے طلب کی گئی حق اطلاعات کے تحت اطلاع کے جواب سے ہواہے۔حق اطلاعات کے تحت ا قلیتی ڈائریکٹوریٹ دہرادون کے پبلک انفارمیشن افسر کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ریاست سے 42 اقلیتی تعلیمی اسکولوں، مدارس سے کمپیوٹر، فرنیچرس، کمپیوٹر ٹیچر کی تنخواہ، جنریٹر وغیرہ جیسی اشیاء کی تجاویز، 10 تعلیمی اداروں میں اضافی کلاس رومس کی تعمیر کے لئے تجایز ضلع سماج بہبود افسران کی منظوری کے بعد ڈائریکٹوریٹ سے ہوتے ہوئے حکومت کے متعلقہ محکمہ کوملی تھی۔ جن میں مدرستہ المومنین منگلور، مدرسہ تعلیم الاسلام گھاس منڈی منگلور،مدرسہ فیض عام ابوطالب منگلوراورمدرسہ نصرت العلوم موضع گھوسی پورہ میں20-20لاکھ روپئے سے درسگاہوں کی تعمیر،جامعہ حسینیہ مرغوب پورمصطفی آبادمیں12لاکھ سے چاردیواری،مدرسہ عرفان العلوم رامپورروڑکی میں17لاکھ روپئے سے عمارت کی تعمیر، گلزارپبلک اسکول موضع اکبرپورڈھاڈیکی (منگلور) میں 32.97 لاکھ روپئے سے کلاس رومس کی تعمیرکی تجاویز بھی شامل ہے۔ وہیں دہرادون، ہریدوار، ٹہری گڈھوال سے 33 قبرستانو ں کی چار دیواری اور دہرادون ، ہردوار، ادھم سنگھ نگر سے 21 بارات گھروں کی تعمیر کی تجاویز ملی۔ حق اطلاعات کے تحت حکومت انتظامیہ (متعلقہ محکمہ )کے پبلک انفارمیشن افسر بھوپندر سنگھ بورا کی طرف سے دستیاب کرا گئی معلومات کے مطابق دہرادون ضلع میں 2 اداروں میں اضافی کلاس رومس کی تعمیرکی تجویز، ایک ادارہ میں فرنیچر وغیرہ کی تجویز، جبکہ منگلور کے خدیجۃالکبری اسکول پٹھانپورہ میں طلبا و طالبات کے لئے فرنیچر، جنریٹرکی تجویزوہیں موضع مرغوب پورمیں حسینیہ اسلامیہ اسکول میں عمارت کی تعمیر کی قراردادوں کو منظور کیا گیا ہے۔ باقی تمام اداروں کی تجاویز پر آج تک کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکا ہے۔ اطلاع کے مطابق منگلور کے محلہ لالباڈا،محلہ سرائے عزیز،محلہ ملک پورہ ،موضع ٹانڈا بھنیڈا میں اقلیتی ترقی فنڈ سے 25-25لاکھ روپئے سے بارات گھرو کی تعمیر کے تجاویز کومنظوری ملی ہے۔اس کے علاوہ دہرادون، ہردوار، ادھم سنگھ نگر اضلاع میں قبرستانوں کی چار دیواری، بارات گھرو ں کی تعمیر،آنگن واڈی مراکز کی تعمیر پر آٹھ کروڑ میں سے سات کروڑ بانوے لاکھ روپئے خرچ دکھائیے گئے ہیں۔اس طرح اقلیتوں کی ترقی کے نام بنائی گئی اسکیم کی رقم کوٹھکانے لگادیاگیاہے۔ بتایاجاتاہے کہ آنگن واڈی مراکز کی تعمیرپرخرچ کرنے کے لئے کئی اسکیمیں چلائی جارہی ہے،مگراس کے باوجوداقلیتی ترقیاتی فنڈکی رقم سے آنگن واڈی مراکز کی تعمیرکرانااقلیتی طبقہ کے گلے نہیں اترپارہاہے۔

...


Advertisment

Advertisment