Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 01:12 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

سیکولرزم کے نام پر مسلمانوں کا ووٹ تو چاہئے مگر مسلمان نہیں: جے ڈی آر


پٹنہ31جنوری(آئی این ایس انڈیا) جنتا دل راشٹر وادی نے آئین کی تمہید سے سیکولر اور سوشلزم کوہذف کئے جانے کے مطالبہ پر کوئی حیرت کااظہار نہیں کیا ہے۔پارٹی نے کہا ہے کہ آر ایس ایس کی ریمورٹ سے چلنے والی حکومت سے توقع بھی کیا کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اہم سوال یہ بھی ہے کہ ایسی سیکولرزم اور سوشلزم کا کیا ، جو اپنی معنویت مکمل طور سے کھوچکی ہے۔ پارٹی کے قومی کنوینر اور جواں سال مسلم رہنما اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ آئین جب لکھا جارہاتھا اس وقت ہی سیکولرزم کے تئیں ایمانداری برتی گئی ہوتی تو ملک کے تمام شعبہ حیات میں سیکولرزم کی مکمل تصویر نظر آتی۔ 1976تک آئین میں ایک جگہ بھی سیکولرزم اور سوشلزم کا تذکرہ نہیں ہے۔ آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے وزارت عظمیٰ میں دونوں الفاظ جوڑے بھی گئے تو صرف تمہیدمیں۔ تمہید کی کوئی زیادہ اہمیت نہیں ہوتی۔ اس لیے سیکولرزم بھی صرف ہندوستانی سیاست کا شوبھا بن کر رہ گئی۔ ملک ایسی سیکولرزم اور سوشلزم کی کوئی ضرورت نہیں ہے جو اپنی معنویت کھو چکی ہے۔ ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ مابعد آزادی مراد آباد سے لے کر بھاگلپور، گجرات سمیت خوشحال مسلم اکثریت والے شہر کو فسادات کی آگ میں تباہ کردیا گیا اور خود ساختہ سیکولر جماعتیں صرف اس آگ میں سیاسی روٹیاں سینکتی رہیں۔ عدالت عظمیٰ میں حلف نامہ کے باوجود بابری مسجد دن کے اجالے میں بزور طاقت ڈھا دی گئی اورسیکولر ہندوستان بابری مسجد کی شہادت پر تماشہ دیکھتا رہا۔ مسٹر رحمن کہتے ہیں کہ سیکولرزم کے تئیں ملک کی کوئی بھی سیاسی پارٹی ایماندار نہیں رہی۔ سیکولرزم کو سیاست کا حربہ ضرور بنایا گیا مگر عملی جامہ پہنانے کی کسی نے کوشش نہیں کی۔ آئین کی تمہید میں ذکر الگ بات ہے اور سرزمین پر اتارنا دوسری بات ہے۔ سیکولرزم کو عملی زندگی میں نہیں اتارنے کا نتیجہ ہے کہ آج ملک کے دارالسلطنت پر فسطائی طاقت راج کررہی ہے۔ جسٹس سچر کمیٹی کی رپورٹ اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات ساتھ میں بھی سیکولرزم کی پوری طرح قلعی کھول کر رکھ دی کہ سیکولرزم کے علمبرداروں نے کیسے پچیس کروڑ مسلم آبادی کو ہریجن سے بھی بدتر بنا کر رکھ دیا۔ یوپی اے کی حکومت تو خود ساختہ طور سے سیکولر ہی تھی تب سچر کمیٹی رپورٹ کو ایوان کی میز پر رکھنے سے کس نے ہاتھ روک رکھا تھا؟۔ دراصل سیکولرزم کے نام پر ان پارٹیوں کو مسلمانوں کا ووٹ تو چاہئے مگر مسلمان نہیں۔ سوشلزم کا حشرتواس سے بھی برا ہے۔ سماجواد کے بڑے بڑے علمبردار وں کا زعفرانی چہرہ بھی ہم دیکھ چکے ہیں۔
بات تو سماجواد کی کرتے ہیں مگرخودبرادری واد تک محدود ہیں۔ فرقہ پرست جماعتوں کو تقویت بخشنے میں سماجوادیوں کا ہاتھ کم نہیں ہے۔ جنتا دل راشٹروادی کا مانناہے کہ سیکولرزم معنویت کے ساتھ نافذ ہو ورنہ ایسی سیکولرزم سے توبہ ہی بھلا ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment