Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 05:03 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

مفتی کی قیادت والی پی ڈی پی۔ بی جے پی سرکار عنقریب


سری نگر،30 جنوری (یو این آئی) ریاست جموں وکشمیر میں حکومت سازی پر جاری تعطل عنقریب ختم ہونے والا ہے کیونکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان رسمی مذاکرات اگلے چند دنوں میں شروع ہونے کا امکان ہے جس کے لئے دونوں جماعتوں نے مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل دینے کا عمل شروع کردیا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ دونوں جماعتیں عنقریب اپنی اپنی طرف سے سینئر لیڈران پر مشتمل مذاکراتی کمیٹیوں کا اعلان کریں گی جو باضابطہ مذاکرات شروع کرکے چھ سال تک حکومت چلانے کیلئے کم از کم مشترکہ پروگرام مرتب کریں گی۔انہوں نے کہا کہ امکانی طور پر ریاست میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار فروری کے دوسرے ہفتے میں معرض وجود میں آئے گی۔ اگر رپورٹوں پر اعتبار کیا جائے تو حکومت سازی کی دوڑ میں شامل پی ڈی پی اور بی جے پی نے بعض اہم ترین معاملات پر اتفاق رائے قائم کرلیا ہے ۔ جن میں وزارت اعلیٰ کا عہدہ اور بعض اہم قلمدانوں کی تقسیم کے علاوہ حساس معاملات جیسے دفعہ 370 اور فوج کو حاصل خصوصی اختیارات شامل ہیں۔جہاں ان رپورٹوں کے مطابق بی جے پی نے وزارت اعلیٰ کی کرسی پورے چھ سال کیلئے مفتی محمد سعید کو دینے کی حامی بھر لی ہے وہیں نائب وزیراعلیٰ کی کرسی بی جے پی کے پاس رہے گی۔ اس کے علاوہ دونوں جماعتوں نے دفعہ 370 اور فوج کو حاصل خصوصی اختیارات جیسے حساس معاملات کو سرد خانے میں ڈالنے پر اتفاق قائم کرلیا ہے ۔ یاد رہے کہ مفتی سعید نے 24 جنوری کو کہا تھا کہ اُن کی جماعت وزارت اعلیٰ کے عہدے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کی جانب سے جو کم از کم مشترکہ پروگرام سامنے لایا جائے گا اُس میں زیادہ تر ترقیاتی امور ہی شامل ہوں گے ۔انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کی مرکزی لیڈر شپ جموں وکشمیر میں حکومت سازی پر ہورہی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں اور جموں وکشمیر میں بی جے پی حکومت دیکھنے کی متمنی ہیں۔ذرائع پر اعتبار کیا جائے تو دونوں جماعتوں نے اُن حساس معاملات پر اتفاق قائم کرلیا ہے جو حکومت سازی میں رکاوٹ کا سبب بن سکتے تھے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ حکومت سازی کیلئے حتمی اعلان کیلئے دہلی کے انتخابات ختم ہونے کا انتظار کیا جارہا ہے ۔ دونوں جماعتوں نے حال ہی میں ایک معاہدہ کیا جس کے تحت دونوں جماعتیں 7 فروری کو ریاست کی چار راجیہ سبھا نشستوں کیلئے ہونے والے انتخابات میں ایک دوسرے امیدواروں کے حق میں ووٹوں کا استعمال کریں گی۔راجیہ سبھا کی چار نشستوں کیلئے بی جے پی نے جموں سے دو جبکہ پی ڈی پی نے کشمیر سے دو امیدواروں میں میدان میں اتارا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں رخصت ہونے والے سال کے نومبر اور دسمبر میں اسمبلی انتخابات منعقد کئے گئے جس میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملی اور ریاست میں معلق اسمبلی وجود میں آگئی۔ ریاست جموں وکشمیر میں حکومت بنانے کیلئے کسی بھی جماعت کو 87 میں سے 44 سیٹیں درکار تھیں ۔ انتخابی نتائج کے اعتبار سے پی ڈی پی 28 سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی، بی جے پی 25 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی جبکہ سابقہ مخلوط حکومت میں شامل نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو بالترتیب 15 اور 13 سیٹیں ملیں۔ اگرچہ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد نیشنل کانفرنس ، کانگریس، سی پی آئی (ایم)، پی ڈی ایف اور ایک آزاد ممبر اسمبلی انجینئر شیخ عبدالرشید نے پی ڈی پی کو ریاست میں حکومت تشکیل دینے کیلئے غیر مشروط حمایت دینے کی پیشکش کردی تھی تاہم پی ڈی پی نے نیشنل کانفرنس کی پیشکش کو ٹھکرادیا جبکہ دیگر پارٹیوں کی حمایت سے متعلق پیشکشوں پر رائے زنی کے بجائے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment